عطاء الحق قاسمی،ڈاکٹر رفیق اختر اور واصف علی واصف
12 اکتوبر 2019 2019-10-12

جناب شاکر شجاع آبادی کو...

میں جب عہد دوراں کا صوفی شاعر کہتا ہوں تو اِس کے پیچھے اُن کی وُسعت خیالی ہوتی ہے ۔وہ دنیا،قرآن،مخلوق ،پروردگار اور دکھ درد کی بات کرتا ہے تو سوچنے والے سوچتے ہیں داد دینے والے داد دیتے ہیں اور ڈر جانے والے دُبک کے بیٹھ جاتے ہیں... کلام میں گہرائی ... کیا کہنے...

تو ڈیوا بال کے رکھ چا... ہوا جانے خدا جانے

پھر اِک قطعہ ملاحظہ ہو...

نصیب اپنا نہ ڈینہ ڈکھا وے

جو وقت شاکر چامونھ وٹاوے

شیطان کولوں میں آپ بچ ساں

منافقاں تو خدا بچاوے

اِک مشہور ... نظم ’’ میکو قبرستان دا دُکھ‘‘... اِس نظم میں پاکستان کے غریب عوام کے دُکھوں کی شاکر شجاء آبادی نے کمال محبت سے ترجمانی کی ہے اور اپنے انداز میں جزباتی کلام پیش کیا ہے۔جس میں وہ کہتا ہے کہ ہم نے نفرت کا وہ بیج بو دیا ہے کہ یہ قبرستان بنتا جا رہا ہے۔

ہماری پرورش شہر لاہور میں ہوئی جہاں مذہبی تعصبات سے پہلے ہم سب بزرگوں کے مزاروں پر بھی جاتے تھے۔پوری عقیدت و محبت کے ساتھ محر م الحرام کے مہینے میں سُنی شیعہ اِک ساتھ شہادت امام حسین ؐ پر مجالس کا انتطام کرتے اور عجب یکجہتی کا منظر پیش ہوتا۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے حضرت داتا گنج بخش کے مزار پر ایسا ایسا پرسکون وقت گزارا . ... جو پر سکون ساعتیں وہاں میسر ہوئیں اُن کے کیا کہنے...

اِک تقریب میں بہت عرصہ پہلے واصف علی واصف سے ملاقات ہوئی ... انگلش پڑھاتے ہوئے اور نہایت معتبر مدّلل اور Soft انداز تھا ان کا۔نوائے وقت میں کبھی کبھی کالم لکھتے تھے... میری جب بھی ملاقات ہوئی ... ’’ تو نہیں آیا ناں‘‘...؟!! محبت سے تھوڑا مسکرا کر کہتے ..کبھی قہقہہ لگاتے نہیں دیکھا۔میں ادب سے پاس بیٹھ جاتا میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتے... لکھا کر ... یہ فنکاری ہے تیرے پاس لیکن سنا بھی کر . .. میں کہاں اُس دور میں سمجھ پاتا یہ اللہ والوں کی باتیں۔اِک دفعہ میں اِک تقریب میں شرکت کے لیئے ہال میں داخل ہوا تو نظر پڑ گئی ... مسکرا دیئے کوئی صاحب ساتھ بیٹھے تھے اُن کو اٹھا کر مجھے بیٹھا لیا... ساتھ وہی محبت والا گلاِ... ’’ تو نہیں آیا ناں ‘‘؟ انگلش میں بھی لکھا کر۔

’’ بابا جی . .. یہ جو چند سطریں کھینچ لیتا ہوں یہ مجید نظامی صاحب کا خوف ہے یا عادت سی ہے ورنہ دنیا کے جھمیلے...؟؟!!پھر مسکرا دیئے ... ’’ سرکار ... اپنے آرٹیکل کے آخر میں اپنا فون نمبر لکھ دیا کریں... ؟!!

’’ تیرے ’’ نوائے وقت ‘‘ کی شاید پالیسی نہیں ہے۔‘‘حیرت سے مجھے دیکھتے ہوئے بولے...

’’ سرکار پالیسی چھو ڑیں... میں مجید نظامی صاحب سے دست بستہ عرض کروں گا ... میں چاہتا ہوں لوگ آپ سے رابطہ میں آ ئیں... بہت سے لوگ آپ سے اور نامور مفکر فاروقی صاحب سے ملنے کے خواہش مند ہیں۔میں نے چند دن بعد جب حاضری کے لیئے نظامی صاحب کے پاس گیا... تو پھر وہی بات بولے ’’ حافظ... اِس ( اِک خاص عزیز کا نام لے کر بولے) کا خیال رکھا کر اِس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی پڑے گی.. ؟

’’ سر . ..آپ کے عزیز ہیں . .میری کیا مجال ... ’’ میںنے جواب دیا تو پھر بولے ... گزرتے ہوئے آجایا کر.. تیرے پاس خبریں ہوتیں ہیں‘‘... ؟؟

میں ہنس دیا ...

’’ بابا جی . .. وہ واصف علی واصف کی پبلک میں کافی ڈیمانڈ ہے آپ ان کے علمی مضامین Editional صفحہ پر محبت سے لگاتے ہیں... ساتھ اگر اُن کو فون نمبر بھی چھپ جایا کرے تو . .. جو لوگ رابطہ چاہتے ہیںوہ ان سے رابطہ کریں... ’’ نوائے وقت‘‘ اِک ذریعہ ہے عوام تک یہ علمی معاملات پہنچانے کا ...

’’ واصف صاحب سے کہہ دو ... چھپ جایا کرے گا فون نمبر ‘‘

آئستہ سے بولے...

اِک دن واصف صاحب ملے ... تو دور سے بولے ... ’’ تیری سازش کامیاب ہو گئی... ‘‘؟؟

’’ جی جی ... میں نے دیکھ لیا ... آپ کا فون نمبر آپ کے آرٹیکل کے ساتھ چھپا ہے۔

بہت سے لوگ رابطے میں آگئے ... مسکراتے ہوئے کہا ۔

پچھلے جمعہ کو عطاء الحق قاسمی صاحب کا فون آیا...

’’ مظفر صاحب ... سات بجے میرے گھر کھانا ... سات کا مطلب 7 ہی ہونا چاہیئے‘‘

جی حاضری ہوگی سرکار ؟!!میں نے جواب دیا اور پھر بولے عزیر احمد کو بھی ساتھ لیتے آنا ... اُس نے کوئی مزاحیہ شاعری کی ہے ۔عزیر احمد کی شاعری ملاحظہ ہو...

تیری باتوں میں چکنائی بہت ہے

کہ کم ہے دودھ بالائی بہت ہے

پولیس کیوں آپ منگوانے لگے ہیں

ہمیں تو آپ کا بھائی بہت ہے

محبت کیوں محّلے بھر سے کر لیں

ہمیں تو بس ایک ہمسائی بہت ہے

نشہ ٹوٹا نہیں ہے مار کھا کر

کہ ہم نے پی ہے کم کھائی بہت ہے

اسی خاطر ہے چھوٹی ناک اپنی

کہ ہم نے ناک کٹوائی بہت ہے

میں ان میں جھانکنے سے ڈر رہا ہوں

تیری آنکھوں میں گہرائی بہت ہے

نہ پھینکو بجلیوں پر بجلیاں تم

کہ ہم کو ایک انگڑائی بہت ہے

قاسمی صاحب کے ہاں ایسی محفلوں میں سب سے زیادہ لطیفے وہ خود سناتے ہیں گلِ نوخیزاختر ... فرخ شہباز وڑائچ ... وجاہت صاحب بھی لقمہ دیتے ہیں اور محفل کی رونق دو بالا ہو جاتی ہے ۔

اِس محفل میں ... یاسر پیر زادہ نے بھی کمال گفتگو کی . .. اُن کے اندر بھی اِک مزاح نگار موجود ہے میں نے بھانپ لیا ہے اور یہ میرے لیئے خوشی کی بات ہے۔لیکن کبھی کبھی اُن کا لطیفہ غصے میں جاری ہوتا ہے ... لطیفہ بازی کے درمیان اچانک دو نئے چہروں نے ڈاکٹر محمد رفیق اختر کے بارے میں گفگتو چھیڑ دی . .. اُن میں سے اِک صاحب کا خیال تھا کہ شاید یہ محفل صرف لطیفہ بازوں کی ہے ... حالانکہ یہ محفل تو بنیادی طور پر عالم فاضل لوگوں کی ہے .. اُن کو لگا جیسے یہاں واصف علی واصف ، ڈاکٹر محمد رفیق اختر کو جاننے والے بہت کم ہیں.. .؟؟!

پھر جو مائیک... جناب عطاء الحق قاسمی صاحب کے ہاتھ میں آیا تو کہاں وہ چٹکلے ... کہاں گئے لطیفے ماحول سنجیدہ ... یہاں تک کہ میں نے گلِ نوخیزاختر کو گھبراہٹ کا شکار دیکھا تو ضیاء الحق نقشبندی نے بتایا کہ گلِ نوخیز اختر جب سنجیدہ ہو تو اُس پر گھبراہٹ طاری ہو جاتی ہے اور اُسے دوبارہ... Active کرنے کے لیئے گد گدی کا سہارا لینا پڑتا ہے ... یا کسی بے ہودہ جگت باز کی حاضری کروانا پڑتی ہے۔

عطاء صاحب نے بتایا کہ آخری ملازمت ڈاکٹرمحمد رفیق اختر نے میرے ساتھ ایم-اے -او کالج لاہور میں کی ۔اِک چھوٹے سے نقطے پر اختلاف ہوا اور انگلش کا یہ عالم فاضل استاداستعفیٰ دے کر چلا گیا۔

میں نے اندازہ لگایا کہ یہ عالم فاضل لوگ چاہے یہ شاکر شجاع آبادی ہو ... استاد دامن ہو، عطاء الحق قاسمی ہو واصف علی واصف ہو یا ڈاکٹر محمد رفیق اختر ہو... یہ من موجی قسم کے لوگ ہوتے ہیںجب رو میں بہہ جائیں محبت کے پھول اِن کے لہجے میں دکھائی دیتے ہیں علم بکھیرتے ہیں تو ماحول سنجیدہ کر ڈالتے ہیں۔عوام ایسے علم والوں کے اُن کی زندگی میں بھی قدر دان ہوتے ہیں اور یہ صدیوں بعد بھی لوگوں کے دلوں میںرہتے ہیں اعصاب پر سوار ہوتے ہیں۔

بادشاہا... تیرے اعصاب پے طاری میں تھی

وہ بھی دن تھے کہ تیری راج کماری میں تھی

ساری دنیا کو پتہ ہے کہ نہیں تم میرے

ساری دنیا کو پتہ ہے کہ تمہاری میں تھی


ای پیپر