پرویز مشرف کیخلاف قتل مقدمہ خارج کرنے کی درخواست ناقابل سماعت
12 اکتوبر 2019 (17:50) 2019-10-12

اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف عبدالرشید غازی کے قتل کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ پرویز مشرف مفرور ملزم اور قانونی کی نظر میں بھگوڑے ہیں، رجسٹرڈ سیاسی جماعت کو کسی دوسرے شخص کے خلاف مقدمہ خارج کرانے کا حق دعوی بھی حاصل نہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف لال مسجد آپریشن کے دوران مارے گئے عبدالرشید غازی کے قتل کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ دو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پٹیشنر رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہونے کے باوجود متاثرہ فریق اور حق دعوی حاصل ہونے پر عدالت کو مطمئن نہ کر سکا۔ پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ میں کوئی سیاسی جماعت متاثرہ فریق کیسے ہو سکتی ہے؟

عدالت کو مطمئن نہیں کیا جا سکا کہ رجسٹرڈ سیاسی جماعت کسی دوسرے شخص کے خلاف مقدمہ خارج کرانے کا حق رکھتی ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ پرویز مشرف مفرور ملزم ہیں۔ پاکستان سوشل جسٹس پارٹی کی جانب سے پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔


ای پیپر