قیمتی لوگ!
12 اکتوبر 2019 2019-10-12

پچھلے کالم میں اصل بات بیچ میں ہی رہ گئی۔ کالم انسانوں سے جانوروں کی طرف نکل گیا، میں لالے عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کی شخصیت کے اُس چھپے ہوئے پہلو سے آپ کو آگاہ کررہا تھا کہ انسانیت کی خدمت کے لیے اُن کے جذبے کتنے قابل قدر ہیں، مرحوم دلدار پرویز بھٹی کی وفات کے بعد اُن کی بیگم عقیدہ بھابی کی مالی امداد کے لیے لالے نے مجھ سے مشورہ کیا، اُس کے بعد ہم نے دلدار شوکے نام سے الحمراہال ون میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا جس میں عابدہ پروین، نصرت فتح علی خان سمیت ملک کے تمام بڑے گلوکار نہ صرف شریک ہوئے فن کا مظاہرہ بھی کیا، کسی نے ایک پائی وصول نہیں کی، اس تقریب میں موجودہ وزیراعظم عمران خان بھی باقاعدہ ٹکٹ لے کر شریک ہوئے، مجھے یقین ہے یہ ٹکٹ اُس وقت (1994)میں انہوں نے ذاتی جیب سے خریدا ہوگا کیونکہ اُن دنوں علیم خان کے ساتھ اُن کا کوئی رابطہ یا واسطہ نہیں تھا، ہم نے کوشش کی وہ ٹکٹ نہ خریدیں، مگر ٹکٹ چونکہ زیادہ مہنگی نہیں تھی تو انہوں نے بھی کوشش کی دیگر مہمانوں کی طرح وہ بھی ٹکٹ خرید کر اس شومیں شامل ہوں، ممکن ہے چند سوروپے کا ٹکٹ خرید کر وہ اپنی اس مبینہ شرمندگی کاکچھ ازالہ کرنا چاہتے ہوں کہ دلدار پرویز بھٹی شوکت خانم ہسپتال کی جس تقریب میں برین ہمبرج کے بعد موت کے منہ میں گیا وہاں عمران خان بھی موجود تھے، بجائے اس کے وہ دلدار بھٹی کو خود لے کر ہسپتال جاتے چپکے سے وہاں سے فرار ہوگئے، اس عمل پر اُن پر بڑی تنقید ہوئی تھی، ....بعد میں اُنہوں نے مرحوم دلدار پرویز بھٹی کی شوکت خانم ہسپتال کے لیے خدمات کوپیش نظر رکھتے ہوئے ہسپتال کا ایک گوشہ مرحوم کے نام وقف کردیا، ....اب میں اپنے دوسرے لالے کی طرف آتا ہوں جنہیں لوگ ڈاکٹر محمد اجمل نیازی کے نام سے جانتے ہیں، ویسے تو جتنا پرانا میرا اُن سے تعلق ہے، اور جتنے اُن کے مجھ پر احسانات ہیں، اورمختلف معاملات زندگی میں جتنی انہوں نے میری رہنمائی فرمائی ہے اُس کا تقاضا دوچار کالموں سے پورا نہیں ہوسکتا، اس کے لیے ان پرمیں دو چار کتابیں بھی لکھ دوں اُن کی محبت اور سرپرستی کا حق ادا نہیں ہوگا، وہ بہت ہی اُجلی شخصیت کے مالک ہیں، ساری زندگی عزت آبرو سے گزاری، قلم فروشی کے زندگی میں کئی آسان مواقع اُنہیں میسر آتے رہے جس کے مقابلے میں جیت ہمیشہ ضمیر کی ہوتی رہی، چودھری پرویز الٰہی جب وزیراعلیٰ پنجاب تھے اُنہوں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا ”اب ساری عمر آپ نے پڑھاتے ہی رہنا ہے، میں آپ کو کسی علمی، ادبی ادارے کا سربراہ بنانا چاہتا ہوں جہاں آپ کی تنخواہ اور مراعات آپ کی سوچ سے بھی زیادہ ہوں گی ،.... اُنہوں نے شکریے کے ساتھ اس پیشکش کو قبول کرنے سے معذرت کرلی اور بطور اُستاد ہی گورنمنٹ کالج ٹاﺅن شپ لاہور سے ریٹائرڈ ہوئے، میرا اُن کے ساتھ رشتہ گورنمنٹ کالج لاہور میں قائم ہوا تھا، تب وہ وہاں شعبہ اردو سے وابستہ تھے، گورنمنٹ کالج لاہور میں اُن کا ہونا خود گورنمنٹ کالج لاہور کے لیے ایک اعزاز تھا، مگر اُس وقت کے پرنسپل ڈاکٹر خالد آفتاب نے زیادتی یہ کی مختلف ناجائز جواز تراش کر گورنمنٹ کالج لاہور سے ان کا تبادلہ کروادیا۔ ان میںایک بڑا جواز یقیناً یہ بھی ہوگا اجمل نیازی اپنے پرنسپل ڈاکٹر خالد آفتاب کی صرف عزت کرتے تھے جبکہ پرنسپل کی خواہش تھی وہ ساتھ خوشامد بھی کریں، اس ”فن“ سے اجمل نیازی بالکل ہی آشنانہ تھے، جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا عزت آبرو کو ہمیشہ اُنہوں نے مقدم رکھا، آج بھی وہ لاہور کے ایک مہنگے ترین ہسپتال جسے اکثر لوگ ”ڈاکوہسپتال“ کہتے ہیں میں زیر علاج ہیں، مجھے خدشہ ہے اُن کے مالی حالات ٹھیک نہیں، کئی ماہ سے جس اخبار میں وہ کالم لکھتے ہیں اُنہیں تنخواہ بھی نہیں ملی، بیگم اجمل نیازی نے کئی باراُس اخبار کی مالکہ بلکہ ملکہ سے گزارش کی اس موقع پر اُنہیں پیسوں کی سخت ضرورت ہے مگر ابھی تک کوئی کوئی اثر نہیں ہوا،.... میں نے اِس بارے رفعت بھابی سے بات کی اُنہوں نے فرمایا ”ڈاکٹر صاحب سے قیمتی کوئی شے نہیں ہے، ہمارے مالی حالات کچھ بھی ہوں ہم اپنا سب کچھ اُن پر نچھاور کرکے اُن کی جان بچانے کی پوری کوشش کریں گے“ .... ہسپتال کے مالکان کو شاید معلوم ہی نہیں ہوگا علمی، ادبی اور صحافتی حوالے سے کتنا قیمتی انسان ان کے ہسپتال میں زیرعلاج ہے، معلوم بھی ہوتا ہم ان سے اِس توقع کا تصور بھی نہیں کرسکتے وہ ملک جہاں سے اُنہیں جائز ناجائز کمائی کے سینکڑوں مواقع روزانہ میسر آتے ہیں اس کے ایک انتہائی قیمتی شخص کا وہ مفت علاج کریں، سمندر سے کوئی دوچار گلاس پانی کے نکال دے سمندر کو کیا فرق پڑتا ہے؟ جہاں اجمل نیازی زیرعلاج ہیں وہ سمندر نہیں ایک ”گندہ نالہ“ ہے جس میں علاج کے بعد کوئی بچ بھی جائے مالی طورپر اُس بے چارے کی کمر ٹوٹ جاتی ہے بدقسمتی یہ ہے ہمارے سرکاری ہسپتالوں پر لوگوں کا تھوڑا بہت اعتماد جو شہباز شریف کے دور حکومت میں بڑی مشکل سے بحال ہوا تھا اب بالکل ہی ختم ہوکر رہ گیا ہے، محکمہ صحت کی تباہی کی مکمل ذمہ دار ڈاکٹریاسمین راشد ہے جو انتہائی ڈھیٹ خاتون اس حوالے سے ہے کہ ایک تو الیکشن ہارنے کے بعد انہیں وزیر صحت کا اہم عہدہ قبول ہی نہیں کرنا چاہیے تھا، جس عورت پر عوام نے اعتماد نہیں کیا وہ کسی محکمے کا اعتماد کیسے بحال کرسکتی تھی ؟، اور اب مسلسل سوا سال سے محکمہ صحت کا بیڑا غرق وہ کرے جارہی ہے، حالانکہ اس کا مزید بیڑا غرق کرنے کی کوئی گنجائش ان ڈی ایم جی افسران نے پہلے ہی نہیں چھوڑی تھی جن سے اپنے محکمے سنبھالے یا سنوارے نہیں جاتے اور پولیس کے چھابے میں ہاتھ پاﺅں مارنے کی ہرممکن کوشش ان دنوں وہ کرتے چلے جارہے ہیں، ہم لالے اجمل نیازی کی صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں، وہ اتنے عظیم انسان ہیں ایک سال قبل وہ شدید بیمار تھے، بلکہ وہیل چیئرپر تھے، جناح ہسپتال لاہور کے آئی سی یو سے نکل کر میری بیٹی کی شادی میں شریک ہوئے، وہ صرف میرے ہی نہیں خود سے محبت کرنے والے ہر شخص چاہے وہ کسی بھی لحاظ سے کتنی ہی کمزور پوزیشن کا مالک کیوں نہ ہو، کے دُکھ سُکھ میں شریک ہوتے ہیں، ایسے انمول ہیرے ہمارے ہاں اب کتنے رہ گئے ہیں ؟۔ وہ کئی خوبصورت کتابوں کے مصنف ہیں، حکومت نے اُنہیں ”پرائیڈآف پرفارمنس “ بھی دیا ہوا ہے، ....اب ہمارے ”پرائیڈ آف پرفارمنس“ ٹائپ ”ایوارڈز یافتگان“ بدحالی کی جو زندگی بسرکرتے ہیں اسے پیش نظر رکھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے حکومت نے جس شخصیت کو اس کے حق کے مطابق عزت نہیں دینی ہوتی اسے پرائیڈآف پرفارمنس ٹائپ کوئی ایوارڈ دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے ! ۔


ای پیپر