وزیر مملکت شہر یار خان آفریدی اور وزیر اعظم عمران خان آمنے سامنے
12 اکتوبر 2018 (23:15) 2018-10-12

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر ایف آئی اے نے وزیر مملکت برائے داخلہ کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا۔ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سے تین گھنٹے تفتیش کے بعد ایف آئی اے نے جانے کی اجازت دے دی۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ حقائق منظر عام پر لا ئے جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے۔شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر میں کرپشن میں ملوث پایا گیا مجھے سزا دی جائے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی کا وزیراعظم کو دوٹوک جواب۔ذرائع کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی کے خلاف لگنے والے الزامات کا سختی سے نوٹس لیا۔ جس کے بعد عمران خان کی جانب سے وزیر مملکت برائے داخلہ سے جواب طلبی کی گئی۔جس پر شہریار خان آفریدی نے شفاف تحقیقات کروانے اور اصل کرداروں کو سامنے لانے کی استدعا کی۔جس کے بعد ڈی جی ایف آئی اے کو شفاف تحقیقات کا حکم دیا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر ڈاریکٹر جنرل ایف آئی اے بشیر میمن کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم نے کام شروع کر دیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے افسران کو شامل تفتیش کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ  کو ایف آئی اے ہیڈکوارٹر طلب کیا گیا۔ایف آئی اے حکام نے ڈی سی اسلام آبادسے تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔

ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی کے خلاف محاز آرائی کی سیاست میں حساس اداروں کے افسران بھی ملوث ہیں۔تحصیل داروں کے تبادلوں کے نام پر شہریار خان آفریدی کے احکامات کو بنیاد بنا کر انتظامیہ کے افسران نے رنجش نکالنے کی کوشش کی۔واضع رہے وزیر مملکت برائے داخلہ کے حکم پر انتظامیہ کے کئی کرپٹ افسران کی لسٹیں مرتب کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے بااثر قبضہ مافیا بیوروکریسی کی مخصوص لابی اور انتظامیہ کی چند کالی بھیڑوں کے ذریعے وزیر مملکت برائے داخلہ کو نشانہ بنا کر خاموش کروانے کی خواہش مند ہیں۔گزشتہ ماہ ایسے ہی عناصر کی جانب سے مقامی ہوٹل میں تقریب کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ کو مخالف سمت سے کھینچنے کا واقعہ بھی رپورٹ ہو چکا ہے۔جس کے بعد وزیر مملکت برائے داخلہ ہیر لائن فریکچر میں مبتلا ہو گئے تھے اور ان کی سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی۔


ای پیپر