جس نظام کا ڈھانچہ جھوٹ اور بد دیانتی پر مبنی ہو وہ کیسے ڈیلیور کرے گا‘چیف جسٹس
12 اکتوبر 2018 (18:37) 2018-10-12

لاہور :چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں جھوٹ سرایت کرچکا ہے ‘جس نظام کا ڈھانچہ جھوٹ اور بد دیانتی پر مبنی ہو وہ کیسے ڈیلیور کرے گا‘بڑے بدنصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے پاس اپنا ملک یا قوم نہیں ہوتی، پاکستان بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا یہ ہمیں تحفے یا خیرات میں نہیں ملا.

اس ملک کے حصول کے پیچھے تحریک ہے جس میں بڑی قربانیاں شامل ہیں ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہے کہ کیا ہم اس ملک کی قدر کررہے ہیں؟ “جب پہلی بار ’بابا رحمتے‘ کا ذکر کیا گیا تو لوگوں نے مذاق اڑایا لیکن دراصل بابا رحمتے کا معاشرے میں کردار ایک منصف کا تھا‘جج کی پوری ذمہ داری انصاف کے مطابق فیصلہ کرنا ہے‘ ریاستی عہدے میں سب سے زیادہ تنخواہیں ججز لے رہے ہیں تو ہمیں گریبان میں جھانکنا ہے کہ کیا آپ اتنے پیسوں کا کام کرکے جاتے ہیں؟ ‘ملک میں شہریوں کو بنیادی حقوق میسر نہیں ‘ آج منشاء بم جیسے لوگ جائیدادوں پر قبضے کر لیتے ہیں اور سمندر پار پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قبضے کیے جارہے ہیں‘تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس مزید نچلی سطح پر جائیں اور ججز مقدمات کی تاریخیں کم کریں‘قوم کو مایوس نہیں کرنا چاہتا آنے والے وقت میں جلد انصاف ملے گا۔

وہ جمعہ کو یہاں لاہور میں تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک خوش نصیب لوگوں کو ملتا ہے ‘بڑے بدنصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے پاس اپنا ملک یا قوم نہیں ہوتی، پاکستان بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا یہ ہمیں تحفے یا خیرات میں نہیں ملا، اس ملک کے حصول کے پیچھے تحریک ہے جس میں بڑی قربانیاں شامل ہیں ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہے کہ کیا ہم اس ملک کی قدر کررہے ہیں؟ یہ ملک ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔میاں ثاقب نثار نے کہا کہ جس نظام کا ڈھانچہ جھوٹ اور بد دیانتی پر مبنی ہو وہ کیسے ڈیلیور کرے گا؟ ہمارے معاشرے میں جھوٹ سرایت کرچکا ہے، جب پہلی بار ’بابا رحمتے‘ کا ذکر کیا گیا تو لوگوں نے مذاق اڑایا لیکن دراصل بابا رحمتے کا معاشرے میں کردار ایک منصف کا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جج کی پوری ذمہ داری انصاف کے مطابق فیصلہ کرنا ہے ریاستی عہدے میں سب سے زیادہ تنخواہیں ججز لے رہے ہیں تو ہمیں گریبان میں جھانکنا ہے کہ کیا آپ اتنے پیسوں کا کام کرکے جاتے ہیں؟ کیا یہ بے انصافی نہیں کہ ججز اتنے دن مقدمات کی شنوائی نہیں کرتے، مقدمات ججز کے پاس التوا میں رہتے ہیں اگر جج اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو تاخیر ہوگی اور لوگوں کا اعتماد اور بھروسا اٹھ جائے گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں شہریوں کو بنیادی حقوق میسر نہیں ، کیا اسپتالوں کی ایمرجنسی میں علاج ومعالجے کے بنیادی حقوق مل رہے ہیں؟ کیا منرل واٹر کے اندر کیلشیئم اور میگنیشئم پوری مقدار میں دیا جارہا ہے؟ آج منشائ بم جیسے لوگ جائیدادوں پر قبضے کر لیتے ہیں اور سمندر پار پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قبضے کیے جارہے ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ریاست کو آگاہ کرنے کے لیے عدالت ایکشن لیتی ہے، عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ بڑھ گیا ہے، ہم نئے سسٹم کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہیں، تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس مزید نچلی سطح پر جائیں اور ججز مقدمات کی تاریخیں کم کریں، اے ڈی آر کے سسٹم کو سلیبس کا حصہ بنایا جائے، میں قوم کو مایوس نہیں کرنا چاہتا آنے والے وقت میں جلد انصاف ملے گا۔


ای پیپر