کر پشن سکینڈل :پنجاب یونیورسٹی کے سابق وی سی کیخلاف اہم پیش رفت
12 اکتوبر 2018 (17:34) 2018-10-12

لاہور: لاہور کی احتساب عدالت نے غیر قانونی بھرتیوں کے الزام میں گرفتار پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران اور پانچ سابق پانچ رجسٹرارز کو 10روزہ جسمانی ریمانڈ پر قومی احتساب بیورو (نیب ) لاہور کے حوالے کر دیا۔

احتساب عدالت کے جج نجم الحسن نے غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔نیب کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران اوریونیورسٹی کے سابق 5رجسٹرارز ڈاکٹر اورنگزیب عالمگیر ، ڈاکٹر لیاقت علی ، ڈاکٹر کامران عابد ،داکٹر راس مسعود اور امین اطہر کو ہتھکڑیاں لگا کر انتہائی سخت سکیورٹی میں عدالت پیش کیا گیا ۔نیب پراسیکیوٹر حافظ اسداللہ نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی اور بتایا کہ مجاہد کامران نے بڑے پیمانے پر یونیورسٹی میں خلاف ضابطہ بھرتیاں کیں اور اپنی اہلیہ شازیہ قریشی کو بھی غیرقانونی طور پر یونیورسٹی لاءکالج کی پرنسپل تعینات کیا۔

انہوں نے بتایا کہ مجاہد کامران نے من پسند طلبہ کو اسکالر شپ دیں اور اپنے 9 سالہ دور میں لاتعداد سیاسی بھرتیاں کیں اور پپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے من پسند کنٹریکٹر کو ٹھیکے دیئے ۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب کا ایگزیکٹو بورڈ مجاہد کامران کے خلاف تحقیقات کی منظوری دے چکاہے۔دوران سماعت عدالت میں موجود وکلاءنے موقف اپنایا کہ ہم میں سے بہت سے وکلاءمجاہد کامران کے شاگرد ہیں، ان کی ہتھکڑی کھولی جائے، جو لوگ پورا ملک لوٹ کر کھا گئے انہیں کوئی پوچھتا تک نہیں۔اس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ ہتھکڑی نیب والوں نے لگائی ہے، عدالت نے نہیں ۔جس پر وکیل لطیف خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ پھر شہباز شریف کو کیوں نہیں لگائی گئی تھی۔ دوران سماعت مجاہد کامران کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل نے کوئی غیر قانونی بھرتی نہیں کی، کنٹریکٹ پر رکھے گئے ملازمین کو اے جی آفس سے تنخواہیں جاری کی جاتیں تھیں اور اس کے لیے باقاعدہ سمری بھجوائی جاتی تھی۔

عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے مجاہد کامران نے کہا کہ تمام عمر ایمانداری سے کام کیا ہے۔جس پر عدالت نے کہا کہ 2013ءسے 2016ءکے درمیان کی بھرتیوں کی بات کریں، اس پرمجاہد کامران نے کہا کہ جو بھرتیاں کیں ان کا معاملہ سینڈیکیٹ میں پیش کیا۔لاہور ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس انوارالحق، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن سمیت متعدد ممبران شامل تھے۔سینڈیکیٹ کے ممبران نے متفقہ طور پر کمیٹی کو اختیار دیا۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کنٹریکٹ پر بھرتی کے لئے قواعد کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے،کیا کنٹریکٹ تعیناتی کے لئے اشتہار دینا ضروری نہیں۔مجاہد کامران نے کہا کہ کمیٹی کو اختیار ملنے کے بعد اس کی ضرورت نہیں تھی۔

اس موقع پر وکیل مجاہد کامران نے کہا کہ یہ ایسا معاملہ ہی نہیں جس میں گرفتاری ضروری ہو، نیب بتائے اس نے مجاہد کامران سے کیا برآمد کیا، جس پر انہیں گرفتار کیا گیا۔مجاہد کامران نے مزید کہا کہ ہمیں جب نیب نے طلب کیا تو ہم پیش ہوئے لیکن کل ہمیں بلا کر گرفتار کرلیا گیا۔دیگر ملزمان کے وکلاءنے کہا کہ کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا، الزامات بے بنیاد ہیں۔بعد ازاں عدالت نے سابق وائس چانسلر جامعہ پنجاب مجاہد کامران سمیت دیگر ملزمان کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا، جسے کچھ دیر بعد سناتے ہوئے عدالت نے ملزمان کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں نیب کے حوالے کردیا۔


ای پیپر