اسرائیل نے مجبور ہو کر مصر کو قبول کیا تھا : مصری صدر
12 اکتوبر 2018 (16:36) 2018-10-12


قاہرہ: مصر کے صدر عبدالفتاح سیسی نے باور کرایا ہے کہ جنگ استنزاف اور اکتوبر 1973 کی جنگ میں ہونے والے اسرائیل کے بھاری نقصانات نے اسے مصر کے ساتھ امن قبول کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

مصری فوج کی جانب سے منعقد کرائے جانے والے ایک علمی سیمینار سے خطاب کے دوران کہی۔ سیسی نے باور کرایا کہ مصری فوج ہر بار مقابلہ ہونے کی صورت میں اسرائیل کے خلاف اپنی کامیابی دہرانے کی قدرت رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل نے مصر کے ساتھ مقابلے کی قیمت ہزاروں افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی صورت میں چکائی۔ آخر کار اس نے تزویراتی فیصلے کے طور پر امن کے آپشن کو قبول کیا تا کہ مصری فوج کے ساتھ مزید کسی مڈبھیڑ اور جانی نقصانات سے بچا جا سکے۔سیسی کے مطابق مصری فوج نے اکتوبر کی جنگ اپنی سرزمین اور اس کے شرف کو واپس لینے کے واسطے لڑی اور اس مقصد کی خاطر مصر نے اپنے بہت سے فرزندوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔

مصری صدر کے مطابق اکتوبر کی جنگ نے اسرائیل کو ہزیمت کی کڑواہٹ کا مزہ چکھا دیا اور وہ مصری سرزمین واپس کرنے پر مجبور ہو گیا۔عبدالفتاح السیسی کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے امن کے لیے کیے گئے فیصلے کے نتیجے میں کوئی نئی جنگ نہیں ہوئی۔ مصری صدر نے زور دیا کہ ریاست کے مفہوم، اس کے تقاضوں اور اس کے عوام اور سرزمین کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر