امریکی پابندیوں پر اثر ایران پر اگلے ماہ ہونے شروع ہو گا
12 اکتوبر 2018 (16:31) 2018-10-12

لندن:چار نومبرکی تاریخ قریب آتے ہی ایران غیرمسبوق تشویش کے مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔ آئندہ ماہ کے اوائل ہی میں امریکا نے ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ امریکا کی ایران پر متوقع پاپندیوں کے نتیجے میں ایران کو غیرملکی کرنسی کی فراہمی، ایرانی تیل کی عالمی منڈی میں خریدو فروخت اور عالمی سطح پر ایرانی تجارت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

برطانوی اخبار نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایران ماضی میں عالمی اقتصادی پابندیوں سے بچنے کے لیے کئی طرح کے حیلے اور حربے استعمال کرتا رہا ہے۔ ایران نے اپنے تیل کی فروخت کے لیے بھی متبادل راستے اختیارکیے مگر اب کی بار امریکا کی طرف سے تہران پر عاید کردہ پابندیاں مزید سخت اور زیادہ تباہ کن ثابت ہوں گی۔اخبار نے ایرانی رجیم کے ایک قریب ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران امریکی پابندیوں کو محدود کرنے کے لیے امریکی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کا خواہاں ہے۔اس مقصد کے لیے تہران نے مختلف حربے استعمال کرنا شروع کیے ہیں۔برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تہران نے حیلہ سازی کے منصوبے شروع کیے ہیں۔ ان میں ایک منصوبہ "ثالث" کی تلاش ہے۔ اس اقدام کے ذریعے امریکا کسی تیسری قوت کو درمیان میں شامل کرکے امریکا کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں میں نرمی کی کوشش کرے گا اور عالمی منڈی میں ایرانی تیل کی فروخت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

ایران یہ چاہتا ہے کہ امریکی پابندیوں کی بنا پر ایرانی حکومت خود عالمی منڈی میں تیل فروخت کرنے بجائے کسی تیسرے ملک یا ممالک سے یہ کام کرائے۔اخباری رپورٹ کے مطابق ایران نے سنہ 2012 میں "اسٹاک ایکسچینج" قائم کی تھی۔ اس کے ذریعے مستقبل یں ایران اپنے اقتصادی منصوبوں کی حیلہ سازی کرنے کی تیاری کررہا ہے۔فائنشنل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران اپنے تاجروں سے بھی رقم بٹورنے کی کوشش کررہا ہے۔ ایرانی کاروباری شخصیت بابک زانجانی سے ایرانی حکومت نے 2 ارب 80 کروڑ ڈالر کی رقم لینے کے لیے مقدمہ چلایا۔ وہ اتنی خطیر رقم حکومت کو نہیں دے سکے جس کے باعث انہیں سزائے موت سنائیی گئی ہے۔


ای پیپر