”مانو کا ہنی مون“
12 اکتوبر 2018 2018-10-12

مانو نازوں سے پلی تھی، بہت لاڈلی تھی اور نخروں والی بھی، کچھ عرصے سے اس نے ضد پکڑ لی تھی کہ وہ ہر قیمت پر عوام خان کی دلہن بنے گی، وہ عوام خان جس کے ساتھ 2013 میں شرافت بی بی کا نکاح ہوا تھا اور گھر اچھا خاصا چل رہا تھا۔ مانو نے ہنگامہ مچا دیا کہ شرافت بی بی کو نئے دور کے تقاضے کہاں آتے ہیں جبکہ وہ عوام خان کے گھر کو جنت بنا سکتی ہے۔ عوام خان کے دل میں شرافت بی بی کے لئے بہت جگہ تھی کہ جب سے وہ بیاہ کے آئی تھی اس نے گھر میں ہر وقت برپا فساد کو ختم کر دیا تھا ورنہ اس سے پہلے ہر روز کسی کا سر پھٹا ہوتااورخون بہا ہوتا تھا۔ شرافت بی بی چار ، پانچ سال کی محنت سے گھر میں روشنیاں بھی بکھیر دی تھیں مگر مانو نے تو شرافت بی بی کے دروازے پر ہی ڈیرے ڈال دئیے تھے، کہتی تھی کہ شرافت بی بی بہت میسنی ہے، یہ گھر کے خرچے سے پیسے چوری کرتی ہے اور باہر لے جا کے چھپا دیتی ہے۔ شرافت بی بی نے بہت صفائیاں دیں اور کہا کہ وہ حاجی صاحب کے پاس بھی صفائی دینے کے لئے تیار ہے، حاجی انصاف دین کو بزرگ کا درجہ حاصل تھا مگر شرافت بی بی کو علم نہ ہو سکا کہ حاجی صاحب بھی پہلوان دادا کی طرح شرافت بی بی سے نفرت کرتے ہوئے مانو کو اپنی لاڈلی بنا چکے تھے۔
پہلوان دادا خاندان بھر میں بہت اہم ہیں، وہ بہادر بھی ہیں اور عقل مند بھی، ان کے پاس بندوق بھی ہے اورایسے معاملات کا تجربہ بھی، ان کا احترام لازمی ہے۔ اب یہ کسی کو علم نہیں کہ مانو، پہلوان داد ا کی پیاری کب بنی۔ کہتے ہیں کہ پہلوان دادا کو شرافت بی بی بہت بری لگتی تھی کیونکہ وہ ان کے ہر کام میں خاموشی کے ساتھ ٹانگ اڑا دیتی تھی ۔اور تو اوراس کی پہلوان دادا کے دشمنوں کے ساتھ بھی اچھی علیک سلیک تھی۔ پہلوان دادا کے دشمن کاشرافت بی بی کے گھر بھی آنا جانا تھا۔مانو نے اس پر بہت شور مچایا اور کہا کہ شرافت بی بی عوام خان کا گھر تباہ کر رہی ہیں ، معاملہ سنگین ہوا توحاجی صاحب کے پاس پہنچ گیا۔ حاجی صاحب نے شرافت بی بی کو بدکردار قرار دیتے ہوئے طلاق کا حکم جاری کر دیا۔ عوام خان کو واضح پیغام مل گیا تھا کہ اب اسے شوخ و شنگ مانو سے بیاہ رچانا پڑے گا جو اس کے گھر کو نیا بنا دے گی ۔ عوام خان کو افسوس تھا کہ شرافت بی بی اس کی شریک حیات نہیں رہی مگرمانو کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی مزے دار خواہش بھی اس کے دل کے ایک کونے میں چٹکیاں لے رہی تھی۔
شرافت بی بی نے بہت شور مچایامگر اس کی کون سنتا تھااور یوں مانو عوام خان کی دلہن بن کے اس کے گھر آ گئی، شرافت بی بی کا کہنا تھا یہ نکاح درست نہیں تھا اور عوام خان پر زبردستی مانو کو لاد دیا گیا تھا مگر حقیقت یہی تھی کہ اب گھر کی مالک مانو تھی۔ مانو نے آتے ہی پوچھا کہ شرافت بی بی روزانہ کتنی روٹیاں کھا جاتی تھی، اس نے گھر میں بھینسیں کیوں رکھی ہوئی تھیں، گھر کے سامان میں اضافی اشیاءکون کو ن سی ہیں۔مانو کو بتایا گیا کہ اس وقت عوام خان بہت پریشان ہے،اصل مسئلہ شرافت بی بی کی روٹیوں کا نہیں بلکہ اس کے کام دھندے کا ہے جو شرافت بی بی کے دور میں اس کے مشوروں اور ہاتھ بٹانے کے باعث بہت بہتر ہو گیا تھامگر اب تیزی سے تباہ ہو رہا تھا ۔مانونے ترنت جواب دیا کہ یہ مشکل اس وجہ سے ہے کہ شرافت بی بی گھر کو تباہ کر گئی ہے۔ مانو یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھی کہ اگر شرافت بی بی نے گھر کو سنوارا ،ہوتا تو اس کے دور میں گھر میں دانے ختم نہیں ہوئے، گھر کے دئیے جلنے لگے، گھر میں ڈیکوریشن اور سہولت کی نئی نئی چیزیں بھی آتی رہیں۔ ابھی ہنی مون ہی تھا کہ اس کے عوام خان سے جھگڑے شروع ہو گئے، مانو عوام خان سے کہہ رہی تھی کہ وہ گھر کو بہتر بنانے کے لئے قربانی دے۔ شرافت بی بی نے محلے کے دکاندار سے دو برس پہلے اُدھار لینا چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ دکاندار بہت خبیث تھا، ادھارسودے کی آڑ میں وہ گھروں کا مالک ہی بن بیٹھتا تھا۔ ما نو بھی اس دکاندار کے سخت خلاف تھی مگر گھر سنبھالتے ہی شائد اس کا دماغ پلٹ گیا تھا کہ اس نے اسی دکاندار سے پھر ادھار سودا لینے کا پروگرام بنا لیا تھا۔
بات یہیں تک رہتی تو خیر تھی مگر مانو کے پہلوان دادا اور حاجی صاحب کے ساتھ ساتھ انکل ایس ایچ او سے بھی اچھے تعلقات تھے۔ مانو کی خواہش تھی کہ شرافت بی بی کو جیل بھیجا جائے اور یوںشرافت بی بی کو جیل یاترا کروا دی گئی تھی مگر مانو کا خیال تھا کہ شرافت بی بی کی بہن بھی بہت ہوشیار اور چالاک ہے دراصل شرافت بی بی نے کوشش کی تھی کہ اپنی طلاق کے بعد اپنی بہن کی شادی عوام خان سے کروا دے کہ اس کی بہن پہلوان دادا کی بہت تابعدار تھی مگر پہلوان دادا کہتے تھے کہ چھوٹی بہن پر اس وقت تک کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے جب تک وہ بڑی بہن کے نام عاق نامے کا اشتہار نہ دے دے۔ مانو نے فیس بک پر تصویر لگائی کہ اس سے ملنے کے لئے انکل ایس ایچ او اس کے گھر آئے ہیں اوراس کے کچھ ہی دنوں کے بعد شرافت بی بی کی چھوٹی بہن کو بھی انکل ایس ایچ او نے بالکل ایسے ہی مقدمے میں میمنے کی طرح دھر لیا جس میں میمنے پر ندی کا پانی گدلا کر نے کا الزام تھا۔ شرافت بی بی سے پوچھا جاتاکہ تم خاموش کیوں ہو تو وہ غالب کا شعر پڑھ دیتی کہ وہ طوفان کا تہیہ کئے ہوئے بیٹھی ہے۔
مانو سے بہتوں نے کہا کہ ابھی اس کا ہنی مون ہے اوریہ چند مہینے زندگی انجوائے کرنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔ اس میں پیار ی پیاری اور میٹھی میٹھی باتیں کی جاتی ہیں، دوسروں کو خوبصورت بن کے دکھایا جاتا ہے، ڈریکولا بن کے نہیں۔ وہ عوام خان کی زندگی میں زہر نہ گھولے بلکہ اسے محبت اور سکون دے کہ عوام خان بہت غصیلا ہے۔ کسی روز گھر میں کھانا نہ پکا یا گیا یا روشنی نہ ہوئی توہ بہت شور مچائے گا مگر مانو نے سرعام کہہ دیا کہ وہ عوام خان کو ریلیف دینے سے پہلے شرافت بی بی اوراس کے حامیوں کے دماغ پہلے ٹھیک کرنا چاہتی ہے اور وہ اسی طرح ہو سکتے ہیں کہ شرافت بی بی کے پچاس رشتے داروں کو لمبا لٹا کے چھتر مارے جائیں۔ مانو کو بتایا گیا کہ ہنی مون میں ہی عوام خان نے شرافت بی بی کو یا د کرنا شروع کر دیا ہے بلکہ اس کے ایک بہت ہی پکے دوست نے تومانو کی ناکامیوں پر شرافت بی بی کے رشتے دار کی ایک ویڈیو بھی چلا دی جس میں گھر کے بگڑتے ہوئے مالی حالات پر اس کے الفاظ کو جوڑا گیا، ’ کین آئی ہیلپ یُو‘، یہ ایک بڑ ا طعنہ ہے۔
مانو کہتی ہے کہ ہنی مون میں اسے کچھ نہ کہا جائے، وہ گھر کو جنت بنا دے گی مگر اس کے لئے اسے وقت درکار ہو گا۔ اب مانو کو کون بتائے کہ نئی نویلی دلہنیں اس طرح نہیں کیا کرتیں جس طرح وہ دوسروں کواپنے تیز ناخنوں سے نوچ رہی ہے۔ کوئی دلہن اپنے ہنی مون پیریڈ میں ہی شوہر سمیت گھربھر کی ناپسندیدہ نہیں بنتی، کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ شوہر دُکھی ہو کے ہنی مون میں ہی اپنی پرانی بیوی کو یاد کرتے ہوئے آہیں بھرنا شروع کر دے اور دلہن کے رشتے دار بھی طعنے مارنے لگیں مگر مانو نہیں مانتی، وہ کہتی ہے کہ پہلوان خان، حاجی صاحب اور انکل ایس ایچ او کے ہوتے ہوئے کوئی اس کی طرف آنکھ اٹھا کے بھی نہیں دیکھ سکتا، حتی کہ عوام خان بھی نہیں کہ وہ کون سا عوام خان کی مرضی سے آباد ہوئی ہے، اس کے سائیں تگڑے ہیں اور وہ اسے آباد رکھنا جانتے ہیں۔عوام خان کا مانو کے ساتھ ہنی مون پیریڈایک لوسٹوری ہونا چاہئے تھا مگر یہ اچھی خاصی ایکشن مووی بن گیا ہے اور بڑی حد تک ہارر بھی۔


ای پیپر