کلدیپ نیر سے نائر اور.... چوں چالاکی تک
12 اکتوبر 2018 2018-10-12

نیا پاکستان ابھی صرف دوماہ کا ہے، دوماہ کا بچہ صرف اپنی ماں کو پہچانتا ہے، اور اگر وہ ڈبے کا دودھ پیتا ہو، تو شاید پھر اتنا نہیں پہچانتا ہوگا، باپ کو تو بالکل نہیں پہچانتا ، مگر آج کل کے جوحالات ہیں، شاید ماں سے زیادہ باپ کو پہچانتا ہو ہاں، مگر ایک بات ضرور ہے، کہ وہ آنکھیں مکمل کھول سکتا ہے، مگر بول نہیں سکتا مگر حیرت ہے، وہ بار بار گنگناتا ہے، کہ
میں چھوٹا سا اک بچہ ہوں
مگر کام کروں گا بڑے بڑے
مگر کیا کیجئے کہ نیا اور پرانا پاکستان، پنڈی اور اسلام آباد، الجبرااور جیومیٹری ، فوج اور باقی اداروں کے چیف ، پاکستان کو ”ری کنڈیشنڈ“ جاپان یا چین سے کرانے کی بجائے خود ہی کرنے کے لیے تیار ہوگئے، مگر اس کے لیے شہباز شریف کے علاوہ مشاہد اللہ ، سعدرفیق، رانا ثناءاللہ، جن کے بارے میں انتخابی نعروں میں عمران خان کہتے تھے کہ میں اسے مونچھوں سے گھسیٹوں گا، احتساب تو حکمران جماعت سمیت سب جماعتوں کا ہونا چاہیے اس کے علاوہ آصف علی زرداری، خورشید شاہ، پیر پگاڑہ، مولانا فضل الرحمن ، حمزہ شہباز، سلمان شہباز، مریم نواز، اب ان کے ساتھ انصاف اوپر والا کرے گا؟ اوپر والے کا تو یہ فرمان ہے کہ انصاف کرتے وقت ، اور گواہی دیتے وقت یہ نہیں دیکھنا چاہیے، کہ اگر گواہی اپنے والد کے بھی خلاف ہو، تو ضرور دینی چاہیے۔ حضرت ابن عطارؒ نے انصاف کے بارے میں خوبصورت تشریح کی ہے، وہ بتاتے ہیں کہ خدا اور بندے کے درمیان انصاف کی تین منزلیں ہیں۔
۱۔استعانت ۲۔جہد ۳۔ادب
بندہ مدد چاہے اور خدا توفیق بخشے، بندہ کوشش کرے، اور خداانعام عطا فرمائے، لیکن سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ادب بہرحال ہرصورت میں بجالائے، کیونکہ جوادب سے محروم کیا گیا، اس کی سب نیکیاں ضائع ہوگئیں۔
موجودہ حکومت کے ترجمان کی زبان اور انداز سے سیاستدان ہی نہیں، عوام تلملا اٹھے ہیں۔ کیونکہ اپنا مدعا اور مفہوم اور سخت سے سخت بات کو انتہائی نرم لہجے سے عوام تک آسانی سے پہنچایا جاسکتا ہے، مگرہمارے تو وزیراعظم نے بھی اس بات کا ادراک نہیں کیا کہ اتنی دبنگ زبان اور آواز سے کہا کہ میں بدعنوان عناصر کو نہیں چھوڑوں گا، مگر کیا انہیں یہ نہیں پتہ کہ ہمارے نہیں پاکستان میں بھی جعلی وکیل موجود ہیں جو ملک کی سب سے اعلیٰ ترین عدالت میں بھی پیش ہوتے ہیں، لیکن کوئی منصف اپنے آئین اور حلف سے انحراف یا تجاوز کرتے، یا فرق روارکھتے ہیں، تو پھرتبصرے اور تبرے گاﺅں قصبوں اور شہروں کے چوکوں اور چوباروں میں زیربحث ہونے لگتے ہیں ۔پاکستان کے سب سے اہم صوبے کے وزیراعلیٰ کے بارے میں صبح سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے فیصلہ سنوانا تھا اور شام کو ملک کا وزیراعظم ،وزیراعلیٰ کے حق اور تعریف میں قلابے ملانے کے بعد چیف جسٹس کو یہ پیغام دے رہا تھا کہ میں وزیراعلیٰ کے ساتھ ہوں، جب تک تحریک انصاف کی حکومت قائم رہے گی ، وزیراعلیٰ کو کوئی نہیں ہٹاسکتا، اور ہم ابھی اور لوگوں کو بھی پکڑیں گے، آپ احتجاج کریں، دھرنے دیں، میں یہ کام کرکے رہوں گا۔
اور دوسرے دن ایوان میں ایک جماعت کے رہنما نے کہا، کہ ہمارا وزیراعظم غنڈہ ہے؟ سپیکر نے اس پر اعتراض کیا، تو پھر اس نے کہا کہ کیا وزیراعظم بدمعاش ہے؟ اس پر پھر سپیکر نے اعتراض کیا ، تو مقرر بولا ،توپھروہ دہشت گرد ہے، تحریک انصاف کا انتخابی نعرہ تھا کہ میں خودکشی کرلوں گا، مگر سابق حکومتوں کی طرح بے غیرتی نہیں دکھاﺅں گا، اور آئی ایم ایف کے پاس کاسہ¿ گدائی اور کشکول لے کر نہیں جاﺅں گا، تحریک انصاف کو سب سے پہلے اپنے ملک کے بینکوں سے قرضہ لینا چاہیے تھا، سنا ہے، وہ پاکستان کے بینکوں سے قرضہ لے چکے ہیں مگر اب انہوں نے مزید قرضہ دینے سے انکار کردیا ہے، اس کا بھی حل موجود تھا، اس کے علاوہ چین کے بینکوں سے قرضہ لیا جاسکتا تھا، درمیان میں اگر ن لیگ کے کسی اکابر کو شامل کرلیا جاتا تو اسلامی بینک بھی اس حوالے سے معاونت کرسکتے تھے مگر ان کو مناسب طریقے سے فعال ہی نہیں کیا گیا، وہاں کے سعودی شہزادے کسی بیرونی حسینہ کے زلف کے اسیر ہوکر دنیا کے مہنگے ترین جزیرے خریدسکتے ہیں تو پورے پاکستان کو خریدنے کے لیے نہیں بچانے کے لیے یقیناً مدد پہ آمادہ ہوسکتے تھے پاکستان کے سپہ سالار کافی دیر سے ملکی اقتصادیات، ومعیشت کی زبوں حالی سے پریشان تھے، وہ اقتصادی سیمیناروں میں بذات خود شرکت کرتے رہے ہیں اس ضمن میں ان کا اثرورسوخ اور مددلی جاسکتی تھی ،آٹھ آٹھ گھنٹے کی بریفنگ اور حدود وقیود کو متعین کرنا، تقاضااتفاق نہیں بلکہ منصوبہ فتح یابی انتخاب تھا۔ فرانس اور الجزائر کے مسلمان تاجر دنیا کے سب سے زیادہ امیرترین افراد میں
شمار ہوتے ہیں، ان سے رابطے کی بھی کسی نے کوشش نہیں کی۔ قوم کو اعتماد میں لے کر ان سے مدد کی اپیل کی جاتی کہ وہ قر ض لینے میں مددکریں۔ بیرون ملک تو چھوڑیں، ایک دفعہ بحریہ ٹاﺅن کے ملک ریاض نے کہا تھا کہ میں پاکستان کے قرضے اتار سکتا ہوں، دوسرے دن آصف علی زرداری نے انہیں بلاکر اس سے منع کردیا، آئی ایف ایم سے قرض لینا، وزیراعظم کا اپنا اقتدار اور اختیار ان کو سونپ دینے کے مترادف ہے، قیمتوں کا تعین کرنا، اور ہرچیز کے اہداف مقرر کرنا جب ان کے ہاتھ میں سے چلا جائے گا تو پھر وزیراعظم کے پاس کس چیز کا اختیار رہ جائے گا ؟ پاکستان کی آبادی کی اکثریت، غریب، اور نادار لوگوں پہ مشتمل ہے جورکشے کا چالان ہونے پہ خودکشی پہ آمادہ ہوجاتے ہیں، عید پہ بچوں کو نئے نئے جوتے خریدنے کی ضد پہ قتل کردیتے ہیں، مہنگائی غریب تو غریب امیروں کے لیے بھی ناقابل قبول ہوتی ہے قارئین ، آپ کو یادہوگا، کہ ملک میں محض ایک ریڑھی والا بھی انقلاب کا باعث بن جاتا ہے، مراکش میں ایک ریڑھی والے کی وجہ سے یہ واقعہ ظہور پذیر ہوچکا ہے، میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں، کہ ستمبر کے اوائل میں امریکہ کو وزیرخارجہ نے کہا تھا کہ ہم خود دار قوم ہیں، اور اپنی قوم کو ہم خود دال روٹی کھلا سکتے ہیں، معاف کیجئے گا اسے کہتے ہیں پنجابی میں ”پھڑیں “ مارنا ....جب قوم کو دال روٹی کھلانے کا موقعہ آیا توہمارے وزیرخارجہ، وزیراعظم سمیت، پھر ٹرمپ کے دردولت پہ سجدہ کناں ہیں یعنی آئی ایم ایف کی چوکھٹ پہ جس کا آقا ومالک ٹرمپ ہے، جیسے وہ عالمی اداروں کا مالک درپردہ ہے۔
دراصل کسی بات کو کسی بیان کو ادا کرتے وقت کارکردگی اس میں گھن گرج ، کو دھیمے پن اور پرمژدگی میں بدل دینے پر مجبور کردیتی ہے، یقین نہ آئے، تو فواد چودھری اور دیگر وزراءکی باڈی لینگویج دیکھ لیں، آئی جی پنجاب کا تبادلہ، اور ناصر درانی صاحب جیسے نیک نام پولیس افسر کا استعفیٰ، کارکردگی کے کیا کہنے، اگر سعودی عرب سے ادھار تیل مل جاتا، تو پھر آئی ایم ایف سے بچا جاسکتا تھا۔ بات ہے سلیقے کی شائستگی کی، متانت کی بردباری کی تحمل کی عفوودرگزر کی ، صلہ رحمی کی، اگر سلیقہ اتنے عروج پہ ہو تو سخت ترین بات بھی عطاءالرحمن جیسے صحافی خوش اسلوبی سے ادا کرجاتے ہیں کہ عقل داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتی، اور نیب کی ” چوں چالاکی “بھی فاش ہوجاتی ہے۔ واقعی زمانہ بدل گیا ہے، اب کلدیپ بھی نیر سے نائر ہوکر مرا .... اور اس کی خواہش بھی اس کے ساتھ ہی دم توڑ گئی .... تحریک انصاف والے اسی سے سبق لیں، کہ کلدیپ کے ستر سال ضائع ہوگئے .... کیونکہ نام ہمیشہ کام سے زندہ رہتا ہے۔ اقتدار داستان سرائے ہے، جہاں پہلے ن لیگ ، پیپلزپارٹی، ق لیگ، ایوب خان اور اب تحریک انصاف کے بعد کوئی اور ”مسافر“ ہوگا۔


ای پیپر