یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
12 نومبر 2019 2019-11-12

صوبائی دارالحکومت لاہور میں گزشتہ آٹھ روز سے جاری نابینا افراد کے احتجاج نے ایک بار پھر پرتگالی ادیب حوزے سارا ماگو کے مشہور ناول"Blindness" (نابینائی) کی یاد تازہ کر دی ہے ۔ 1995 میں شائع ہونے والے اس شاہکار ناول پر سارا ماگو کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا۔ پاکستان میںاس کا اردو ترجمہ " اندھے لوگ" کے نام سے ہوا۔ یہ کہانی ایک ایسے شہر کی ہے جہاں لوگ اچانک بغیر کسی بیماری کے اندھے ہونے لگتے ہیں یہاں تک کہ اکثریت نابینا ہو کر بھٹکنے لگتی ہے ۔ ناول میں انسانی رویوں کی تلخ سچائیوں کو اندھے پن کی علامت سے اجاگر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ہماری فکر اور شعور جب اس اندھے پن کا شکار ہوتا ہے تو ہم ایک دوسرے سے نظریں چراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کہانی کے آخر میں سب لوگ اس اندھے پن کے عجیب وغریب طرز زندگی کے عادی ہونے لگتے ہیں تو ایک ایک کرکے انکا اندھا پن ختم ہو جاتا ہے اور بینائی لوٹ آتی ہے ۔اس وقت ایک کردار ناول کا مرکزی خیال بیان کرتا ہے کہ ہم اندھے کیوں ہوئے تھے؟ میں نہیں جانتا شاید ایک دن ہمیں معلوم ہو جائے گا۔ " میرا نہیں خیال کہ ہم اندھے ہوئے تھے۔میرا خیال ہے کہ ہم اندھے ہیں، اندھے لیکن دیکھنے والے، اندھے لوگ جو دیکھ سکتے ہیں، لیکن نہیں دیکھتے۔۔۔" اس ناول کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس میں کسی خاص شہر، ملک کے نام یا کردارکا ذکر نہیں کیا گیا۔ لیکن اگر بغور جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس ناول میں شاید ہمارے دیس کے حالات ہی بیان کئے گئے ہیں کیونکہ جیسا رویہ ہمارے حکمرانوں کا اپنی رعایا کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کرنے میں ہے وہ اسی اندھے پن کا شکار لگتا ہے جس کاکہانی میں ذکر کیا گیا ہے ۔ ان دنوں لاہور میں نابینا افراد اپنے آئینی وقانونی حقوق کے لئے ایک بار پھر احتجاجاً سڑکوں پر ہیں۔ آنکھوں کے نور سے محروم اندھیری دنیا کے باسی ان مرد و خواتین کا آٹھ روز سے اہم شاہراہوں پر ہوتا مسلسل احتجاج اور نتیجے میں دادرسی کے بجائے قانون کے رکھوالوںکا تشدد ہمارے ارباب اختیار کی آنکھیں دیکھنے سے قاصر ہیں۔ اس پر رونق شہر کی سڑکوں پر نابینا افراد کا احتجاج نیا نہیں، بلکہ یہ گذشتہ پانچ سال سے جاری ہے ۔ نابینا افراد کا سب سے پہلا احتجاج 2015 میں معذور افرادکے واحد قانون بحالی معذوراں و روزگار ایکٹ 1981 کے تحت ملازمتوں کے کوٹے پر عمل درآمد کے لئے کیا گیا۔ لیکن پانچ سال میں آج تک نہ اس قانون اورنہ ہی اس مطالبے پر مکمل عمل ہو سکا۔ 2015 کے احتجاج کے بعد کچھ پڑھے لکھے نابینا مظاہرین کو ملازمت مل گئی جبکہ باقیوں کو ملازمت اور پھرانھیں مستقل کرنے سمیت دیگر سہولیات دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ 2016 میںوعدہ وفا نہ ہونے پر دوبارہ احتجاج شروع کیا گیا جو کہ چار روز تک جاری رہا۔ اس احتجاج کے دوران مظاہرین اندھے قانون کے رکھوالوں سے بدترین تشددکا نشانہ بھی بنے۔ لیکن آنکھوں والے اندھے ایک بار پھر نابینا مظاہرین کو2017 میں مطالبات پورے کرنے کے جھوٹے وعدے پر ہی ٹرخانے میں کامیاب ہوگئے۔

2017 میں نابینا افراد نے ایک مرتبہ پھر مال روڈ اور کلمہ چوک پراحتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا۔ اس بار احتجاج کے نتیجے میں حکومت نے15اکتوبر 2017ءتک مطالبات پورے کرنے کا وعدہ کیا۔مگر یہ وعدہ بھی دھوکہ نکلا۔15 اکتوبر کے بعد ایک بار پھر نابینا افراد نے احتجاج شروع کیا توحکومت پنجاب کی جانب سے پھر نابینا افراد کو یقین دلایا گیا کہ بہت جلدا±ن کے مطالبات پورے کردیئے جائیں گے۔ اس یقین دہانی پر نابینا افراداحتجاج ختم کرکے منتشر ہوگئے۔ اس کے بعد جولائی 2018 میں نیا پاکستان وجود میں آیا تو بصارت سے محروم ان افراد کو امید ہوئی کہ اب انھیں ان کے حقوق مل جائیں گے لیکن اپریل 2019 میں نئے پاکستان سے مایوس ہو کراندھیری دنیا کے یہ باسی مال روڈ پر دوبارہ احتجاج کے لئے نکلنے پر مجبورہوئے۔ اب کی بار صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے سب کو مستقل کرنے کاوعدہ کیا۔ اب چھ ماہ کے انتظار کے بعد نابینا افراد ایک بار پھر گزشتہ آٹھ روز سے اندھے شہر کی مختلف شاہراہوں پر سراپا احتجاج ہیں اور آنکھوںوالوں کے پاس اتنی فرصت نظر نہیں آتی کہ وہ ان کے دکھوں اور مسائل کامداوا کر سکیں۔ مظاہرین کے مطابق وہ مارچ 2015 سے ڈیلی ویجز پر کام کررہے ہیں۔ نئے پاکستان کی سرکار نے چھ ماہ قبل انھیں مستقل کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ وعدہ اب تک وفا نہ ہوسکا۔ نابینا مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ پنجاب بھر میں موجود 1000ملازمین کو سکیل کے مطابق کنفرم کیا جائے،مطالبہ نہ مانا گیا تو دھرنا جاری رہے گا۔ ان آٹھ روز میں بصارت سے محروم یہ مظلوم مظاہرین ایک بار پھر پولس تشدد کا نشانہ بن چکے ہیں۔ مگر آنکھوںوالے اندھوں کا سامنا بڑے صبر و استقامت کے ساتھ کر رہے ہیں۔ بینائی رکھنے والوں کا بینائی سے محروم طبقے کے ساتھ یہ سلوک اس وقت پوری دنیاکے سامنے ہے اور یہ ہماری مزید بدنامی کا باعث بن رہا ہے کیونکہ پر امن احتجاج کرنے والے نابینا افراد پر پولیس تشدد بنیادی انسانی حقوق اورملکی و بین الاقوامی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ لیکن شاید ارباب اختیار نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنے کے بجائے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نے اندھے پن میں ہی ترقی کرنا تھی۔لہٰذا حکومت کی معلومات کے لئے یہ بتاناضروری ہے کہ ہم اندھے پن میں خاصے خودکفیل ہو چکے ہیں اور ہمارے ہاں ہرقسم کے اندھے پائے جاتے ہیں۔ کوئی آنکھوں والا اندھا ہے ، تو کوئی عقل کااندھا اور معاشرتی طور پر تو ہم ہیں ہی اندھے ۔ کسی تھانے جانا پڑ جائے یاکسی پولیس والے سے پالا پڑ جائے تو وہاں بھی سب اندھے ہی نظر آئیں گے۔کیونکہ پولیس والوں کو عمومی طور پر نہ کسی کی مجبوری نظر آتی ہے اور نہ ہی جرائم پیشہ افراد نظر آتے ہیں بلکہ جرم سرزد ہوتا دیکھ کر وہ نہ صرف خود فوری اندھے ہو جاتے ہیں بلکہ قانون کو بھی اندھا بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح عدالتوں اور کچہریوں میں بھی ہمارا زیادہ تر واسطہ اندھے قانون سے پڑتا ہے ۔ یعنی ہمارا قانون بھی اندھا ہے اور وہ کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کرحرکت میں نہیں آتا جب تک کہ فائل کا پیٹ ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ بھرا نہ جائے۔ الغرض آپ کسی بھی سرکاری ادارے یا دفتر میں چلے جائیں آپ کا ایسے ہی آنکھوں والے اندھوں سے واسطہ پڑے گا۔ عوام بھی اسی طرح اندھی ہے کہ جرم سرزد ہوتا دیکھ کر بھی برملا اپنے اندھے پن کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے کچھ نہیں دیکھا۔ بعض اوقات ضروریات اور خواہشات بھی ہمیں اندھا بنا دیتی ہیں اور ہم اچھے برے کی تمیز بھول کر اس قسم کے

آنکھوں والے اندھے بن جاتے ہیں جسے اپنے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ جب بطورریاست یا معاشرہ ہم دوسروں کو تکلیف یا مصیبت میں دیکھ کر نظر انداز کردیں تو پھر کسی اندھے یا آنکھوں والے میں کیا فرق رہ جاتاہے؟۔ جیسا کہ بقول شاعر

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

(جاری ہے )


ای پیپر