ذراسنبھل کے!
12 نومبر 2019 2019-11-12

میں اُن لوگوں پر حیران ہوتا ہوں جنہیں یہ اعتراض ہے کرتارپورراہداری میں وزیراعظم عمران خان نے سرپر سفید رومال کیوں باندھا تھا ؟ اُن کا یہ اعتراض بھی بالکل ناجائز ہے کہ انہوں نے سکھوں کے ساتھ غیر ضروری محبت کا مظاہرہ کیا، ....ہمارا دین ہمیں غیر مذاہب سے وابستہ لوگوں کے ساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کرنے کا درس دیتا ہے۔ بلکہ اِس پر باقاعدہ زور دیتا ہے۔ غیر مسلموں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آنے کے معاملے میں آپ نے فرمایا ”خبردار اگر کسی شخص نے غیر مذاہب رعیت پر ظلم یا اُس کو اُس کی طاقت سے زیادہ تکلیف دی، یا اُس کی مرضی کے خلاف کوئی شے لی تو میں اُس کی طرف سے قیامت کے روز جھگڑوں گا“ ....اِسی طرح قرآن پاک میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے یہ بنیادی آیت نازل فرمائی ”دین میں کوئی زبردستی نہیں، بے شک ہدایت، گمراہی سے واضح طورپر ممتاز ہوچکی ہے، سو جو کوئی باطل معبدوں کا انکار کردے اور اللہ پر ایمان لے آئے تو اُس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کا ٹوٹنا ناممکن ہے اور اللہ خوب جاننے والا ہے“ ....ایک اور ارشاد باری تعالیٰ ہے ” کہو کہ ہم پر ایمان لائے اور جو کتاب ہم پر نازل ہوئی اور جو صحیفے ابراہیم علیہ السلام ، اور اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام اور یعقوب ؑاور اُن کی اولاد پر اُترے اور جو کتابیں موسیٰؑ اور عیسیٰؑ اور دوسرے انبیائؑ کوپروردگار سے ملیں سب پر ایمان لائے۔ ہم اِن پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اِس (خدائے واحد) کے فرماں بردار ہیں“ .... پھر فرمایا ”یہ لوگ جوکچھ کہتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے اور تم ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو، پس جو ہمارے عذاب کی وعید سے ڈرے اُس کو قرآن سے نصیحت کرتے رہو“.... سو ہمارا دین جب ہمیں غیر مسلموں سے اچھے سلوک کا درس دیتا ہے تو غیرمسلموں سے اچھا سلوک کرنے والوں کو غیر ضروری طورپر تنقید کا نشانہ بنانا ہرگز درست نہیں۔ کم ازکم مجھے تو اچھا لگ رہا تھا ہمارے وزیراعظم عمران خان نے بابا گورونانک یا سکھوں کے مذہب کے احترام میں سرپر رومال رکھا ہوا تھا، وہ اس موقع پر سکھوں کی محبت میں اپنے سرپرسکھوں کی مخصوص پگڑی بھی باندھ لیتے ہمیں اس پر بھی کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ البتہ ایک بات اُنہیں ضرور یادرکھنی چاہیے اپنے دین کے مطابق غیر مذاہب کے لوگوں سے اچھا سلوک ضرور کرنا چاہیے مگر کسی غیر مذہب سے وابستہ لوگوں کے مخصوص پس منظر میں ان پر اندھا اعتماد یا غیر ضروری اعتماد کرنے سے ہرممکن حدتک گزیز کرنا چاہیے۔ وزیراعظم عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے سکھوں نے مسلمانوں کی پیٹھ میں چُھرا گھونپا ہوا ہے۔ قیام پاکستان کے موقع پر اُن کا رویہ اور کردار ہرگز قابل تحسین نہیں تھا، اُن کی فطرت میں وفا نہیں ہے، یہ درست ہے کہ اُن کا ”مکہ اور مدینہ“ پاکستان میں ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں اس بنیاد پر وہ ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان کے ساتھ مخلص ہوں، اُن کی کچھ فطری مجبوریاں ہیں، انفرادی سطح پر ممکن ہے چند سکھ پاکستان کے مفادات کو ترجیح دیتے ہوں، اجتماعی طورپر مگر ایسا ممکن نہیں انڈیا اور پاکستان کے مفادات کے ٹکراﺅ میں سکھ برادری اجتماعی طورپر کھل کر پاکستان کا ساتھ صرف اس بنیاد پر دے کہ اُن کا ”مکہ اور مدینہ“ پاکستان میں ہے یا اس حوالے سے پاکستان نے اُن کے لیے کچھ آسانیاں پیدا کی ہیں۔ اجتماعی طورپر وہ یہ بھی تسلیم نہیں کریں گے کرتارپور راہداری کھولنے کے لیے وزیراعظم عمران خان یا افواج پاکستان نے غیرمعمولی اقدامات اور انتظامات کرکے اُن پر کوئی احسان کیا ہے۔ وہ اسے ہمیشہ اپنا حق ہی سمجھیں گے، وزیراعظم نے اچھاکیا راہداری کی افتتاحی تقریب میں کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کا بطور خاص ذکر کیا، گو کہ اس سے بھارت کی صحت پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں ہے، اگر دنیا کے سب سے بڑے فورم (یواین) میں وزیراعظم پاکستان کی جانب سے واضح طورپر کشمیر پر بھارتی مظالم کی مذمت کرنے کا بھارت پر کوئی اثر نہیں ہوا تو کرتارپور راہداری کی اختتامی تقریب میں چند الفاظ بول دینے سے کیا ہوگا؟ ، اس کے لیے اور طرح کی کاوشیں کرنے کی ضرورت تھی، جو بوجوہ نہیں کی گئیں ، جس کی بنیاد پر میں بارہا عرض کررہا ہوں اگلے الیکشن میں وزیراعظم خان صاحب یا پی ٹی آئی کی مخالف سیاسی جماعتیں اِس نعرے کے ساتھ میدان میں اُتریں گی کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں کشمیر کا سودا کیا گیا تھا، ممکن ہے یہ غلط ہو، مگر کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف حکومت یا

وزیراعظم پاکستان کی محض بیان بازیوں، ٹوئیٹربازیوں یا بڑھک بازیوں سے یہ تاثر بہرحال اُبھرا ضرور ہے .... ہمیں اُمید تھی راہداری کی افتتاحی تقریب میں خان صاحب کے پسندیدہ نوجوت سنگھ سدھو اپنے جذباتی خطاب میں کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کا کچھ ذکر بھی کریں گے، اُن کا فوکس خان صاحب کے منہ پر اُن کی خوشامد کرنے پر ہی رہا، ظاہر ہے یہ اُن کا ایسا عمل تھا جس سے ہمارے وزیراعظم خوشی سے نہال ہوکر یہ بھی فراموش کربیٹھے ہوں گے کہ اُن کا دوست نوجوت سنگھ سدھو پاکستان کے ساتھ اتنا ہی مخلص ہے تو بجائے اس کے وہ سارا زور وزیراعظم کی خوشامد میں لگاتا ، دوچار جملے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف بھی دیتا، بھارت میں سکھوں کی اچھی خاصی تعداد ہے، یہ حقیقت ہے اپنے مفادات کے تحفظ میں اُنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کے خلاف کوئی قابل ذکر مزاحمت یا مذمت نہیں کی، وہ ایسا کرتے بھارتی حکمرانوں پر لازمی طورپر اس کا اثر ہوتا، جس کے نتیجے میں ممکن ہے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم میں کچھ کمی واقع ہوجاتی، ممکن ہے بھارت میں قیام پذیر سکھ برادری نے یہ سوچ کر مزاحمت یا مذمت نہ کی ہوکہ اگر مسلم اُمہ خصوصاً پاکستان کا کردار اِس حوالے سے انتہائی ” پھُس پُھسا “ ہے تو اُنہیں کیا ضرورت پڑی ہے اِس معاملے میں ٹانگ اڑا کر اپنے لیے مسائل کھڑے کریں، البتہ بیرون بھارت مقیم خصوصاً کینیڈا اور امریکہ میں مقیم سکھ کمیونٹی نے کشمیریوں پر ہونے والی بھارتی درندگی کی خلاف کچھ جلوس وغیرہ ضرور نکالے جو ایک قابلِ قدر اقدام ہے، ....عرض کرنے کا مقصد یہ ہے پاکستان کی موجودہ حکومت بالخصوص وزیراعظم پاکستان کی سکھوں کے ساتھ محبت اپنی جگہ، کسی کے مذہبی مقامات کا احترام بھی درست ہے، کرتار پور راہداری کھولنے پر بھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔ مگر اس مضبوط تاثر کو زائل کرنے کی ضرورت ہے کہ موجودہ حکومت سکھوں کو غیر ضروری اہمیت یا پاکستان میں اُن کے داخلے کے لیے ایسی سہولیات فراہم کررہی ہے، یا کرنا چاہتی ہے جن کے کچھ منفی نتائج نکل سکتے ہیں، یا اِس کا پاکستان کے مفادات کو آگے چل کر کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سو اس معاملے میں بڑا محتاط رہنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے وزیراعظم کی حب الوطنی پر ایک فی صد شک نہیں، بلکہ ہم تو غیر ضروری طورپر اس یقین میں بھی مبتلا ہیں وہ ماضی کے تمام حکمرانوں سے زیادہ محب وطن ہیں، ہمیں شک صرف یہ ہے ان کی روایتی بے وقوفیوں، ناتجربہ کاریوں، نااہلیوں اور ضدی طبیعت کے باعث غیرارادی طورپر پاکستان کے کسی مفاد کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔


ای پیپر