ایم کیو ایم کا مخمصہ
12 نومبر 2018 2018-11-12

ایم کیوایم میں تقریباً دو سال قبل شروع ہونے والی ٹوٹ پھوٹ ابھی تک جاری ہے۔اب رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کو پارٹی سے نکال دیاہے۔ڈاکٹر فاروق ستار کا شمار 35 سالہ متحدہ قومی موومنٹ کی چوٹی کے رہنماؤں میں ہوتا رہا۔بانی ایم کیو ایم ، عظیم طارق اور عمران فاروق کے بعد فاروق ستار پارٹی کے اہم رہنما سمجھے جاتے تھے۔ فاروق ستار اس فیصلے کو بہادرآباد والوں کا پارٹی پر قبضہ قرار دے رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ عامر خان، کنور نوید، فیصل سبزواری، وسیم اختر، خالد مقبول میں اخلاقی جرأت نہیں کہ میری پارٹی رکنیت ختم کرنے کی وجوہات بتائیں۔

5 فروری 2018ء کو ایم کیو ایم کے سینئر رہنماؤں کے درمیان اختلافات تب سامنے آئے جبکہ ڈاکٹر فاروق ستار کامران ٹیسوری کو سینیٹ انتخابات کیلئے پارٹی ٹکٹ دینا چاہتے تھے۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کے فیصلے کے مخالفت کی جس کے بعد پارٹی دوحصوں یعنی ایم کیو ایم بہادر آباد اور ایم کیو ایم پی آئی بی میں تقسیم ہوگئی تھی۔بظاہر25 جولائی کے عام انتخابات سے قبل مختلف دھرے متحدتو ہوئے لیکن کوئی نتیجہ نہیں دے پائے۔مبصرین کے مطابق دلی طور پر یہ گروپ انتخابات میں ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔فاروق ستار یہ کہنے لگے کہ انہیں متحد ہونے والے دھڑوں نے جان بوجھ کر ہرایا ہے۔ پارٹی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔انتخابات کے بعدصورتحال وہیں جا کھڑی ہوئی جہاں 5 فروری سے پہلے تھی۔فاروق ستار کو انتخابات سے پہلے ہی صورتحال کی بو آگئی تھی۔ ماہ جون میں ڈاکٹر فارق ستار نے کہا کہ مائنس ون کی جگہ مائنس ٹو کیاجارہا ہے، ایم کیوایم پاکستان کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔

جامعہ کراچی میں ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنونیئر کنور نوید جمیل نے یہ عندیہ دیدیا تھا کہ فاروق ستار اپنے بیانات کی وجہ سے شاید اب پارٹی میں نہ رہیں اور پھر وہی ہوا جو انہوں نے کہا تھا۔ذرائع کے مطابق 9 نومبر 2018ء کو رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ڈاکٹر فاروق ستار کی پارٹی رکنیت خارج کرنے کا فیصلہ ہو ہی گیا۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا سیاسی مستقبل کیا ہوگاہے؟ وہ پارٹی کے اندر احتساب چاہتے ہیں یعنی وہ چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم پاکستان جو بہادرآباد کے نام سے جانی جاتی ہے اس کے لوگ حساب دیں۔ بہادرآباد والوں کویہ مطالبہ لندن کے مطالبے سے ملتا جلتا نظر آتا ہے۔ رواں سال اکتوبر میں فاروق ستار نے ’ ایم کیو ایم پاکستان نظریاتی‘قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے چار نکاتی ایجنڈا پیش کیا اورپارٹی کے کارکنوں اور ذمے داروں کو 5فروری کی پوزیشن پر واپس لانے اور انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کا کہناتھاکہ حادثاتی طور پر پارٹی کی قیادت لندن سے میرے پاس آئی۔ 11 فروری کومجھ سے پارٹی سربراہی خالدمقبول صدیقی نے لے لی،میں نے 13 ستمبرکورابطہ کمیٹی سے استعفیٰ دیاتھا، 25 جولائی کے الیکشن میں پارٹی 17 سے 4 سیٹوں پر پہنچ گئی۔ ایم کیو ایم رہنما کا کہنا ہے کہ پارٹی سے کرپشن کا خاتمہ اور رہنماؤں کو پرانا حساب کتاب دینا ہوگا، ساتھیوں سے انٹرا پارٹی الیکشن سے کم کوئی بات نہیں ہوگی۔فاروق ستار یہ بھی کہتے ہیں کہ میں نے پارٹی میں احتساب کی بات کی۔ ایک فرد واحد نے مجھے ٹارگٹ کرکے نقصان پہنچایا اور مجھے ہروایا،میرا ایک گناہ یہ بھی تھاکہ میں نے پی ایس پی کے

پروجیکٹ کو ناکام بنایا۔ سمجھا یہی جارہا ہے کہ ان پر اسٹیبلشمنٹ یقین کرنے کو تیار نہیں۔ وہ سمجھتی ہے کہ فاروق ستار کے لندن سے رابطے ختم نہیں ہوئے۔

ایم کیو ایم ہائبرنیشن میں چلی گئی ہے۔ وہ کوئی جھگڑا کوئی اپوزیشن کی سیاست نہیں کرنا چاہتی۔ یہی وجہ ہے سندھ اسمبلی میں بھی وہ تحریک انصاف کا ساتھ دے رہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایم کیو ایم نہ حکومت میں ہے نہ اپوزیشن میں۔وہ ریلیف لینا چاہتی ہے۔خاص طور پر آپریشن کی کارروائیوں اور گرفتار شدگان اور دائر شدہ مقدمات کے حوالے سے ریلیف چاہتی ہے۔ شہر کے مسائل اس کی ترجیح نہیں رہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے تحریک انصاف کو جو کچھ کرنا ہوگا یا کرسکتی ہے وہ اپنے سیاسی فائدے کے لئے کرے گی۔اس کے لئے ایم کیو ایم کو زور دینے کی ضرورت نہیں۔ اپنے بھلے کے لئے وہ سمجھتی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نواز لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں سے جھگڑے میں ہے، ایسے میں بہت اچھا وقت ہے کہ وہ موقع کا فائدہ اٹھائے۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو بڑی حد تک خالد مقبول صدیقی اور ان کے قریبی لوگوں نے یہ بات منوا لی ہے۔ لہٰذا کارکنان فاروق ستار سے دور کھڑے ہیں۔

جہاں تک ریلیف کی بات ہے،اگست کے اوائل میں ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی میں 9 نکاتی سمجھوتا ہوگیا۔صدارتی انتخابات کے موقع پر عارف علوی نے آسرا دیا تھا اور کہا تھا کہ عوام اب پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن یہ تب کی بات ہے جب تحریک انصاف کو حکومت سازی اور صدارتی انتخاب کے لئے ایم کیو ایم کے ووٹ چاہئے تھے۔ فی الحال تحریک انصاف ایم کیو ایم کو آسرے میں رکھے ہوئے ہے۔ وہ کچھ زیادہ ریلیف دینے کے موڈ میں نہیں۔ستمبر کے آخر میں تحریک انصاف کے رہنما اور گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کہہ چکے ہیں کہ ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد تحریک انصاف کی مجبوری ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماضی میں فلاحی اداروں کے پلاٹوں پر قبضوں اور چائنہ کٹنگ میں ایم کیو ایم ملوث رہی لیکن ان کے ساتھ اتحاد ہماری مجبوری ہے۔

کراچی کے شہری بدستورپینے کے پانی، صفائی سڑکوں کی تعمیر ، بجلی اور دیگر متعدد شہری سہولیات سے متعلق مسائل میں گھرے ہوئے ہیں جس کے لئے وفاقی خواہ صوبائی حکومت توجہ دے رہی ہے اور نہ کراچی بلدیہ جہاں وسیم اختر ایم کیو ایم کے میئر ہیں۔ مہنگائی، ناجائز تجاوزات ختم کرنے پر ایم کیو ایم کا ردعمل سامنے نہیں آیا متحدہ کیوں خاموش ہے؟ ایم کیوایم میں دھڑے بندیوں کے بعد کراچی کی سیاست سے دوراہے پر ہے۔ کراچی آپریشن کے بعد یہ سوچ مضبوط ہوئی ہے کہ کراچی سے مختلف مینڈیٹ لایا جائے گا۔اس ’’کھلے میدان ‘‘کے لئے تمام جماعتوں نے طبع آزمائی کی۔ انتخابات سے دو سال پہلے پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے کراچی شہر میں متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کئے۔ پیپلزپارٹی کا خیال تھا کہ وہ ایم کیو ایم کی اندرونی توڑ پھوڑ اور شہریوں کی اس جماعت سے بیزاری کی وجہ سے پیدا ہونے والا خلاء بھر پائے گی لیکن پیپلزپارٹی کو انتخابات میں مثبت ردعمل نہیں ملا۔ اس شہر کے ووٹرز پی پی پی کی طرف متوجہ نہیں ہوپائے ۔ ایم کیو ایم میں نئے نئے گروپ بنتے رہے۔ مذہبی جماعتوں کے پاس طویل عرصے بعد یہ موقع میسرآیا ہے کہ وہ کراچی کے شہری ایشوز کو اٹھاتی لیکن ان کی توجہ ملک گیر سیاست رہی۔

دو اور سرگرمیاں میڈیا میں رپورٹ ہوئی ہیں۔ 26 ستمبر 2018ء ایم کیو ایم حقیقی کے رہنما کامران رضوی ایم کیو ایم پاکستان میں شامل ہوگئے۔یہ شمولیت عامر خان کی وجہ سے ہوئی جو خود کبھی حقیقی کے رہنما رہ چکے ہیں۔ عام انتخابات میں پی ایس پی پروجیکٹ اورایم کیو ایم کی ناکامی کے بعدسابق گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد پھر اپنے لئے مہاجر سیاست میں جگہ تلاش کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مہاجر سیاست کرنے والے تمام گروپوں کو اکٹھا کرلیں۔عشرت العباد نے پی ایس پی اور ایم کیو ایم رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ اتحاد کی کوششیں دیرپا اور فائدہ مند نہیں ہونگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف رہنماؤں سے رابطوں کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مہاجروں کے لیے ایک نئی پارٹی بنائیں۔اس نئی پارٹی کے بینر تلے پی ایس پی، ایم کیو ایم پاکستان، حقیقی اور دیگر پارٹیوں کے سرگرم افراد کو متحد کریں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پرانی پارٹی کو بحال کرنے کی صورت میں کسی نہ کسی گروپ کی پوزیشن پر اثر پڑے گا اور نئی پارٹی کا ماڈل بھی نیا ہوگا جس کو بطور پارٹی پرانا سیاسی بوجھ اٹھانا نہیں پڑے گا۔ اسی طرح سے نئی پارٹی میں نئے لوگوں کے آنے کی بھی گنجائش پیدا ہوگی لیکن عشرت العباد خود پرانی لاٹ کے رہنما ہیں جس کے تمام سیاسی خواہ غیر سیاسی حلقوں میں روابط وغیرہ اپنی جگہ پراس کے پاس نئی سیاسی صف بندی میں کوئی نئی چیز کراچی والوں کو آفر کرنے کے لئے نہیں۔ فی الوقت ایم کیو ایم مخمصے کا شکارہے۔ مستقبل قریب میں اس مخمصے کا کوئی حل بھی نظر نہیں آتا کیونکہ یہ صورتحال تمام حلقوں کے حق میں ہے۔


ای پیپر