نیب کہاں تک حق بجانب ہے۔۔۔؟
12 نومبر 2018 2018-11-12

یوں تو نیب کی غیر جانبداری اور اس کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیق و تفتیش اور نیب عدالتوں میں دائر ریفرنسز میں اس کی کمزور پراسیکیوشن کے بارے میں سوالات، تحفظات اور شکوک و شبہات کے اظہار کا سلسلہ کب سے جاری ہے ۔تاہم موجودہ حکومت کے برسرِ اقدار آنے کے بعد اس میں کچھ اضافہ ہو چکا ہے ۔ اس کی ایک بڑی وجہ جہاں وزیر اعظم عمران خان سمیت اُن کی جماعت سے تعلق رکھنے والے بعض اعلیٰ حکومتی ارکان کی طرف سے مخالفین کے خلاف چور، چور کی رَٹ لگا کر اُنہیں دھمکیاں دینے ، اندر کر دینے اور کڑے احتساب کا نشانہ بنانے کے آئے روز کے اعلانات ہو سکتے ہیں۔ جو نیب کے معاملات میں حکمران جماعت کی ایک طرح کی مداخلت سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ دوسری بڑی وجہ نیب کا کچھ عرصے سے جاری دُوسروں کی پگڑیاں اُچھالنے اور کسی حد تک انتقام اور ضد کا رنگ لیے ہوئے اختیار کردہ طریقہ کار بھی ہو سکتا ہے ۔ نیب ایک طرف کرپشن، بدعنوانی اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزامات کے حوالے سے مشکوک افراد کے خلاف بلا تخصیص کاروائیاں کرنے کا دعویدار ہے اور اس ضمن میں اُس نے مطلوب افراد کی لمبی چوڑی فہرست بھی جاری کر رکھی ہے لیکن عملاً اس کی تحقیق و تفتیش اورگرفتار کرنے اَور احتساب عدالتوں سے ریمانڈ لے کر زیر حراست رکھنے کا سلسلہ کچھ مخصوص افراد تک ہی محدود ہے ۔ اِن میں موجودہ حکومت کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے قائدین جن میں مسلم لیگ ن کے صدر، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف میاں شہبازشریف، اُن کے صاحبزادگان حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز، سابق وفاقی وزیر اور ممبر قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور اُن کے بھائی خواجہ سلیمان رفیق، مسلم لیگ ن سے ہی تعلق رکھنے والے سابق ممبر صوبائی اسمبلی راجہ قمر السلام زیادہ نمایاں ہیں ۔اِن کے ساتھ مسلم لیگ ن کے قائد و سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد، ایل ڈی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ اور کچھ دوسرے اعلیٰ سرکاری افسران بھی شامل ہیں۔ نیب وقتاً فوقتاً جہاں اِن میں سے زیر تفتیش یا زیر حراست افراد کے بارے میں کرپشن میں ملوث ہونے، آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد کرتا رہتا ہے وہاں نیب خفیہ تفتیش کے دوران زیر حراست افراد کے اپنے خلاف الزامات کو تسلیم کرنے کے مبینہ اعترافات یا اپنے ساتھ دُوسروں کو بدعنوانی میں ملوث ہونے کے مبینہ انکشافات ، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو جاری کرتا رہتا ہے ۔جو نیب ذرائع کے تحت چینلز کی بریکنگ نیوز اور اخبارات کی شہ سُرخیوں کی صورت میں سامنے آتے رہتے ہیں۔ نیب کااس طرح اپنی تفتیش

کے خفیہ گوشوں جن کا دُرست یا غلط اور قانونی یا غیر قانونی ہونے کا فیصلہ کسی مناسب عدالتی فورم پر ہونا باقی ہوتا ہے ، اِس طرح بے نقاب کرنا اور سنسنی خیز خبروں کا موضوع بنانا یقیناًدوسروں کی پگڑیاں اُچھالنے کے مترادف ہی سمجھا جا سکتا ہے ۔

نیب کی یہ پریکٹس یا اندازِ فکرو عمل ایسا نہیں ہے جس کی تائید کی جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتِ عظمیٰ بھی اِس ضمن میں نیب کی سرزنش کر چکی ہے ۔ عدالتِ عظمیٰ کا کہنا ہے کہ نیب کو دُوسروں کی پگڑیاں اُچھالنے کا کوئی حق نہیں لیکن لگتا ہے کہ نیب کو عدالتِ عظمیٰ کے اِن ریمارکس کا بھی کچھ پاس نہیں۔ اَب تو ڈی۔جی نیب لاہور میجر ریٹائرڈ شہزاد سلیم نے انتہا ہی کر دی ہے ۔ موصوف نے ایک ہی دِن پانچ نیو چینلز کو انٹریو دیتے ہوئے نیب میں زیر تفتیش یا زیر حراست شخصیات جن میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور 2013-2012ء میں اُن کے پچھلے دورِ حکومت میں اُن کے سیکرٹری عملدرآمد (Secretary Implementation to Chief Minister)فواد حسن فواد کے بارے میں ایسی گفتگو کی جو سراسر انتقام لینے یا پگڑیاں اُچھالنے یا اِن شخصیات کی کردار کشی کے زمرے میں آتی ہے ۔ ڈی جی نیب کے ان انٹریوز کے بارے میں بڑا شور مچا ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا نے تو رونق لگانی ہی تھی۔ 22کروڑ عوام کی نمائندگی کے دعویدار مقتدر اِدارے قومی اسمبلی میں بھی اس حوالے سے خوب شور مچا ہے ۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن نیب کے خلاف استحقاق کی تحریک لے آئی ہے ۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اگرچہ تحریک استحقا ق کو ایوان میں زیر بحث لانے کے لئے قانونی رائے لینے کی رولنگ دی ہے ۔تاہم اپوزیشن راہنماؤں جن میں سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے اہم راہنما شاہد خاقان عباسی اور پیپلز پارٹی کے اہم راہنما سید نوید قمر نمایاں ہیں نے اِس پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے ۔ محترم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہماری تحریکِ استحقاق پر پوری اپوزیشن کے دستخط ہیں۔ نیب افسر ایوان کے ارکارن کا استحقاق مجروح کر رہا ہے ۔ ہم احتساب چاہتے ہیں لیکن حکومت سے تنخواہ لینے والا افسر کس طرح اپوزیشن کی کردار کشی کر رہا ہے ۔ یہ ہمیں منظور نہیں جو باتیں نیب کے افسر کر رہے ہیں وہی باتیں وزراء اور وزیر اعظم نے کیں تو پھر یہ باتیں اُنہیں کس نے بتائیں۔ حقائق عوام کے سامنے آنے چاہیں۔ پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کہا کہ یہ پیپلز پارٹی یا پی ٹی آئی کا issueنہیں۔ تمام ممبران کی بات ہے ۔ آج حکومت میں ہیں کل اپوزیشن میں ہونگے۔ پیمرا کو بھی نوٹس لینا چاہیے کہ کس طرح ایک سرکاری افسر ممبرانِ اسمبلی کا ٹرائل کر سکتاہے۔ یہ تمام ارکان کی بے عزتی ہے ۔ ایک افسر اگر ایک دن میں پانچ ٹالک شوز میں جائے گا تو لگتا ہے کہ منصوبہ بندی سے ایسا کیا گیاہے۔

ڈی ۔ جی ۔ نیب لاہور کے انٹریو کے بارے میں نیب کے ترجمان کی وضاحت بھی سامنے آئی ہے ۔ ترجمان نیب کے مطابق نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے تمام نشریاتی اِداروں سے ڈی جی نیب لاہور کی گفتگو کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے ۔ ریکارڈ دیکھ کر قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔ چیئرمین نیب ڈی۔جی ۔ نیب لاہور کے خلاف کیا کاروائی کرتے ہیں اِس بارے میں حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن نیب ترجمان کا تازہ بیان ضرور سامنے آ چُکا ہے جس میں اُنہوں نے فرمایا ہے کہ ڈی جی نیب شہزاد سلیم مردِ مومن ہے جسے توڑنے کے لئے سازشیں کیں گئیں لیکن وہ بِکا نہیں اور نہ ہی جھُکا ہے ۔ نیب ترجمان کے اس تازہ بیان سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال ڈی۔جی۔ نیب لاہور کے بارے میں کیا فیصلہ کریں گے۔ یقیناًاُن کا فیصلہ بھی ڈی۔جی۔ نیب لاہور کے حق میں ہی ہوگا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ مسلم لیگ ن کے اہم رہنما اور سابق وزیر اعظم نے شاہد خاقان عباسی نے نیب کو کھل کر یہ دعوت دی ہے کہ احتساب ہواور یہ مسلم لیگ ن سے ہو لیکن انتقام نہ ہو۔


ای پیپر