رضا ربانی کی بات سنو
12 نومبر 2018 2018-11-12

قحط الرجال کے اس دور میں کچھ لوگ اب بھی زندہ ہیں جو کسی سیاسی جماعت میں ہوں یا نہ ہوں اس سے فرق نہیں پڑتا ان کی آواز سنی جاتی ہے۔ ان کے خیالات اور لفظوں کا وزن محسوس ہوتا ہے۔ جو بات کرتے یہ نہیں سوچتے کہ ان کے الفاظ سے کون خوش ہو گا یا کون ناراض۔ وہ اپنی بات کھل کر نہ بھی کریں مگر ان کو اپنے الفاظ پر اتنی گرفت ہوتی ہے کہ سمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں کہ نشانہ کون ہے ۔ حقیقت میں یہ تربیت کا معاملہ ہے جس عہد میں رضا ربانی نے سیاست شروع کی تھی وہ زمانہ آج سے بہت مختلف تھا ، دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد امریکہ دنیا پر ایک ایسے طاقت ور ملک کے طور پر ابھر تھا جس کی طاقت نے بہت سے ملکوں کو متاثر کیا۔ روس بھی فاتح تھا اور وہ بھی امریکہ کا ہم پلہ بن کر دنیا کو متاثر کرنے لگا عوام بھی تقسیم تھے۔ ایک سامراجی قوت کا حامی دوسرا سرخا۔ یہ تقسیم تیسری دنیا کے ممالک میں نہیں عوام کے درمیان بھی ابھر کر آ گئی۔ پاکستان بھی اس تقسیم کی زد میں آ گیا۔ خاص طور پر سرخوں نے پاکستان کے سماج میں اپنی ’’سپیس‘‘ بنالی ایوب دور میں رضا ربانی بھی ایشیا سرخ کے نعرے لگاتا ہوا سیاست میں وارد ہوا۔ اس زمانے میں ویت نام میں امریکی مظالم پر یہ نعرہ کافی مقبول تھا۔ خون ویت نام سے ایشیا سرخ ہے۔ ایوب دور میں معراج محمد خان کے مقابلے میں رضا ربانی کافی پیچھے تھا۔ اس نظریے کے حامیوں نے بھٹو کے نظریے کو پذیرائی بخشی۔ رضا ربانی بھی ان نظریات سے متاثر تھا۔ پیپلز پارٹی میں وفاداری کا سفر بڑا پرانا ہے۔ نصف صدی سے اوپر تک پھیلی ہوئی ہے۔ وہ جمہوریت کے لیے لڑتا جھگڑتا رہا۔ نواز شریف کے زمانے میں تو ریاستی تشدد سے اتنا زخمی ہوا سر پھٹ جانے سے ان کے سفید کپڑے سرخ خون سے تر ہو گئے تھے۔ انہوں نے کبھی پارٹی کو خیر باد نہیں کہا اور نہ پارٹی میں موقع ملنے کے با وجود دھڑا بنایا خاص طور پر بے نظیر بھٹو کے رخصت ہونے سے ان کے آگے بڑھنے کا راستہ روکا گیا ۔ مگر پارٹی کا بُرا پھر بھی نہ سوچا۔ وہ پاکستان کی سبز کتاب ’’ آئین پاکستان ‘‘ سے محبت کرنے والا ایسا جیالہ ہے کہ ان کو 18 ویں ترمیم کے لیے قومی اسمبلی کی کمیٹی کا چیئر مین چنا گیا تو انہوں نے بھٹو کی ترمیم سے لے کر ضیاء اور مشرف کے دور میں غیر ضروری شققوں کو آئین سے نکال باہر کیا۔ صوبوں کو اتنا زیادہ خود مختار بنا دیا کہ صوبائیت کی سیاست کرنے والوں کو منہ کے بل گرنا پڑا۔ خاص طور پر سرحد کا نام خیبر بختونخوا رکھ دیا ۔ یہ وہ مطالبہ تھا جو ولی خان کرتے رہے۔ اس مطالنے پر کسی اور نے نہیں بلکہ بھٹو نے انہیں غدار قرار دے کر ان کی پارٹی نیشنل عوامی پارٹی کو کالعدم قرار دے دیا۔ یہ کہانی تو کافی طویل ہے۔ انہیں کسی سے نہیں پارٹی کے اندر سے شدید مخالفت کا سامنا رہا جب وہ چیئر مین سینیٹ تھے ان کی رولنگ بولتی تھی اور تقریریں جمہوریت کے دشمنوں کو بے نقاب کرتی تھی۔ ان کو اس انداز سے روکا اور ٹوکا گیا کہ وہ دل برداشتہ ہو جائیں مگر

انہوں نے بھٹو کی قائم کی گئی پارٹی کو نہیں چھوڑا ۔ 2018 ء میں نواز شریف نے رضا ربانی کو دوسری بار چیئر مین سینیٹ بنانے کی پیش کش کی نہ جانے آصف علی زرداری نے رضا ربانی کی یقینی کامیابی کو کیوں روک ۔ یہ زرداری کے مفاد کی سیاست پر قربان ہو گئے۔ نیا پاکستان بنا کیسے بنا۔ کیسے نتائج آئے یہ سب کہانیاں کھل رہی ہیں۔ ایک ایسے ماحول میں جب تحریک انصاف کی حکومت اور نیا پاکستان بن جانے کے با وجود کچھ نہیں بدلا بلکہ جس ماضی کو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے میثاق جمہوریت کے ذریعے لندن میں دفن کر دیا تھا اب وہی کھیل شروع ہو گیا ہے۔ یہ کس نے شروع کیا ہے۔ یہ سب عوام کے سامنے ہیں۔ سول ڈکٹیٹر شپ قائم ہو رہی ہے۔نیا پاکستان کے تضاد کو ابھارنے والے اینکر اور صحافی ملازمتوں سے نکالے جا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں رضا ربانی سلیم صافی کے ساتھ انٹرویو میں نئے پاکستان میں پرانی سیاست کے تماشوں کو بے نقاب کیا ہے۔ جو سوال اٹھے انہوں نے اٹھائے ہیں۔ (1) کرپشن کے نعرے کو بھی کرپٹ کر دیا گیا ہے۔ (2) پارلیمنٹ اپنی سپیس دینے کی وجہ سے کمزور ہو رہی ہے۔ (3) تمام سیاسی جماعتیں اقتدار اور حکومت کے پیچھے پڑی ہیں۔(4) ہر شہری اپنے روز مرہ مسائل حل نہ ہونے پر خود کو ریاست سے الگ محسوس کرنے لگا ہے۔ (5) ریاست شہری کو جان و مال کا تحفظ کرنے سے ناکام رہی۔ ریاست شہری کو بجلی پانی دینے میں ناکام رہی۔ (6) ریاست کے وسائل مخصوص طبقے کے لیے ہیں۔ (7) ریاست پاپولر فاشنرم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ (8) کرائسس آف اسٹیٹ سیاسی جماعتوں کے آنے اور جانے سے مسائل حل نہیں ہوتے ۔ اس میں بہت سی ذمہ داری سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں پر ڈالی ہے جو اقتدارمیں آئی ہیں مگر ان کی گفتگو میں صرف اشارہ ہے کہ اقتدار کے لیے انہیں کس طرح تگنی کا ناچ کرنا پڑتا ہے۔ شہریوں کی بے بسی اور سوسائٹیوں میں پھیلتی ہوئی مایوسی کا ذکر کچھ کھل کر کیاہے۔ رضا ربانی جیسے دبنگ آدمی اگرچہ بڑے واضح انداز میں پاکستان کی سیاست، سماجیت اور اقتصادیات پر کھل کر اسٹیبلشمنٹ کانام نہیں لیتے البتہ انہوں نے اپنا پیغام دیا ہے۔ دکھ کی بات تو یہی ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے بے توقیری کی بات کی ہے کہ اس کی سپیس کوئی اور لے رہا ہے۔ یقیناًان کا اشارہ دو اداروں کی طرف ہے خاص طور پر جب فوج کو کراچی میں اپنی اتھارٹی منوانے کے لیے پارلیمنٹ نے جو اختیارات دیئے تھے اس پر رضا ربانی نے اس وقت بھی شدید احتجاج کیا تھا اور وہ آج بھی اس حوالے سے بول رہے ہیں جہاں تک سیاسی جماعتوں کے نظریات اور اصول کی بات ہے تو اس کا نظارہ ہم الیکشن 2018ء میں دیکھ چکے ہیں کہ کوئی تو ہے جس کے اشارے پر اتنا بڑا انقلاب آیا کہ نواز شریف کو جس جواز کے تحت نکالا گیا اس میں تو چار سو اور لوگ بھی تھے ان میں سے کوئی ایک بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کا کیس عدالت عظمیٰ نے اور نہ ہی نیب نے کھولا ہے۔ یہ تو وہ نا انصافی ہے جو پاکستان بننے سے شروع ہوئی تھی۔ اب آج کے احتساب کو دیکھیں تو پنجاب کے نیب سربراہ تسلیم شہزاد نے قوم کو خوشخبری سنائی ہے کہ نہ تو وہ پرویز الٰہی نہ ہی علیم خان اور نہ بابر اعوان کو گرفتار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ ان کی پراپرٹی ملک سے باہر ہے۔ اس اصول کے تحت ان کو گرفتار کرنا اور ضروری ہے تاکہ بقول سلیم شہزاد نیب کی گرفتاری میں آنے والے سربراہ نیب کے حق میں میدان میں آ گئی ہے۔ حکومت تو فریق نہیں ہے۔ اور نہ ان کے کہنے پر احتساب ہو رہا ہے۔ یہ تو فراد چوہدری کو بتانا چاہیے جیسا کہ مریم اوررنگ زیب نے پوچھا ہے کہ وہ حکومت کے ترجمان ہیں یا نیب کے ۔ نیب کے سربراہ سلیم شہزاد کی جعلی ڈگری کا معاملہ جو کافی عرصہ سے زیر بحث تھا ایک بار پھر اٹھا کھڑا ہوا ہے۔ اب یہ معاملہ تو عدالت عظمیٰ کے تین رکنی پینچ کے سامنے ہے۔ اب دونوں فریقوں شاہد خاقان عباسی اور سلیم شہزاد کو ثابت کرنا ہے کہ دونوں میں سچ کون بول رہا ہے۔ جہاں تک نیب کے احتساب کا سوال ہے تو یہ اب متنازع ہو گئی ہے ۔ احتساب کے طریق کار میں جو سوال اٹھے ہیں کافی سنجیدہ معاملہ ہے یہ معاملہ خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی نے چیئر مین نیب کو خط لکھ کر اٹھایا ہے کہ سیاسی حوالے سے ان کا مخالف ہے۔

رضا ربانی نے موجودہ سیاسی بحران جو کئی جہتوں میں پھیلتا نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف پیپلز پارٹی اور ن لیگ حکومت کی کوششوں کے با وجود کہ دونوں قریب نہ آنے پائیں۔ متحد ہو گئی ہیں۔ اب پیپلز پارٹی نے پنجاب میں سینیٹ کی دو نشستوں کے لیے مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ رضا ربانی کی یہ بات سچ ہے کہ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے لیے کسی اصول کی تابع نہیں ہیں۔ مرحومہ عاصمہ جہانگیر سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کے بارے میں کہا کرتی تھیں کہ اب سیاست دانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کچھ قوتیں انہیں باری باری استعمال کرتی ہیں ان کی یہ بات بالکل درست ہے سیاست دانوں کو لیاقت علی خان نے پروڈا قانون کے تحت بد نام کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا اس کو ایوب خان سے مشرف تک بلکہ نیا پاکستان میں بھی یہ نہیں رُکا یہ سیاسی جماعتوں کو ہوس اقتدار ہے ، کوئی سیاسی جماعوت بڑی ہویا چھوٹی اس سے فرق نہیں پڑا۔ پنجاب صوبہ میں عثمان بزدار کی حکومت ایسی پوزیشن پر کھڑی ہے کہ آج گئی یا کل گئی۔ اس وقت مسلم لیگ ق کی پوزیشن نمبروں کے اعتبار سے ایسی ہے کہ آج عثمان بزدار کی حمایت ترک کر دے تو حکومت گر جانے کا امکان ہے مگر مسلم لیگ ق نے اپنی اس پوزیشن کا مظاہرہ ایسے وقت کیا ہے کہ جب سینیٹ کے انتخاب دور نہیں ہیں۔ اگر حکمران جماعت ہار گئی تو اس کی عددی برتری کا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ اس سے پہلے ہی وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ اور سپیکر پنجاب اسمبلی نے جہانگیر ترین سے ملاقات کی جس کی وڈیو خفیہ طور پر تیار ہوئی اور لیک کی گئی۔ پرویز الٰہی اور طارق چیمہ کا مطالبہ تھا گورنر چوہدری سرور کو روکو؟ اس میں ایسا بھی کہا گیا جب لوگ ناراض ہوں توغصہ سیکرٹ بیلٹ سے نکلتا ہے۔ اب حکومت اور ق لیگ کے درمیان نیا معاہدہ ہو گا ۔ جمہوریت زندہ باد


ای پیپر