پاک ٹی ہاؤس ۔۔۔ اور نئے نئے ادبی ’’من چلے‘‘ ۔۔۔؟
12 نومبر 2018 2018-11-12

’’عہد حاضر کے دس مقبول ترین مصنفین میں سے آٹھ خواتین ہیں‘‘ ۔۔۔ ’’چلی‘‘ کے بارے میں چھپے اک مضمون میں ہمارے پیارے عامر بن علی نے یہ فقرہ لکھا اور میرا قلم چل پڑا ۔۔۔

گویا ’’چلی‘‘ وہ ادب پسند لوگوں کا ملک ہے جہاں عورتیں زیادہ تعداد میں علم و فن سے وابستہ ہیں ۔۔۔

مجھے ایک دم سے یہ خیال عود کر آیا کہ اگر یہی حال ہمارے ہاں ہوتا تو لاہور کا Pak Tea House کس حال میں ہوتا ۔۔۔ ابھی اُس کی صرف دو منزلیں ہیں اور اگر خواتین لکھاری اس Ratio سے ہوتیں تو اس بلڈنگ کی بارہ پندرہ منزلیں اور کھڑی کرنا پڑ جاتیں ۔۔۔ میرا اب بھی دل چاہ رہا ہے کہ اس لاہور کے Pak Tea House کی دس بارہ منزلیں کھڑی کر کے اس بلڈنگ کا پھر سے افتتاح کروایا جائے (آپ نے کیا فرمایا دوبارہ افتتاح کیسے ہو سکتا ہے ہمارے ہاں کئی پراجیکٹس کے افتتاح چار چار دفعہ ہو چکے ہیں جو سیاسی حکومت آتی ہے وہ اپنے نام کی ’’پھٹی‘‘ لگوانے کے لیے پھر سے افتتاح کروا دیتی ہے) اور لاہور کے Pak Tea House کا پہلا افتتاح تو میاں نواز شریف نے کیا تھا دوسرا افتتاح ’’چلی‘‘ کی نامور مصنفہ محترمہ ازابیل سے کروائیں جو ’’چلی‘‘ کے سابق صدر کی بھتیجی ہیں ۔۔۔ اور تیسرا اب میاں عمران خان ۔۔۔ سوری وزیر اعظم عمران خان سے بھی کروایا جا سکتا ہے ۔۔۔!

ہمارے ہاں جب سے لاہور کا Pak Tea House دوبارہ سے آباد ہوا ہے یہ سیدھا سیدھا ایک Date Point بن گیا ہے، یہاں کالجوں کے لڑکیاں لڑکے تو آتے ہی ہیں کالا برقعہ پہنے اور کم پڑھے لکھے مرد بھی یہاں قینچی چپل پہن کر آتے ہیں اور شیر محمد سے ’’شامی کباب‘‘ کھا کر ’’گپ شپ‘‘ لگا کر ’’جلدی جلدی‘‘ نکل جاتے ہیں ۔۔۔ ’’ادب‘‘ بھی یہاں کبھی کبھی دیکھنے کو ملتا ہے اور گروہ بندی بھی ۔۔۔!

اگر یہاں بھی خواتین ادیب تعداد اور مقدار میں زیادہ ہو جائیں تو معاملہ مختلف شکل اختیار کر سکتا ہے یعنی ادب پسند بڑی تعداد میں پائے جائیں اور صحیح معنوں میں ’’ ادبی گفتگو‘‘ بھی سنائی دے ۔۔۔ دکھائی بھی دے ۔۔۔

ایک دور میں یہاں کشور ناہید، اے حمید، طفیل ہشیاپوری، میرزا ادیب، منیر نیازی، خالد احمد، نجیب احمد، شہزاد احمد اور آج کے نامور ترین ادیب و شاعر خواتین و حاضرات یہاں کئی کئی گھنٹے بیٹھ کے ادبی گفتگو کرتے فلسفیانہ موضوعات پر الجھ پڑتے اور پھر ہم جیسے ’’دم سادھے‘‘ بیٹھے سنتے، کچھ سمجھ آتا کچھ نہ آتا لیکن جب باہر نکلتے تو گردن یہ سوچ کر ہی اکڑ جاتی کہ آج ہم نے میرزا ادیب، اشفاق احمد کے پیچھے بیٹھ کر چائے پی ہے ۔۔۔

پھر سعد اللہ شاہ، فرحت عباس شاہ، غافر شہزاد، علی نواز شاہ وغیرہ کا دور آیا اور ہم بھی سامنے والی کرسیوں پر براجمان ہونے لگے ۔۔۔ ویسے علی نواز شاہ ہر جمعہ کو یہاں ادبی محفل بپا کرتے ہیں ۔۔۔؟!

میں چند دن پہلے Pak Tea House گیا تو سید بدر سعید میرے ساتھ تھے ایک چالیس پنتالیس سالہ خاتون نے مجھے ادب سے سلام کیا ۔۔۔ اور بولی ’’سر آج کل آپ نے گانا بجانا چھوڑ دیا ہے ۔۔۔ آپ کی بچپن سے میں ’’فین‘‘ ہوں آپ کے ایک اور ساتھی مشتاق صاحب ہوتے تھے آپ کا مقبول گانا میں نے ہزاروں دفعہ سنا۔۔۔؂

’’تیرا لُٹیا شہر بھمبھور سسےئے بے خبرے‘‘ ۔۔۔

تیرا لُٹیا شہر بھمبھور ۔۔۔۔۔۔

محترمہ بس کریں ۔۔۔ آپ نے ایک سیدھے سادھے لکھاری کو شیدا مخولیا سے ’’اللہ دتہ لُونے‘‘ والا بنا ڈالا ۔۔۔ میں ٹھیک ہے اس بات کا کئی بار فائدہ بھی اٹھا چکا ہوں مگر جہاں بات عمر کی آ جاتی ہے میں اس سب سے اہم نکتے پر Compromise ہر گز ہر گز نہیں کر سکتا ۔۔۔ میں خیر سے اس سال 15، دسمبر کو 51 سال کا ہو چکا ہوں۔۔۔؟!

’’ 53 کے مظفر صاحب ۔۔۔ 53 کے ۔۔۔ فیس بک نے یہ راز کھول دیا ہے اب یہ دو سال کی ’’ڈنڈی‘‘ نہ ماریں ۔۔۔ یہ سید بدر سعید تھا حسب معمول اس کام میں بھی ٹانگ اڑا رہا تھا ۔۔۔

اچھا تو پھر ۔۔۔ تو آپ ابھی جوان ہوئے ۔۔۔ وہ گلو کار آپ کے ہم شکل ۔۔۔ ہاں ہاں ۔۔۔ پھر خود ہی بولیں ڈاکٹر امجد پرویز کہاں ہوتے ہیں وہ تو ستر اسی کے ہوں گے اس وقت ۔۔۔

ایسے میں سید بدر سعید ذرا دور ہوا تو وہ خاتون آہستہ سے ’’چغلی‘‘ کے انداز میں بولیں ۔۔۔

’’سر ۔۔۔ میں نے ایک شکایت کرنی ہے ۔۔۔ کس سے کروں‘‘ ۔۔۔؟

’’آپ کسی عدالت میں جائیں؟‘‘ ۔۔۔ میں نے غیر ارادی طور پر کہا ۔۔۔

’’نہیں ۔۔۔ سر میں نئی نئی شاعرہ ہوں‘‘ ۔۔۔؟

’’پھر آپ حسن عباسی سے ملیں ۔۔۔ اوہ سوری وہ تو آجکل اوسلو مشاعرہ پڑھنے گئے ہوئے ہیں‘‘؟ ۔۔۔ میں نے خود ہی وضاحت کر دی ۔۔۔ (حسن عباسی ویسے آدھی دنیا میں مشاعرے پڑھ چکے ہیں حال ہی میں کینیڈا والے بھی ’’اُن کی شاعری‘‘ سے استفادہ فرما چکے ہیں؟)۔۔۔

’’نہیں سر‘‘ ۔۔۔ شاعری میں میں اپنے میاں قطب کمال کرمانی سے ہی اصلاح لوں گی ۔۔۔ میں شکایت یہ کرنا چاہتی ہوں کہ یہاں Pak Tea House میں ایک اسی پچاسی کے شاعر ہیں دیوار پکڑ کر اور سہارا لے کر چلتے ہیں ۔۔۔ ایک دن میں نے یونہی بزرگ سمجھ کے سلام کر دیا تو مجھے پاس بٹھا لیا اور بولے ۔۔۔ (محبت سے)

’’میری بیوی اسلام آباد ہوتی ہے ۔۔۔ میں یہاں اکیلا ہوں ۔۔۔ اگر تم پسند کرو تو مجھ سے شادی بنا لو؟‘‘ ۔۔۔ اور پھر اُنہوں نے شیر محمد کو بلوایا اور مجھے ’’کلب سینڈوچ، کیچ اپ زیادہ کے ساتھ کافی بھی پلوائی‘‘ ۔۔۔ اور ۔۔۔ اور مجھے جاتے ہوئے اپنی شاعری کی کتاب بھی پیش کی اور ’’نوئے‘‘ روپے بھی وصول پائے کہ ’’میں ہزار بارہ سو کا کھانا تو کھلوا سکتا ہوں ۔۔۔ کتاب مفت نہیں دے سکتا‘‘ ۔۔۔ ہے ناں بُری بات ۔۔۔

آپ کو بی بی ۔۔۔ غصہ کس بات پر ہے ۔۔۔ کلب سینڈوچ کھلوانے پر ۔۔۔ شادی کی دعوت دینے پر ۔۔۔ یا ۔۔۔ یا کتاب کے پیسے وصول کرنے پر ؟ ۔۔۔ میں نے نہایت سنجیدگی سے پوچھا ۔۔۔ تو وہ شرماتے ہوئے بولیں ۔۔۔ آخری والی بات پر یعنی اُنھوں نے آپ کو اپنی کتاب مفت نہیں دی اور نوئے روپے 50% رعایت کر کے وصول پائے ۔۔۔ مجھے پہلے تو اُس ’’نئی نویلی‘‘ شاعرہ پر غصہ نہیں آیا لیکن اُس کی یہ بات سن کر میرا پارہ چڑھ گیا ۔۔۔ میں اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔ سنو بی بی ۔۔۔ اُس نے بھی پہلی بار مجھے ’’جھاڑا‘‘ ۔۔۔ یہ بار بار بی بی نہ کہیں مجھے میں پی پی ہوں ۔۔۔ پروین پسروری۔۔۔ جو بھی ہو ۔۔۔ میں نے پھر سے عرض کیا ۔۔۔

’’میں آپ کو نہیں بتاؤں گا کہ آپ شکایت کس سے کریں کیونکہ میری اور سفید بالوں والے اسی سالہ شاعر کی باقی باتیں تو نہیں Match کرتیں لیکن یہ چیز ہم دونوں میں Common ہے یعنی ہم اپنی کتاب کسی کو مفت نہیں دیتے ۔۔۔ یہ ہماری پراڈکٹ ہے اور ہم اپنی پراڈاکٹ کسی کو مفت کیوں دیں‘‘ ۔۔۔ اور میں اُس کو اکیلا چھوڑا کر باہر نکل آیا۔۔۔


ای پیپر