Dr Zahid Munir Amir, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
12 May 2021 (11:36) 2021-05-12

وہ ایک سیدھاسادا دیہاتی لڑکاتھا،روایتی شلوارقمیص میں ملبوس،دیہاتی ماحول کی آغوش میں رہنے کے باعث شہروں کی چکاچوند سے نامانوس سادکھائی دیتاتھا ……جب ڈاکٹروزیرآغانے میری جانب اشارہ کرکے اسے اپنے تحقیقی منصوبے کے سلسلے میں مجھ سے رابطہ کرنے کے لیے کہا تومیں اس نوجوان اوراس کے تحقیقی منصوبے سے یکسرناواقف تھا۔ یہ تفصیل تواس وقت معلوم ہوئی جب ڈاکٹروزیرآغانے اس کا تعارف کرواتے ہوئے بتایاکہ”یہ نوجوان جھنگ سے آیاہے، فیصل آبادکالج میں پڑھتاہے اور میرے بارے میں تحقیقی مقالہ لکھ رہاہے۔ میں نے اس سے کہاہے کہ اس سلسلے میں زاہدمنیرعامرآپ کی بہترمددکرسکتے ہیں۔ اب آپ آگئے ہیں تو اس سے بات کیجیے“۔آغاصاحب کی اس گفتگوکا پس منظریہ تھاکہ میں اس سے پہلے ان کے متعلق تفصیل سے لکھ چکاتھا اورخودسے متعلق میری تحریر کے بارے میں ان کاکہناتھاکہ ان کی زندگی سے متعلق ہراہم بات اس میں آگئی ہے ……خیراس نوجوان سے اس حوالے سے گفتگوہوئی اور پھروہ جھنگ واپس چلاگیا۔یہ ملاقات تو ماضی کی دھندمیں گم ہو گئی لیکن پھرکچھ ہی عرصہ گزراتھا جب وہ وزیرآغاکے”اوراق“ کے صفحات پر نمودار ہوا۔ افسوس کہ اب وزیر آغا اور ”اوراق“ دونوں مرحوم ہو چکے ہیں ……اوراق کے صفحات پر وہ ایک انشائیہ نگارکے روپ میں ابھرا۔ان انشائیوں میں وہ سامنے کے غائب اور اوجھل گوشوں کو روشن کرتامحسوس ہوا۔اس کے نزدیک موجود کو محسوس کرنے سے زندگی اپنے اسرار کی تہہ کھولنے پر آمادہ ہوتی تھی۔اس کی تحریرمیں خیال کی چمک اور معنی کا کوندالپکتادکھائی دیتاتھا لیکن پھردوسرے انشائیہ نگاروں کے ساتھ وہ بھی کسی دھندلکے میں جاچھپاجہاں وہ وزیرآغا کی گرم رفتاری میں کمی آجانے سے جاچھپے تھے۔اردومیں انشائیے کی تحریک وزیرآغاکے دم قدم سے تھی۔انھوں نے بڑے پیمانے پر نئے لکھنے والوں کو انشائیہ نگاری کی طرف راغب کیا، ان کارسالہ”اوراق“ اس تحریک کا ایک بڑا پلیٹ فارم تھا جہاں بہت سے لکھنے والوں کے جوہرکھلے اور وہ دیکھے ہی دیکھتے آسمان ادب پر جگمگانے لگے۔ 

وزیرآغااس کے بارے میں خوش رائے ہوتے چلے گئے۔ان کی محفل میں جب کبھی اس کا ذکرآتاوہ بڑی امیداور توقع کا اظہارکرتے، یہی وجہ ہے کہ جب اس کا تقرر اورینٹل کالج میں ہواتو میں نے سب سے پہلے وزیرآغاکوفون کرکے مبارک دی۔تب مجھے اورینٹل کالج میں پڑھاتے ہوئے دس برس بیت چکے تھے۔ انھوں نے مبارک قبول کرتے ہوئے بڑی فراخ دلی سے اس کی تعریف کی اورکہاکہ اس کے اورینٹل کالج میں آجانے سے آپ کو ایک اچھادوست مل جائے گا۔اورینٹل کالج میں آنے سے پہلے اس نے علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے ایم فل کرلیاتھا۔ اس کا ایم فل کا مقالہ”اردو تنقیدمیں جدیدیت اور مابعدجدیدیت کے مباحث“اس کے ممتحنین پر اپنانقش قائم کرچکاتھابلکہ اگر یہ کہاجائے کہ یہی مقالہ اسے اورینٹل کالج میں لائے جانے کاباعث بناتو غلط نہ ہوگا۔یہاں آنے کے بعد ۲۰۰۷ء میں اس نے پی ایچ ڈی اور۲۰۱۱ء میں پوسٹ ڈاکٹوریٹ کی ڈگریاں بھی حاصل کرلیں اوراس کے جوہر تیزی سے کھلنے لگے۔ اب وہ ہ ملک کے ایک اہم نقادکے طورپر جاناجانے لگا۔اس کی تنقیدی صلاحیتوں کا اندرون ملک ہی نہیں بیرون ملک بھی اعتراف کیاجانے لگا۔اس کے قلم سے بڑی تیزی کے ساتھ تنقیدی کتابیں نکلنے لگیں۔اس نے کم عرصے میں لسانیات اور تنقید، متن سیاق اور تناظر، مابعد نوآبادیات اردوکے تناظر میں، ثقافتی شناخت اور استعماری اجارہ داری،عالمگیریت اور اردو اور دیگر مضامین، اردو ادب کی تشکیل جدید،نظم کیسے پڑھیں،جدیدیت اور نوآبادیات،اور مجید امجد اور میراجی پر یک موضوعی کتابیں لکھیں۔حال ہی میں اس کی شخصیت کا ایک اورگوشہ اس کی افسانہ نگاری کی صورت میں سامنے آیاہے اور پے درپے اس کے چار افسانوی مجموعے بھی شائع ہوئے ہیں۔وہ جب اورینٹل کالج سے اردوسائنس بورڈ کا ڈائریکٹرجنرل ہوکرچلاگیاتوخلقت شہرکوچہ می گوئیوں کاموقع ملا لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہ طورڈائریکٹرجنرل جوائن کرنے سے پہلے اس نے اورمتعلقہ وزارت کے  اس وقت کے وزیرنے ایک دوسرے کو دیکھا تک نہیں تھا۔

واقفان حال جانتے ہیں کہ یونیورسٹیوں میں ترقی، کسی کا حق نہیں ہوتی۔ہر اگلے مرحلے کے لیے ازسرنوایک نئے درخواست گزار بن کر جانچ پرکھ کے سب مرحلوں سے گزرناہوتاہے۔جانچ پرکھ کے اس عمل میں انٹرویوبھی شامل ہوتاہے۔ انٹرویوکسی کا بھی ہو اور زندگی کے کسی بھی مرحلے پر ہواپنا نفسیاتی دباؤ رکھتا ہے۔  وہ بھی جب پروفیسری کا انٹرویو دینے آیا تو اس دباؤ سے آزاد نہیں  تھا۔ اب وہ ملک کاایک معروف نقاد، ایک سرکاری ادارے کا سابق ڈائریکٹر  جنرل اور یونی ورسٹی میں فل پروفیسرشپ کا امیدوار  تھا۔ اسے سیلیکشن بورڈ میں ایک امیدوار کی حیثیت سے دیکھ کر مجھے اس دن کا ناصر عباس یاد آیا جس سے پہلی بارسول لائنز سرگودھامیں ڈاکٹروزیرآغاکے گھر ملاقات ہوئی تھی۔وقت کے پلوں سے بہت ساپانی گزرچکاتھاتب وہ بیس بائیس برس کا ایک نوجوان تھا اور اب پچپن چھپن برس کا پختہ کار شخص۔ہمارے اداروں میں سیاست توہوتی ہی ہے اس لیے تمام تر قابلیت کے باوصف اندیشے بھی دامن گیر رہتے ہیں۔انٹرویو کا نفسیاتی دباؤدیکھ کر میں نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا۔سیلیکشن بورڈ کے ایک دوسرے رکن نے پوچھاکہ آپ نے اب تک کتنے پی ایچ ڈی کروائے ہیں؟اس کی پرانی مصروفیت اردوسائنس بورڈ کا بھی ذکرآیا،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اخترصاحب کے سوال سے اندازہ ہواکہ وہ یونی ورسٹی میں ہوتے ہوئے کبھی وائس چانسلر صاحب سے نہیں ملاہے۔اس احساس نے اس کی اپنے جی میں جینے کی روش کو آشکارکیا۔وہ مسابقت کی فضامیں رہتے ہوئے بھی وکٹری اسٹینڈ پرجگمگانے کا خواہشمند نہیں ہوتا۔یوں اپنی آزادی کو دوسروں کے ہاتھ میں دینے سے محفوظ رہتاہے۔اس کا خیال ہے کہ نمبروَن بننے کی خواہش کا دوسرا نام حرص ہے۔وہ خواہش کے خلاف نہیں بلکہ اس کے نزدیک تو مہاتمابدھ نے جب خواہش کی نفی کی تھی تووہ اس وقت بھی اصل میں سچی اور کھری مسرت ہی کی خواہش کررہاتھالیکن وہ جانتاہے کہ خواہش، مشرقی عورت کی طرح ہے جواپنے چھپنے کے اسلوب ہی میں عیاں ہوتی چلی جاتی ہے۔اس بارے میں وہ احمدفرازکے خیال سے متفق دکھائی نہیں دیتا جوکہتاہے  ”اب تو یہ آرزوہے کہ وہ زخم کھائیے +تازندگی یہ دل نہ کوئی آرزوکرے“اس کے مقابلے میں وہ اقبال کے اس خیال سے زیادہ قریب  ہے کہ ”ہے طلب بے مدعاہونے کی بھی اک مدعا+مرغ دل دام تمناسے رہاکیونکرہوا“۔

ہمارے مشترک ممدوح پروفیسرنظیرصدیقی نے اپنی تحریروں کے اس مجموعے کانام جنھیں وہ انشائیہ کہتے تھے”شہرت کی خاطر“رکھاتھااوراس عنوان پر ایک باب بھی باندھاتھا۔ اس نے شہرت کی مخالفت میں ایک خیال انگیزانشائیہ لکھا،جس میں وہ کہتاہے کہ ’دیوی شہرت کی ہودولت کی ہویاعشق کی، بڑی حریص اور ریاکارہوتی ہے‘اس کے خیال میں اہرام مصراور تاج محل بنانے والوں نے دوسرے انسانوں کے استحصال سے شہرت حاصل کی ہے۔ غیرمعروف اور عام آدمی ریت کی ذروں کی طرح ہوتے ہیں انھیں جو جگہ بھی مل جائے مل کر اکٹھے وقت گزارتے ہیں جب کہ مشہورآدمی بلندوبالامیناروں کی طرح ہوتے ہیں جوایک بڑے شہر میں بھی اکٹھے نہیں رہ سکتے۔

اسے شہرت اور کامیابی دونوں ملی ہیں، ہربوالہوس نے حسن پرستی شعار کررکھی ہوتومنصب کی وقعت جاتی رہتی ہے۔ قابلیت کی بناپرمنصب ملے تو اس سے منصب کی توقیرمیں اضافہ ہوتاہے اس لیے میں پروفیسراردو کی حیثیت سے ناصرعباس نیرکے تقرر پرناصرعباس نیرکو نہیں پروفیسری کو مبارک دیتاہوں۔ 

فکروخیال کے سفر میں ناصرعباس نیربہت سی منزلیں طے کرچکاہے یہاں تک کہ اب اس کے ساتھ اختلاف کے زاویے بھی ابھرنے لگے ہیں۔ راقم نے پنجاب یونی ورسٹی میں بیادحالی ایک تقریب منعقدکروائی تو خطاب کے لیے اسے بھی مدعوکیاجس پر ایک استادصاحب نے کہاکہ’آپ کو اس سے بڑا حالی مخالف اورکوئی نہیں ملاتھا؟‘میراخیال ہے کہ علم وفکر کی دنیامیں اختلاف رائے کی وہی حیثیت ہے جو فصل کے لیے پانی کی ہوتی ہے۔وہ سرسید اور شبلی کے معارضے میں سرسیدکے ساتھ کھڑاہوتاہے تو یہ اس کا حق ہے۔وہ جب یہ کہتاہے کہ ”جدید عہدکاانسان مذہب کے سلسلے میں اس غیرمتزلزل یقین کا حامل ہوہی نہیں سکتا جس کا حامل عہدوسطیٰ کا انسان تھا“تو فکرکا یہ زاویہ ناراضی کی نہیں مکالمے کی راہیں کشادہ کرتاہے۔ دلیل کی قوت اختلاف کا بہترفیصلہ کرسکتی ہے۔اس خاص تنقیدی روش کے حوالے سے جواس کی تخصیص بن گئی ہے،یہ سوال دانش مندوں کو دعوت فکر دے رہاہے کہ کہیں ایساتو نہیں کہ معنی کی تکثیریت یامتن کی بے معنویت وغیرہ ایسے تنقیدی تصورات بالآخراس یقین سے محرومی پر منتج ہوں جو انسان کی فطرت میں ودیعت کیاگیاہے؟ اگر انسان سے اس کا یہ یقین چھین لیاگیا تو وہ بے معنویت اور بے یقینی کے جس جنگل میں بھٹکتارہ جائے گا اس کا تصور بھی ہولناک ہے۔اس صورت میں زندگی کے دکھ کتنے بڑھ جائیں گے اس کا ابھی اندازہ بھی نہیں کیاجاسکتا۔ 


ای پیپر