Riaz Ch, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
12 May 2021 (11:32) 2021-05-12

 اسرائیل نے غزہ میں حالیہ فضائی حملے کے دوران 20 فلسطنییوں کو شہید کر دیا 600سے زائد زخمی ہو گئے۔اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد ہر طرف خون  لاشیں اور زخمی نظر آہے تھے۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب فلسطینی احتجاج کر رہے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔ انتہا پسند یہودیوں نے مسجد اقصیٰ کے صحن میں آگ لگا دی۔

قبلہ اول کی تحفظ کی خاطرفلسطینی ڈٹ گئے۔ یہودیوں کے یوم یروشلم مسجد الاقصیٰ میں مارچ کے منصوبے پر فلسطینیوں نے رات مسجد الاقصیٰ میں گزاری تاکہ انتہا پسند یہودیوں کو داخلے سے روکا جاسکے۔ نیتن یاہو نے یہودیوں کے داخلے کے لئے راستہ صاف کرنے کا حکم دیا تھا جس پر ہزاروں فوجیوں نے قبلہ اول پر دھاوا بول دیا اور اسرائیلیوں بے بس فلسطینیوں پر ظلم کا پہاڑ توڑ ڈالا۔ نمازیوں پر ربڑ کی کوٹنگ والی گولیاں برسائیں، شیلنگ کی، بم بھی پھینکے۔اسکے باوجود فلسطینی جرات کی دیوار بن گئے اور اسرائیلی مظالم  کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کردیا۔ قابض فورسز پر خوب پتھراؤ کیا اور آخری دم تک قبلہ اول کے تحفظ کا اعلان بھی کیا۔

یہودی آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان حالیہ واقعات کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس میں خدشہ ہے کہ فلسطینیوں کو ان کی اس زمین سے نکال دیا جائے جس پر یہودی آبادکار اپنی ملکیت کا دعوی کرتے ہیں۔یروشلم کے پرانے شہر میں واقع مسجد اقصیٰ نہ صرف مسلمانوں کے لیے سب سے قابل احترام مقامات میں سے ایک ہے بلکہ یہودیوں کے لیے بھی یہاں مقدس مقام بھی ہے جسے ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں مسلسل کشیدگی پر 

گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے پرامن اجتماع کا احترم کرے اور تحمل کا مظاہرہ کرے۔ انہوں  نے اقوام متحدہ سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے 'اسرائیل پر زور دیا کہ وہ انہدام اور بے دخلی کے عمل کو بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے قوانین کی روشنی میں روک دے۔تمام قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کردار ادا کرے اور کشیدگی اور اکسانے کے تمام حربوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔

امریکا، روس، یورپی یونین، خلیجی ممالک کے بعض سفیروں سمیت اقوام متحدہ نے بھی حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے، ''ہم اسرائیلی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے مسلمانوں کے مقدس ماہ کے دوران میں صورتحال مزید خراب ہو جائے۔ اسرائیلی مظالم ک پر غور کیلئے عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس میں اسرائیل کے حملے کے بعد اور مسجد اقصیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں پر حملے مسلمانوں نہیں بلکہ انسانیت پر حملے ہیں۔ یہ فلسطینیوں پر ظلم و ستم ہیں۔ ترکی مشکل وقت میں اپنے بھائیوں کے ساتھ ہے، پوری دنیا اور مسلم دنیا میں اس مسئلہ کو اٹھائیں گے، بیت المقدس کی حرمت کا دفاع جاری رکھیں گے۔ فلسطینی کاز ہمارے ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔

 وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسجد الاقصیٰ میں عبادت کرنے والے فلسطینیوں پر بد ترین تشدداور مسجد کی بے حرمتی پر بے پناہ تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ پر پاکستان کا موقف واضح ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے سیکرٹری جنرل او آئی سی سے معاملے پر واضح موقف بیان کیا جبکہ ترکی نے بھی بیت المقدس پر واضح موقف اپنایا۔ مسئلہ فلسطین پر امہ کو متحد ہونا ہوگا۔

عالمی اداروں کی خاموشی، عرب حکمرانوں کا منافقانہ رویہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے دوہرے معیار اور عالمی برادری کی عدم توجہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ امت مسلمہ اتحاد و وحدت اور اسلامی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کے حل کیلئے میدان عمل میں آجائے۔ تل ابیب اور واشنگٹن کے تعلقات ہمیشہ وسیع پہلوؤں کے حامل رہے ہیں، کیونکہ جو بھی صدر امریکہ میں برسر اقتدار آتا ہے، اس کی پہلی کوشش ہوتی ہے کہ اسرائیل کیساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں دوسرے پر سبقت لے جائے۔ اسی سبب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات سے پہلے بھی اور وائٹ ہاؤس میں قدم رکھنے کے بعد بھی کھل کر اسرائیلی حکومت کے لئے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے امریکہ کی سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں کے برخلاف قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیاتھا کہ وہ امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے مقبوضہ فلسطین منتقل کر دے گا۔ ٹرمپ دورحکومت میں اسرائیل کیلئے بلا عوض امداد میں اضافے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ امریکہ کی طرف سے اسرائیلی حکومت کو سالانہ تین ارب ڈالر بلاعوض امداد دی جاتی ہے، جس کا بڑا حصہ فوجی ساز وسامان پرخرچ ہوتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کی سمجھدار اور باشعور ریاستیں مل کر بیٹھ جائیں اور مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے امن کیلئے خطرہ، غاصب اسرائیلی ریاست کے خلاف ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور اسرائیلی ہٹ دھرمی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اسرائیل کیخلاف سخت سے سخت کارروائی کرتے ہوئے ایٹمی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں لیا اور دنیا کے امن کو یقینی بنایا جائے۔ 


ای پیپر