Dr. Azhar Waheed, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
12 May 2021 (11:27) 2021-05-12

محب اگر محبوب کا مزاج آشنا نہیں تو اسے محبت کے دعوے سے توبہ کرنی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ محبت ہی مزاج آشنا کرتی ہے۔ اگر محبت کا جذبہ ماند پڑہے اور دل میں محبت کی جگہ مصلحت گھر کر لے تو محبت کا دعویٰ کرنے والا اپنے دعوے کے ثبوت میں محبت اور خدمت کا ڈھونگ رچائے گا لیکن…… محبوب کے دل میں جگہ نہ پاسکے گا۔ محبت میں ڈوبے ہوئے مزاج آشنا شخص کو حکم دینے کی ضرورتہی پیش نہیں آتی۔ وہ اپنے محبوب کا ہر حکم ایسے بجا لاتا ہے جیسے 

ع گویا یہ بھی میرے دل میں تھا

محبت میں شرابور شخص کو محبت کا دعویٰ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی، اس کی محبت کسی نعرے کی محتاج نہیں ہوتی۔ وہ اپنی محبت کو گلیوں بازاروں میں رسوا نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ محبت کے نام پر کیے گئے کسی عملی مظاہرے کی قدر ومنزلت اس کے محبوب کی نگاہ میں کس قدر ہے، اور یہ کہ ہے بھی یا نہیں!! 

یہی معاملہ خدمت کا ہے۔ خدمت کرنے والا اگراپنے مخدوم کے مزاج سے شناسائی نہیں رکھتا تواس کی خدمت‘خدمت سے زیادہ مصیبت کا باعث ہو جاتی ہے۔ وہ پانی کی جگہ شربت اور شربت کی جگہ چائے پیش کرنے میں پیش پیش ہوگا۔ اُس کی خدمت ایک ایسی عبادت کی طرح ہے جو قبول نہیں ہو رہی۔ رب تعالیٰ ایسی عبادت کی صعوبت سے بچائے جو اس کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتی۔ عجیب بات ہے کہ محب کی خاموشی بھی ہم کلام ہوتی ہے اور محبت سے محروم کی زناٹے دار آوار بھی محبوب کے ہاں ایک سناٹے سے زیادہ گونج نہیں رکھتی۔ محبوب فطرتاً بے نیاز ہوتا ہے…… وہ محب کے ہر قول و عمل سے یوں بے نیاز ہے کہ محب کا کوئی قول اُس کے قرب کی ضمانت نہیں اور کوئی فعل اس کی قربت کا ذریعہ نہیں۔ ہاں! یہاں مزاج یار ہے‘ جو سب کچھ ہے…… یہاں وہی ہوتا ہے‘ جو مزاجِ یار میں آئے۔ ہر چیز اُس کے مزاج اور مشیت کے تابع ہے۔ وہ چاہے تو بے عمل کی عاجزی کو قبول کرلے، چاہے تو عابد کے مزاج کی سختی کو راندہ درگاہ کرے۔ غلطی آدم سے بھی سرزد ہوتی ہے اور ابلیس بھی کسی حکم عدولی کا مرتکب ہوتا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ آدمؑ اپنی غلطی کے باوجود سرفراز کئے جاتے ہیں، انہیں توبہ کی توفیق حاصل ہوتی ہے، بلکہ توبہ کے لیے کلمات تک سکھا دیے جاتے ہیں۔ ابلیس کو اس کی لاکھوں سال کی عبادت و ریاضت کے 

باوجود شٹ اپ کال دے دی جاتی ہے اور گیٹ لاسٹ کر دیا جاتا ہے۔ اسے ایسی مہلت دی جاتی ہے جس کا انجام توبہ نہیں۔ بنی آدم کی مہلت…… توبہ، انابت اور پھر اوبت پر منتج ہو سکتی ہے۔ 

باتوں سے کوئی بات …… کہاں تک جا پہنچی۔دراصل یہ نشانیاں ہیں، ہر انسان ایک نشانی ہے، ہر واقعہ کسی نشانی کو زیر و زبر کر سکتا ہے۔ فکرِ انسانی کو درپیش ایسی ہی کچھ نشانیاں ہیں۔ دیکھا یہ جاتا ہے کہ وہ اِن پر غور کرتا ہے یا نشانیوں کے اِس جہاں سے سرسری گزر جاتا ہے۔ اگر تشبیہہ سے شرک کا شائبہ گزرتا ہے‘ توانسان کو استعارہ بنا لیا جائے۔ فکر کا قبلہ راست ہو تو ہر جا ایک جائے سجدہ ہے۔ اِس اُمت کے لیے پوری رُوئے زمین مسجد بنا دی گئی ہے، اِس اُمت کے لیے جہات کی قید نہیں، آیت واضح ہے ”جدھر بھی رخ کرو گے اللہ ہی چہرہ پاؤ گے“۔

کسی مسلم معاشرے میں روایت اور مذہب میں اگرچہ کوئی بیر نہیں لیکن اگر کوئی روایت روحِ دین سے متصادم ہو رہی ہو تو ضد اور تعصب سے اس روایت پر پہرہ دینا ہرگز درست اقدام نہیں۔ کسی مقامی ثقافتی روایت کو دینی روایت قرار دینا درست نہیں۔ اکثر اوقات ہم اپنی روایت اور ثقافت کو دینی احکام کا متبادل سمجھ لیتے ہیں۔ جب صدیوں تک روایت اور عبادت باہم گھل مل جائیں تو ایسے میں روایت اور اصلِ دین میں فرق قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ فرق کتابوں سے واضح نہیں ہوگا۔ کتاب روحِ دین تک رسائی نہیں دیتی، کتاب‘ نتیجہئ تحقیق ضرورہے‘ منزلِ تقرب ہر گز نہیں۔ تحقیق کا اَوزار اصل کو روایت سے الگ تو کر دے گا لیکن اصل سے وابستگی کی ضمانت نہیں دے سکتا، بلکہ اس محققانہ اصل پر کاربند ہونے والے ایک نئی روایت کی داغ بیل ڈال دیتے ہیں۔ تقلید تحقیق کا راستہ روکتی ہے لیکن تقلید کے الٹ چلنے والے لازم نہیں اصل سے واصل ہو سکیں۔ 

روحِ دین تک رسائی روحِ محبت تک پہنچے بغیر ممکن نہیں۔ دین تو دین دینے والے کی منشا پر چلنے کا نام ہے۔ دین سرتا سر اخلاقِ محمدیؐ ہے۔ جو اِخلاقِ محمدیؐ سے دُور ہے‘وہ باالیقین دین سے دُور ہے…… یہی ایک معیار ہےُ روحِ دین تک پہنچنے کا۔ اِخلاق ایک ذاتی جوہر ہے۔ جملہ اخلاقِ جمیلہ تک پہنچنے کے لیے جمال ذاتؐ تک رسائی درکار ہے…… اوریہ بجز محبت ممکن ہی نہیں۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا شعر نما قول اِس باب میں ایک قولِ فیصل ہے: 

دین کیا ہے، عشقِ احمدؐ کے سوا

دین کا بس اک یہی معیار ہے

عشق و محبت کا اظہار کردار کی صورت میں ہواکرتا ہے۔ بے محل اور بے ترتیب اظہارِ محبت خود محبوب گوارا نہیں کرتا۔ عشق میں انسان اپنے مزاج کی نفی سے گزر کر اپنے محبوب کے مزاج میں ڈھل جاتا ہے۔ 

روایت اور ثقافت کی بات ہو رہی ہے۔ ہماری مقامی روایت اور ثقافت میں اگر عید کے موقع پر مصافحہ، معانقہ اور ایک دوسرے کے گھروں میں دعوتی تقریبات  میں شرکت شامل ہیں ……اور دوسری طرف موجودہ جان لیوا وبا کرونا میں سماجی فاصلے کی ہدایت دی گئی ہے تو دانش مندی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی روایت اور ثقافت پر ضد نہ کریں، اسے دینی احکام کے برابر قرار نہ دیں، بلکہ دین ِ فطرت کے جان بچانے کے حکم کو مقدم رکھیں۔ یہی صورتِ حال تیمار داری کی بابت ہے۔ تیماردار کی تیمار داری اگر بیمار کی بیماری کو بڑھا رہی ہے تو اِس سے گریز کرنا چاہیے۔ تیمارداری جس خالق کے حکم پرکی جاتی ہے‘ اُسی خالق کا دوسرا حکم ہے کہ خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔باجماعت نماز کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا اگر دینی حکم ہے تو اپنی جان بچانا اور دوسرے کی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالنا بھی دین ہی کا حکم ہے۔ کعبہ سے بڑھ کر حرمت کس عبادت گاہ کی ہوگی۔ حکمِ نبویؐ ہے کہ ایک مسلمان کی جان مال اور عزت کی حرمت حرمِ کعبہ سے بھی بڑھ کر ہے۔ حجرِ اسود کو بوسہ دینا افضل ہے لیکن زائرین کو تکلیف سے بچانا افضل تر ہے، اسی لیے ہجوم کی صورت میں حجر ِ اَسود کے دُور ہی سے ہاتھ کے اشارے سے استلام کا حکم دیا گیا ہے۔ اپنے رب کا کون سا حکم کب اور کس وقت زیادہ قابلِ عمل اور قابلِ ستائش ہوگا، اِس ترتیب کا علم صرف ایک مزاج آشنا عبد ہی جانتا ہے۔ پس جو شخص صرف اور صرف اپنے رب کی خوشنودی کے لیے کام کرتا ہے‘اسے اپنے کسی کام کو ترک کرنے پر کوئی عار نہیں، کیونکہ اُس کے پیش ِ نظر خوشنودیئ ذات ہے، اور جو شخص معاشرے میں تعریفی سندیں لینے کے لیے کام کر رہا ہے‘ وہ گویا اپنے رب ہی کے نام پر رب کے کام میں رکاوٹ کا باعث بن رہا ہے۔ وہ محب ہی کیا جو محبوب کا رمز آشنا نہیں۔ قرب مزاج آشنا کرتا ہے۔ مقریینِ حق اپنے مزاج اور منشا کو اپنے محبوب کے مزاج پر قربان کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ 


ای پیپر