لاک ڈاﺅن۔نائی اور عید کی جپھیاں
12 May 2021 2021-05-12

 اِن دنوں لاہور میں سخت لاک ڈاﺅن جاری ہے....حکومت نے گردسری اور دیگرکھانے پینے کی اشیاءکے علاوہ ہرقسم کا کاروبار بندرکھنے کے احکامات جاری کیے ہوئے ہیں۔ بعض جگہوں پر ماسک نہ پہننے والوںکو پولیس زدوکوب بھی کررہی ہے مگرہمارے عوام ہیں کہ ”لاک ڈاﺅن“ کو سنجیدگی سے لے ہی نہیں رہے، رمضان المبارک ہمارے لیے ہرلحاظ سے برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہوتا ہے، لوگ نمازیں روزے تراویح جیسی عبادات میں بھی مصروف ہوتے ہیں مگر تجارت کرتے وقت رمضان المبارک سے قبل ہی ہرشے کے دام بھی بڑھادیئے جاتے ہیں۔ 

چینی تو ان دنوں قطاروں میں لگ کرمل رہی ہے۔ جب سے ہمارے صنعت کار اور خاص طورپر چینی آٹے کی ملوں کے مالکان اسمبلیوں میں بیٹھنے لگے ہیں وہ لوگوں کی ان بنیادی ضروریات کے نرخ جب جی چاہے بڑھا دیتے ہیں۔ حالانکہ ہمارا دیس ایک زرعی ملک ہے مگرآٹا اور چینی عوام کے لیے مہنگے سے مہنگا ہوتا جارہا ہے۔ بات رمضان کی برکتوں کی ہورہی تھی کہ ہم مسلمان بھی کہلواتے ہیں نمازیں پڑھتے ہیں روزے رکھتے ہیں خیراتیں بھی کرتے ہیں مگر رمضان کے ایام میں ہرشخص پیسہ بنانے کی فکر میں بھی ہوتا ہے دوسرے معنوں میں اُسے ”عید“ بنانی ہوتی ہے۔ بازاروں میں لاک ڈاﺅن ہے مگر دکاندار اب بھی شٹر نیچے کرکے ”دھندے“ میں مصروف ہیں۔ اگلے روز ہمارا ایک پڑوسی بازار سے کچھ خریدنے گیا تو اس نے بتایا کہ دکانداروں نے اپنی دکانوں کے آگے کچھ نوجوان کھڑے کررکھے ہیں جو پوچھتے ہیں کہ کیا خریدنا ہے پھروہ اشارے سے کسی دکان کا بتاتے ہیں۔ اور شٹر اوپر کرکے گاہک کو اندر بلالیا جاتا ہے۔ بعض اوقات گاہک کو ضرورت کی شے شٹر کے اندر ہی سے دے کر پیسے کھرے کرلیے جاتے ہیں۔ گویا دکاندار لاک ڈاﺅن میں بھی اپنا راستہ بناتے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ نے پہلے سے اعلان کرکے کہ فلاں تاریخ تک عید کی خریداری کرلیں، لوگوں کو خود بازاروں کی طرف دھکیل دیا تھا سوہرطرف عید کا رش دیدنی تھا۔ اب پچھلے دوروز سے بظاہر تو رش کم ہوچکا ہے مگر دکاندار خفیہ راستوں سے اپنا سودا بیچنے میں مصروف ہیں۔ 

چلیں یہاں تک تو ٹھیک تھا کہ بازاروں کوبند کردیا گیا کہ ہجوم سے کرونا پھیلنے کا اندیشہ تھا۔ (حالانکہ یہ بھی کوئی کلیہ نہیں ہے کہ سب سے زیادہ ہجوم غلہ منڈیوں، سبزی فروٹ منڈیوں بس اڈوں اور اسٹیشنوں پر ہوتا ہے جہاں کوئی ”ایس اوپیز“ کا خیال بھی نہیں رکھا جاتا )۔لیکن حکومت نے درزیوں اور نائیوں کی دکانیں بھی بند کرادی ہیں۔ 

اس کا تجربہ گزشتہ روز ہمیں ہوا۔ اب عید میں تین روز باقی ہیں۔ سوچا کٹنگ کرالی جائے پچھلے دوماہ سے گھروں میں بندہونے کے سبب بال بڑھ چکے تھے، پتہ چلا کہ کٹنگ کرنے والی دکانیں بھی بند ہیں۔ شٹر کے اندر بیٹھ کر بال کٹوانے کا رسک لینے کو بھی جی نہ چاہا۔ لیکن بال ترشوانا بھی ضروری تھے آخر کار اپنے پرانے نائی کو فون کیا۔ بتایا گیا کہ ہے تو لاک ڈاﺅن مگر ہم بچ بچا کر کام کررہے ہیں کہ عید سرپرکھڑی ہے آخر ہم بھی بچوں والے ہیں۔ آپ تشریف لائیں۔ حمام پر پہنچے تو ایک لڑکا باہر بیٹھا ہواتھا جس نے مدعا پوچھا، ہم نے بتایا تو اس نے شٹر اوپرکرایا۔ ماسک پہنے ہوئے کچھ اور لوگ بھی کٹنگ کرارہے تھے بعض انتظار میں تھے۔ 

ہم کچھ دیر بیٹھے مگر دھڑکتے دل کے ساتھ کہ اگرخدانخواستہ پولیس کی وین یا موٹرسائیکل پر ہی دو باوردی جوان آدھمکے تو کیا ہوگا۔ وہاں بیٹھے ہوئے ایک شخص نے بتایا کہ اگلے روز ایسی ہی ایک دکان پر چھاپہ پڑا اور دکاندارکے ساتھ گاہکوں کو بھی دھر لیا گیا اور دودوہزار روپے لے کر چھوڑا گیا۔ ہماری کٹنگ کرنے والے نے ہمیں حوصلہ دیا کہ ایک ڈی ایس پی صاحب اس کے پرانے گاہک ہیں فکر نہ کریں اگرکوئی ایسی بات ہوئی تو وہ آڑے آئیں گے۔ انہوں نے اس علاقے کے تھانے میں ہمارا بتا رکھا ہے۔ کیا کریں بھائی جی اب کاروبار میں اتنا اثررسوخ تو رکھنا پڑتا ہے ورنہ کاروبار کرنا مشکل ہے۔ ایک صاحب کٹنگ کراتے ہوئے مسلسل فون پر گفتگو کررہا تھا۔ مفہوم کچھ ایسا ہی تھا کہ انتظامیہ کو نائیوں اور درزیوں کی دکانیں کھولنے کی اجازت ضرور دینی چاہیے تھی کہ یہ بھی بنیادی ضروریات میں یہاں کتنا ہجوم اکٹھا ہوسکتا ہے؟

کچھ دیر میں صاحب تشریف لائے تو انہوں نے گھر میں کٹنگ کرانے کا وقت لے لیا۔ یہ کوئی بہت سمجھدار آدمی تھا۔ مجھے عطا الحق قاسمی نے گزشتہ برس بتایا تھا کہ انہوں نے کٹنگ کا سارا سامان خود گھر میں خرید رکھا ہے اور نائی کو گھرمیں بلوا کر کٹنگ کراتے ہیں۔ نجانے ہمیں کیوں خیال نہ آیا کہ ہم بھی فون پر کٹنگ کرانے والے کو گھر پر بلوالیتے۔ خیر کفرٹوٹا خداخدا کرکے۔ ہم نے کٹنگ کرالی تو پتہ چلا ریٹ دوگنا بڑھائے ہوئے ہیں علاوہ ازیں عید الگ سے مانگی جارہی ہے۔ 

اب تو چوراہوں پر گداگروں نے بھی ”عیدی“ کی رٹ لگارکھی ہے۔ آپ کسی کو سوپچاس دیں تو مزید کا مطالبہ کرتا ہے۔ کبھی راش ڈلوانے کی بات کرتا ہے۔ یوں لگتا ہے ہرکوئی ”عید“ بنانے کے چکر میں ہے جبکہ حکومت کہتی ہے کہ عید کے روز بھی گھر پر رہو اور فردوس عاشق اعوان نے تو باقاعدہ زور دے کر اعلان کیا ہے کہ جپھیوں اور پپیوں کے بغیر عید منائی جائے۔ اللہ اللہ ۔ 


ای پیپر