کشمیر اور بھارتی سازشیں
12 May 2020 (22:10) 2020-05-12

کشمیر ی حقِ خوداِرادیت کے حصول کے لیے تہتر برس سے قربانیوں کی داستان رقم کر رہے ہیں لیکن مزیدقربانیاں کتنا عرصہ دینا پڑیں گی اور حقِ خوداِرادیت کا مطالبہ کب پورا ہوگا ؟حتمی طورپر کچھ کہنا مشکل ہے کشمیریوں کی تیسری نسل جذبہ حریت کی پاداش میں اپنے ہی خون سے غسل پر مجبور ہے مگر دنیا میں انسانی حقوق کا پر چار کرنے والی قومیں اخلاقی مدد کی بجائے خاموش ہیں بلکہ تلخ سچائی یہ ہے کہ مسلم ممالک نے بھی اپنے فرائض سے پہلو تہی کی ہے اورمفادات کی بنا پر بھارت کے روا رکھے مظالم سے چشم پوشی کر رکھی ہے ایک پاکستان ہے جوبھارتی مظالم بے نقاب کرنے اور کشمیریوں کی اخلاقی و سفارتی مددکرنے کا فرض نبھارہا ہے اسی لیے بھارت کے لیے ناپسندیدہ ہے بجائے اِس کے کہ اپنے کردار پر نظرثانی کرتاپاکستان کے خلاف ریشہ دوانیوں پر اُتر آیا ہے کشمیری گزشتہ برس پانچ اگست سے دنیا کے طویل ترین کرفیو کاسامنا کر نے پر مجبور ہیں مگر مہذب دنیا نے ظلم و بربریت کے خلاف آواز بلند نہیں کی جس سے بھارت کو نہ صرف کشمیریوں کی جانوں سے کھیلنے کا حوصلہ ملا ہے بلکہ پاکستان کے حصے بخرے کرنے کی اعلانیہ باتیں کرنے لگا ہے جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی کُھلی خلاف ورزی ہے۔

تقسیم ِ ہند کے فارمولے کے تحت کشمیر ایک حل طلب مسئلہ ہے جس کی بابت اقوامِ متحدہ نے کئی قرار دادیں پاس کر رکھی ہیں لیکن مشرقی تیموراور دارفر میں جاری شورش ختم کرانے میں جتنی سُرعت سے کام لیا یواین او نے مسئلہ کشمیرکا تصفیہ کرانے میں اُتنی دلچسپی نہیں لی جس کی شاید وجہ یہ ہے کہ مشرقی تیمور اور دارفر کی تحریکیں غیر مسلم تھیں جبکہ مظلوم کشمیریوں کے متعلق وعدوں پر عمل نہیں کیا جارہا کیونکہ کشمیری مسلمان ہیں یہ تفریق یواین او کی غیرجانبداری کی نفی کرتی ہے اسی لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل وادی کشمیر نو ماہ سے دنیا کی سب سے بڑی جیل کی صورت اختیار کر چکا ہے مگر انسانی حقوق کا درس دینے والے ممالک اور تنظیمیں چُپ ہیںحالانکہ کشمیری بس اِتنا چاہتے ہیں کہ اُنھیں اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا جائے لیکن ہنوز کامیابی سے دور ہیں انڈونیشیا اور سوڈان مسلم ممالک ہونے کی بنا تقسیم کردیے گئے جب کہ سب کو پتہ ہے بھارت انتہاپسند غیر مسلم ہے جہاں مسلم اقلیت پر بدترین مظالم ڈھائے جارہے ہیں لیکن دنیا بے حسی کی چادر اُتارنے پر تیار نہیں۔

پاکستان کو اول روز سے بھارت نے صدقِ دل سے قبول نہیں کیا تقسیمِ ہند کے ایک برس کے بعد ہی جب نوزائیدہ مملکت کے باسی قائدِ اعظم کی رحلت کے سوگ میں ڈوبے ہوئے تھے پاکستان سے الحاق کرنے والی تین

ریاستوں پر بزور قبضہ کر لیا اور دسمبر1971 میں باقی ماندہ پاکستان کو بھی دولخت کر دیا علاقے کی بالادست قوت بننے کے لیے جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع کی جس کی وجہ سے پورا خطہ جنگ کے دہانے پر ہے اور کسی وقت بھی معمولی سی لغزش کسی بڑے طوفانی ٹکرائو کا پیش خیمہ بن سکتی ہے دنیا نے اگر کشمیر کا مسلہ جلد حل نہ کیاتو دو جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ کے بادل گہرے ہو سکتے ہیں آزادکشمیر کی سرحدی آبادیاں آئے روز بھارتی جارحیت کانشانہ بن رہی ہیں اور یہ پاکستان کی امن پسندی ہے کہ وہ غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کے جواب میں صبروتحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے اگر بھارت کے بس میں ہوتا تو کب کا ساراخطہ جنگ کی نذر ہوچکا ہوتامگر پاکستان کی امن پسندی کا غلط مطلب لیا جارہا ہے بھارت سے بہتر جنگی صلاحیت کی حامل پاک فوج کسی بھی میدان میں پانسہ پلٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے مگر بھارت کی انتہا پسند قیادت کو شاید مکمل ادراک نہیں۔

بلوچستان میں بھارت کی دہشت گردی کسی سے پوشیدہ نہیں رہی بلوچ قوم پرستوں کو سرحدی علاقوں میں لڑائی کی تربیت دینے اور پاکستان کے خلاف ذہن سازی پر فنڈنگ کے لیے را متحرک ہے کلبھوشن جیسے حاضر سروس کمانڈر کی گرفتاری منہ بولتا ثبوت ہے پاکستانی خفیہ ایجنسیوں جان چکی ہیں کہ بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی را کے چھ سے زائد ایسے گروپوں سے براہ راست روابط ہیں جو پاکستان مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہیں جس کا بھارتی میجر گورو نے میڈیا پر برملا اعتراف بھی کیا ہے اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان روایتی امن پسندی پر نظر ثانی کرتے ہوئے بھارتی ریشہ دوانیوں کو دنیا میں بے نقاب کرنے پر توجہ دے ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث افراد کو نہ صرف دہلی حکومت پناہ دے رہی ہے بلکہ مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرنے کی کوششوں میں مصروف بھارتی حکومت فراریوں کو اپنے ملک کی سفری دستاویزات پاسپورٹ وغیرہ فراہم کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتی بھارتی میڈیا بھی مسلسل پاکستان کے خلاف زہر اُگلنے میں مصروف ہے اِن سازشوں کے توڑ کے لیے وزارتِ خارجہ کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دشمن کی سازشوں کو بین الاقوامی سطح پر بے نقاب کیا جاسکے۔

کشمیریوں کی تحریک فیصلہ کُن فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جس سے بوکھلا کر بھارت نے آگ وخون کا کھیل شروع کر دیا ہے اِس نازک وقت میں پاکستان کی کمزوری یا سُستی سے نہ صرف کشمیریوں کی آزادی کی تحریک متاثر ہوگی بلکہ علاقے کی سُپر طاقت بننے کابھارتی خواب بھی پورا ہو سکتا ہے اِس لیے پاکستان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے بھارتی مظالم بے نقاب کرنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی پر عمل کر نا چاہیے کشمیری رہنمائوں کا تنگ آکربھارتی فوج کا مقابلہ کرنے کا جواب بلوچستان میںدیا جانے لگا ہے قبل ازیں سفارتی ذرائع سے کشمیر کے بدلے کراچی کو الگ کرنے کی دھمکی دی جا چکی ہے ریاض نائیکو کی شہادت کے معرکے میں فوجی آفیسروں کی ہلاکت کا بدلہ بلوچستان میں پاک فوج کے آفیسروں کی شہادت کی صورت میں لیا جا چکا ہے لہذا ضرورت اِس امر کی ہے کہ دشمن کو اُسی زبان میں جواب دیا جائے جو وہ سمجھتا ہے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو موسمی خبر نامے میں شامل کر نا ظاہر کرتا ہے کہ بھارت توسیع پسندانہ عزائم پر کاربند ہے جس کا شافی علاج کرنے کے لیے وزارت ِ خارجہ اور مسلح افواج کومشترکہ لائحہ عمل بنانا چاہیے کنٹرول لائن پر سرحدی خلاف ورزیاں ظاہر کرتی ہیں کہ کسی وقت بھی دشمن شرارت کر سکتا ہے جس کا مقابلہ کرنے اور منہ توڑ جواب دینے کے لیے پاکستان کو تمام وسائل بروئے کار لانے کی ضرورت ہے یادرکھیں اگر مکمل تیاری ہوتو یا تو جنگ نہیں ہوتی اگر جنگ ہو تو کسی صورت میں شکست نہیں ہوتی۔


ای پیپر