وحدت… اور وحدت الوجود!
12 May 2020 (22:10) 2020-05-12

دین کلمۂ وحدت پر قائم ہے۔ ایک خدا کے ماننے والے اِس کائنات میں اُسی کی فرماں روائی تسلیم کرتے ہیں۔ کلمہ ٔ طیبہ‘ کلمہ ٔ وحدت ہے … کلمہ ٔ وحدت کے مانی ‘یزدان اور اہرمن کے قائل نہیں۔ وہ خیر کو یزداں سے ‘اور شر کو اہرمن سے منسوب نہیں کرتے، وہ کسی دوئی کے قائل نہیں۔ وہ مانتے ہیں… اور پھر ماننے چلے جانے کی برکت سے اُن کے شعور میں ایسی وسعت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ ماورائے اسباب بھی جاننے بھی لگتے ہیں …یعنی اُن کا جاننا اَسباب و علل سے ماورا ہو جاتا ہے۔ وہ جان لیتے ہیں کہ اِس کائنات میں ایک ہی ذات کا اَمر جاری و ساری ہے، خیر اور شر اُسی کی خلقت ہیں، نور اور ظلمت دونوں اُسی کے خلق کردہ عوالم ہیں۔ شر کی پروردہ قوتیں اُسی پروردگار کے اِذن سے نقصان پہنچاتی ہیں۔ عالمِ خلق میں آگ اور پانی ایک دوسرے کی ضد ہیں لیکن ایک ہی خالق کے اِذن کے تحت کبھی پانی آگ کو بجھادئے گا اور کبھی آگ پانی کو بھاپ بنا کر اُڑا دے گا۔ وہ ذات جو فرعون کوطاقت ، حکومت اور مہلت دیتی ہے ‘ وہی ذات اُسے نشانِ عبرت بنانے کیلئے انسانوں میں موسیٰؑ اور دریاؤں میں نیل کو مامور کردیتی ہے۔ فرعون کی طاقت بھی ربِ موسی و ہارون ہی کے اِذن کے تحت ہے۔ کوئی مخلوق اپنے خالق کی قدرت و حکمت کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ خالق ہمہ حال اپنی ہر مخلوق پر محیط ہے۔

ماننے سے جاننے کا عمل مشاہدہ ہے۔ صاحبانِ مشاہدہ… اُولی الالباب… بصارت کے ساتھ ساتھ بصیرت رکھنے والے لوگ … سر کی آنکھوں کے علاوہ دل کی آنکھوں سے بھی دیکھتے ہیں… وہ دیکھتے ہیں کہ اُن کے رب نے کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی… اگر نگاہِ حق سے دیکھا جائے تو کچھ بھی باطل نہیں۔ اگر خلق کی نگاہ سے دیکھیں تو حق و باطل کی آویزش دکھائی دیتی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اہلِ مشاہدہ اِس کائنات کو مخلوق کی نگاہ سے نہیں‘ بلکہ خالق کے نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں… تبھی تو پکار اٹھتے ہیں’’ ربنا ما خلقت ھٰذا باطلا‘‘… حق نے باطل پیداہی نہیں کیا۔ بچوں کے ساتھ بچہ بن کر دیکھیں ‘تو بھائی بہنوں میں اختلاف نظر آئے گا، کوئی شریف اور کوئی شرارتی دکھائی دے گا، شریف بمقابلہ شریر بحثیں ہوں گی، دلائل قائم کیے جائیں گے، ماں کی نگاہ سے دیکھیں تو سب اُسی کے ہیں، سارے ہی پیارے ہیں، ماں کی نگاہِ رحمت و ربوبیت میں سب ہی راج دلارے ہیں… اُس کی آنکھ کے تارے ہیں۔

مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں‘ مشاہدے کا بیان مشاہدہ نہیں ہوتا۔ وحدت الوجود کے بارے آپؒ کا کہنا ہے کہ وحدت الوجود علم نہیں‘ مشاہدہ ہے۔ وحدت الوجود کا مشاہدہ کرنا ہر کلمہ گو کا حق ہے۔ ہر کلمہ گو کی ایک قلبی تمنا ہے کہ اُس کا قولی کلمہ بتدریج عملی کلمہ بنے اور پھر مشاہدے کی ایک واردات بنے۔ کلمہ ایک عجب راز ہے ‘یہ کلمہ گو کے اندر ایسا شعور بیدار کر دیتا ہے ‘جسے غیر کلمہ گو نہیں پا سکتا۔ شعر و اَدب کی دنیا میں اِس کی مثال ایسے ہے ‘جیسے ایک شعری ذوق سے متصف شعور غالب و ذوق کا ہمنوا ہوجاتا ہے‘ لیکن کور ذوق‘ غالب کی غزل سرائی کو احمق کی بڑ سے زیادہ تعبیر نہ کر سکے گا۔ کلامِ مجید میں بتادیا گیا کہ شہید کو مردہ تصور نہ کرو‘ یہ زندہ ہیں مگر تم اُن کی زندگی کا شعور نہیں رکھتے … شہید شہادت سے ہے، شہادت مشاہدے سے ملتی ہے۔ عینی شاہدہی شہادت دے سکتا ہے۔ سنی سنائی بات کرنے والا کبھی گواہ نہیں ٹھہرایا جاتا۔ جب تک کوئی عینی شاہد نہ ہو ‘مقدمہ قائم نہیں ہوتا… معرفت کا مقدمہ بھی عینی شاہدوں پر قائم ہے۔

جس آنکھ نے دیکھا ہے تجھے اس آنکھ کو دیکھوں

ہے اِس کے سوا کیا تیرےؐ دیدار کی صورت

مومنین اپنے صاحب کے علم پر یقین کے سبب علم الیقین کی دولت سے بہرہ ور ہوئے، عارفین کے

مشاہدے کی آنکھ کھلی تو انہیں عین الیقین سے اپنا حصہ ملا… قلندر صفت باقی باللہ نے خلق کو حق کی آنکھ سے دیکھا تو واصل بحق ہوا۔ درحقیقت علم عین سے شروع ہوتا ہے… اور میم کی صورت میں مکمل ہوتا ہے۔ مراد یہ کہ کسی بھی علم کا اعتبار مشاہدے کے ساتھ ہے، مشاہدے کے بغیر لائیبریریوں سے اُٹھایا گیا علم تنقید تو دے سکتا ہے‘ تخلیق کا جوہر نہیں دے سکے گا۔ تخلیق اوراس کے مشاہدے کیلئے تخلیق کار کا ہمنوا ہونا لازم ہے۔ اس لیے جو لوگ صاحبانِ مشاہدہ سے تمسک نہیں رکھتے‘ وہ وحدت الوجود کی حقیقت کے شاہد نہیں ہوتے۔

جس طرح ادیبوں کے کام اور کلام کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ اُن کے اوریجنل کام کو دیکھا جائے‘ محض نقادوں کے تبصرے پڑھ کر رائے قائم نہ کر لی جائے ‘ اِسی طرح وحدت الوجود کے متعلق جاننے کیلئے ضروری ہے کہ اہلِ معرفت سے براہ راست کلام کیا جائے، جن کا مشاہدہ ہے ‘ انہی سے سنا جائے۔ صاحبانِ معرفت جب علم الیقین اور عین الیقین کی ریاضت اور عبادت سے گزر کر حق الیقین کی وادی میں متمکن ہوتے ہیں تو اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں…اُن پر یقین سے دُور اور اُن کے علم سے محروم لوگ اِس کے سوا اور کوئی راہ نہیں پاتے کہ اُن پر نقد کریں اور فتاوائے کفر صادر کر دیں۔

وحدت الوجود کے پے در پے مشاہدات کو تاریخ میں پہلی بار قلم بند کرنے کا شرف شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ کو حاصل ہوا، وحدت الوجود کے دَرک کیلئے، یا کم از کم اِس کا علمی ذائقہ چکھنے کیلئے ہمیں شیخ اکبر کے پاس جانا ہوگا !! اپنے علم پراندھا دھند بھروسہ کچھ دیر کیلئے چھوڑنا پڑتا …کسی صاحبِ علم پر بھروسہ کرنا پڑتا… کسی نئے زاویہ علم سے روشناس ہونے کیلئے!!مشاہدے کیلیے لازم ہے کہ اُس کی آنکھ میں دیکھا جائے یا اُس کی آنکھ سے دیکھا جائے۔

خیر اور شر سے بلند ایک فصیل ہے‘ جسے مقامِ اَعراف کہتے ہیں… اَعراف پر متمکن عارفین نے دیکھا کہ دونوں طرف کی قوتیں ایک ہی ذات کے اذن سے مصروف عمل ہیں… یہ دیکھ کر انہوں نے دبے لفظوں میں کہا کہ دونوں فوجیں سرکاری ہیں۔ چت بھی اُس کی پت اُس کی… اُس کا منصوبہ ہر حال میں مکمل ہے۔ کبھی وہ نور کو پردۂ غیب میں لے جاتا ہے اور ظلمت کو نمایاں ہونے کا موقع دیتا ہے ، کبھی ظلمت کوسوئے عدم لے جاتاہے اور نور کو مشہود کرتا ہے۔ بہرحال دن اور رات کی طرح انسانوں اور قوموں کے درمیان ایام کا اُلٹ پھیر اسی کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ وہ ایک طرف شیر میں گوشت خوری کی سرشت پیدا کرتا اور دوسری طرف آہو کے گوشت پر پوست چڑھاتا ہے۔ وہ ایک ہے… ایک ہی ہے… وہ دوئی سے پاک ہے…اس کے عارف کی نگاہ بھی دوئی سے پاک ہوتی ہے۔ دوئی سے پاک آنکھ خلق میں دوئی نہیں دیکھ پاتی ۔ یکسوئی میں محوہونے کے سبب بسا اوقات اُس سے نصاب کے تقاضے فراموش ہو جاتے ہیں۔ نصاب کے پیمانوں میں تولنے والے اُسے خسارے میں تولتے ہیں ، وہ اُس کے بیان کا تجزیہ کرتے ہیں، کہیں غلط گمان کرتے ہیں، کہیں اپنے گمان میں درست ہوتے ہیں۔

وحدت الوجود کا بیان جب بھی نشر ہوا ، خیر والوں کی طرف سے ہوا، نور کے سائبان میں محفوظ لوگوں نے ہی اسے بیان کیا۔ شر کے کیمپ میں پناہ گزین‘ وحدت الوجود کے شعور سے کوسوں دُور ہیں۔ اسلئے اہل ِ نصاب خاطر جمع رکھیں‘ وحدت الوجود کا بیان خیر و شر کو باہم خلط ملط نہیں کرنے کا۔ خالق اور مخلوق کہیں حلول نہیں کرتے۔ وحدت الوجود… بیانِ توحید ہے۔ یہاں حلول، اشتمال ، اتصال اور اشتراک کے تصورات شرک کی ذیل میں آتے ہیں۔ اس تفہیم توحید کو قلمبند کرنے والے شیخ ِ اکبرؒ بنیادی اصول طے کر دیتے ہیں کہ بندہ‘ بندہ رہے گا خواہ کتنا بھی عروج کرے‘ اور رب رب رہے گا ‘خواہ کتنا ہی نزول کرے۔ اُس ذات نے جب بھی مکالمہ کیا‘ اہلِ نور سے کیا، شر والوں سے وہ مخاطب ہی نہیں ہوتا۔ شر کے مکین اپنے گمان کی آواز کو حقیقت پر گمان کرتے ہیں۔’’ انا ربکم الاعلیٰ ‘‘اور’’ سبحان ربی الاعلیٰ‘‘میں فرق تواہلِ ظاہر بھی جانتے ہیں۔مومن کی شانِ فراست ہے کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے… نور کو نور سے دیکھنے والے کلام اور الہام دونوں سنتے ہیں… اور بالیقین سنتے ہیں… علم الیقین والے کتاب سے پہلے کتاب والےؐ پر یقین رکھتے ہیں… وہ ذات کو بالذات جانتے ہیں، اُن کی معرفت کا وسیلہ انسان ہے …اور انسان اُس کا نائب ہے، خلیفہ ہے۔

زندگی اور موت کی تخلیق کی طرح خیرا ور شر کی تخلیق بھی انسان ایسی صاحب ِ اختیار مخلوق کا ظرف آزمانے کیلئے ہے۔ وحدت الوجود جزا اور سزا کے قانون کو معطل نہیں کرتا۔ اِذن اور اَمر میں فرق ہے۔شر کو اِذن حاصل ہے کہ وہ اَسباب کی دنیا میں خیر کو زیر کر سکتا ہے لیکن اُس نے اپنے اُولی الامر کے ذریعے انسان کو خیرکا راستہ اِختیار کرنے کا اَمر دے رکھا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون اُس کے اَمر کی تعمیل میں خود کو مصروفِ مجاہدہ کرتا ہے‘ اور کون کج بحث اپنی گمراہی کو اُس کے اِذن سے منسوب کرکے اطاعت سے راہِ فرار اختیار کرتا ہے۔

بہرطور وحدت الوجود کوئی تعلیم نہیں، کوئی تعلیمی نصاب نہیں،ترتیب میں آنے والا بیان نہیں، بلکہ عشقِ حقیقی کے کیف میں ڈوبی ہوئی مشاہدے کی ایک داستان ہے۔ عشق کی طرح اِس کے بارے میں بھی کہا جا سکتا ہے ‘جو تن لاگے ، سو تن جانے!!

وحدت الوجود’’ اللہ نور السمٰوات‘‘ کی مشاہداتی تفہیم ہے۔’’ لاالٰہ الا اللہ ‘‘کی تفہیم مزید’’ لامقصود الا اللہ ‘‘… اور مطلوب …’’لاموجود الااللہ‘‘!!


ای پیپر