مطالعے اور کتابوں کی دنیا…!
12 May 2020 (22:09) 2020-05-12

ذکر مطالعے اور مختلف ادوار میں انتہائی شیفتگی اور وارفتگی کے عالم میں پڑھی جانے والی بعض اہم تصانیف ، کتب ، جرائد و رسائل اور ان کے مصنفین ، مولفین اور مرتبین کا ہو رہا تھا۔ یہ پچھلی صدی کی 70کی دہائی کے درمیانی برسوں کی بات ہے کہ اس دور کے مشہور بیوروکریٹ اور انتہائی نیک نام افسر محترم مختار مسعود کی شہرہِ آفاق اور انتہائی قابلِ قدر تصنیف "آوازِ دوست" جو انہی دنوں منصئہ شہود پر آئی تھی مجھے پڑھنے کو ملی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ملک میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت تھی۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے زخم تازہ تھے اور بھٹو صاحب کی بعض پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں ایک طرح کی جبر اور گھٹن کی فضا ہی نہیں چھائی ہوئی تھی بلکہ ملک کی نظریاتی اساس کو بھی زک پہنچ رہی تھی۔ ایسے میں "آوازِ دوست" کے دونوں طویل مضامین "مینارِ پاکستان" اور" قحط الرجال" میں پاکستان کی ماضی قریب کی تاریخ ، تحریکِ پاکستان کے مشاہیر اور قیامِ پاکستان کے دوران دی جانے والی قربانیوں اور جدوجہد کا تذکرہ پڑھ کر ایک طرح کا سکون ملا تھا۔ "آوازِ دوست" بہت عرصہ میرے زیرِ مطالعہ رہی۔ اس میں بیان کیے گئے بعض حالات و واقعات ،مشاہیر کے بارے میں محترم مختار مسعود کے خیالات اور بعض سے ان کی ملاقاتوں کے احوال بالخصوص مشہور خطیب ، عالمِ دین اور مجلسِ احرار کے راہنما سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے ملتان میں جب مختار مسعود وہاں ڈپٹی کمشنر تھے سے ملاقات کا احوال میرے ذہن کے نہاں خانے میں اب بھی محفوظ ہے ۔ سچی بات ہے کہ "آوازِ دوست" کے اسی طرح کے مندرجات سے بعد ازاں انٹرمیڈیٹ کلاسز کو پڑھاتے ہوئے مجھے اپنی تدریس کو زیادہ موثر، خوبصورت اور دلچسپ بنانے اور طلباء و طا لبات کی سوچ و فکر میں بعض مثبت کو پہلووں کو اجاگر کرنے میں بھی خاصی مدد ملتی رہی۔

محترم مختار مسعود کی دوسری تصانیف ،" سفر نصیب"، "لوح ایام"اور "حرفِ شوق" بھی میں نے بڑے ذوق و شوق سے پڑھ رکھی ہیں۔ "سفر نصیب"پچھلی صدی کی 80کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں اور" لوح ایام" بعد کے برسوں میں لکھی گئی۔ "سفر نصیب"اور"لوح ایام" کو پڑھے عرصہ بیت چکا ہے۔ "حرفِ شوق" تین سال قبل محترم مختار مسعود کی وفات کے کچھ ہی عرصہ بعد شائع ہوئی۔ اس کے بارے میں چند ماہ قبل تین قسطوں میں میرے کالم چھپ چکے ہیں۔ "لوح ایام" انقلاب ایران کے پس منظر اور پیش منظر کے تناظر میں لکھی جانے والی محترم مختار مسعود کی ایک خوبصورت تصنیف ہے جسے ایک خاص دور کے حوالے سے ان کی آپ بیتی یا ایک طرح کا رپوژتاژ بھی کہا جا سکتا ہے۔ محترم مختار مسعود سینئر اور انتہائی قابلِ بیوروکریٹ ہونے کے ناطے پاکستان،

ایران اور ترکی کے درمیان اس وقت قائم تنظیم آر۔سی۔ڈی کے سیکرٹری جنرل کے طور پر ایران کے دارالحکومت تہران میں قائم آر ۔سی۔ڈی کے مرکزی سیکرٹیریٹ میں تعینات تھے۔ یہ پچھلی صدی کی 70کی دہائی کے آخری برسوں (1978-1980)کا وہی زمانہ تھا جب شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے خلاف احتجاج اور پر تشدد ہنگامے اس حد تک زور پکڑ چکے تھے کہ شاہ کو اپنا تخت اور حکمرانی چھوڑ کر مصر کے سابق صدر اور ڈکٹیٹر انور السادات ) جو بعد میں اپنے ہی ایک فوجی کے ہاتھوں قتل ہوئے( کے ہاں پناہ لینی پڑی تھی۔ ایران کے مذہبی پیشوا اور داعی انقلاب محترم آیت اللہ خمینی فرانس میں اپنی جلاوطنی ترک کرکے تہران کے ہوائی اڈے پر اُترے تو لاکھوں پر مشتمل پرجوش استقبالی ہجوم ان کی پذیرائی کے لیے موجود تھا۔امام خمینی کے پرجوش پیروکار اور انقلاب کے داعی جو " سپاہِ پاسدارانِ انقلاب"کے نام سے جانے جاتے تھے، اسلحے سے لیس تہران کی سڑکوں پر پھرتے تھے اور انہیں کسی بھی فرد کو انقلاب دشمن قرار دے کر اس کی گردن زدنی کی کھلی آزادی تھی۔ محترم مختار مسعود نے بھی "لوح امام"میں ایک واقعے کا ذکر کیا ہے کہ کیسے وہ تہران کی سڑکوں پر " سپاہِ پاسدارانِ انقلاب"کا نشانہ بنتے بنتے بچ گئے۔

محترم مختار مسعود اور ان کی تصانیف کا تذکرہ کافی طویل ہو سکتا ہے۔ لیکن اس سے اجتناب کرتے ہوئے میں ایک اور انتہائی صاحب درد اور خاموش طبع شخصیت اور حالات و واقعات کی گہرائی میں ڈوب کر لکھنے والی ادیبہ محترمہ الطاف فاطمہ جو لاہور کے کسی قبرستان میں آسودہ خاک ہو چکی ہیں کی تصانیف بالخصوص ان کے ناول " چلتا مسافر " کے بارے میں لکھنا چاہوں گا۔ محترمہ الطاف فاطمہ لاہور کے کسی گرلز کالج )غالباً اسلامیہ کالج کوپر روڈ( میں اُردو کی پروفیسر تھیں۔ انہوں نے ایک سے زیادہ ناول لکھے جن میں متحدہ ہندوستان کے صوبوں یو۔پی اور سی۔پی)بہار پٹنہ( کے علاقوں اور قصبات میں آباد جاگیرداری اور انگریزوں کی ملازمت کا پس منظر رکھنے والے کچھ مسلمان گھرانوں کے طرز معاشرت، ان کے رہن سہن ، تحریک پاکستان میں ان کے ملے جلے کردار اور ہندوستان کی تقسیم کے بارے میں ایک ہی گھر کے افراد کی متضاد سوچ و فکر کا بڑے خوبصورت انداز میں ذکر کیا ہے۔ یہی کچھ انداز مشہور ادیبہ اور ناول نگار محترمہ خدیجہ مستور مرحومہ کے " آدم جی" ایوارڈ یافتہ ناول "آنگن" میں بھی ملتا ہے۔ تاہم الطاف فاطمہ کے ناولوں بالخصوص ـ"چلتا مسافر" میں جو دردمندی ، تحریک پاکستان کا پس منظر اور پاکستان سے محبت ابھارنے کا جو جذبہ اور بہار سے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان جانے والوں کو مشرقی پاکستان کو اپنا وطن بنانے میں "فرزند زمین" (Son of Soil) نہ ہونے کی وجہ سے جو ناکامی اور مشکلات سے دو چار ہونا پڑا اس کا تذکرہ ایسا ہے اور دردمندی سے بھرا ہوا ہے کہ اس کی مثال شاید اور کہیں نہ ملے۔

ـ"چلتا مسافر" میں نے پتہ نہیں کتنی بار پڑھا ہے۔ ایک زمانے میں ) بالکل سچی بات ہے ( یہ ناول میرے سرہانے دھرا رہتا تھا۔ ملکی حالات یا کسی اور وجہ سے میرا دل اُداس یا بوجھل پن کا شکار ہوتا تھا تو میں اس ناول کے مخصوص حصے پڑھ لیا کرتا تھا اور دل کا غبار آنکھوں میں تیرنے والی نمی کی صورت میں دور ہو جاتا تھا۔ ـ"چلتا مسافر" میں ایک بہاری مسلمان گھرانے کا ذکر ہے جو قیامِ پاکستان کے وقت بہار سے ہجرت کرکے ڈھاکہ )مشرقی پاکستان(میں جاکر آباد ہو گیا۔ اس گھرانے کے سربراہ سید مزمل اپنے علم و دانش ، اپنی ٹھوس فکر و سوچ اور اپنی خوبصورت عادات کی بنا ء پر اپنے احباب اور اپنے بھتیجے سید مدثر کے ہم جماعتوں اور ساتھیوں جن کی اکثریت بنگالیوں پر مشتمل تھی میں کافی مقبول ، معروف اور ہر دل عزیز تھے۔ اس طرح اس خاندان کے ڈھاکہ میں بنگالی گھرانوں سے دوستیاں اور قریبی مراسم قائم ہوئے۔ تقریباً دو عشرے ایسے ہی گزر گئے۔ پھر مشرقی پاکستان میں ایک مخصوص سیاسی جماعت نے پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکا کر بنگلہ دیش کے قیام کے نام سے علیحدگی کی تحریک کو ہوا دی۔ آزاد بنگلہ دیش کے قیام کی خون ریز تحریک کامیابی سے اس طرح ہمکنار ہوئی کہ پاکستان دو لخت ہو گیا۔ ڈھاکہ میں آباد بہاریوں کو "فرزند زمین" (Son of Soil) نہ ہونے کی بنا ء پر بنگلہ دیش کے شہری تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ اس طرح ڈھاکہ کے محمد پور کے مہاجر کیمپ میں پناہ لینا بہاری مسلمانوں کا مقدر ٹھہرا۔ محترمہ الطاف فاطمہ نے ان حالات و واقعات کی اپنے ناول میں جس دردمندی سے عکاسی کی ہے اس کو پڑھ کر پاکستان کی محبت میں ہی اضافہ نہیں ہوتا، بہاری مسلمانوں سے ہمدردی بھی پیدا ہوتی ہے۔ محترمہ الطاف فاطمہ نے اپنے ناول کا اختتام سید مدثر کے ڈھاکہ کے مہاجر کیمپ سے نیپال کے راستے پاکستان پہنچنے اور اس کے لیے سید مزمل کے ایک بنگالی عقیدت مند جو شدت پسند بنگالی نتظیم مکتی بانی کا بھی سرگرم رکن تھا کی مدد اور تعاون کا ذکر کیا ہے۔ بلا شبہ یہ سارا تذکرہ دل پر اثر کرنے والا ہے۔سید مدثر پاکستان پہنچا تو حویلیاں کے قریب بہاریوں کے لیے قائم کیمپ اس کا مستقر ٹھہرا۔ اس طرح "چلتا مسافر" کا جو سفر بہار سے شروع ہو کر ڈھاکہ اور پھر وہاں سے پاکستان تک پہنچنا ابھی تک ادھورا ہے۔ آخر میں محترم مختار مسعود کی کتاب "آوازِدوست" کی ابتداء میں لکھا ہوا مولانا رومی ؒ کا یہ شعر لکھنے کو جی چاہ رہا ہے۔

خشک مغز و خشک تاز و خشک پوست

از کجا می آید، ایں آوازِ دوست


ای پیپر