بلاول بھٹو کا شاہ محمود قریشی سے استعفیٰ کا مطالبہ
12 May 2020 (21:23) 2020-05-12

اسلام آباد:پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہ محمود قریشی سینیٹ میں دیا گیا بیان واپس لیں ورنا استعفیٰ دیں، شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی یا وزیراعظم کا نہیں اپنا سیاسی لوہا منوانے کی بات کررہے ہیں،وفاقی وزیر ہمیں مجبورنہ کریں کہ ہم پھر کہیں کس نے آپ کووزیراعظم بننے کا خواب دکھایا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ آج نرسزکاعالمی دن ہے،نرسزاور ڈاکٹرزکوسلام پیش کرتے ہیں، ہیلتھ ورکرزآپ کی صحت کیلئے اپنی صحت خطرے میں ڈال رہے ہیں،موجودہ صورتحال میں ہیلتھ ورکرزفرنٹ لائن پرکام کررہے ہیں،ہیلتھ ورکرزکاتحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے،وفاقی حکومت شعبہ صحت کوبھی ریلیف فراہم کرے۔اگر ہم عالمی وبا کے دوران تعمیراتی شعبے اور ریئل اسٹیٹ کو ریلیف پہنچا سکتے ہیں تو وفاقی حکومت ذمے داری اٹھاتے ہوئے طبی عملے اور نظام صحت کو بھی ریلیف فراہم کرے۔ حکومت ہمارے فرنٹ لائن پر موجود طبی عملے کو تمام تر حفاظتی سامان کی فراہمی کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر بھی تحفظ دینے کے لیے اقدامات کرے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے پتہ ہے کون شاہ محمود قریشی کو تحریک انصاف میں لے کر گیا،وفاقی حکومت ہرموقع پرسیاست کرتی ہے کام نہیں کرتی،ہم قومی یکجہتی کی بات کررہے ہیں مگرآپ سیاسی لوہامنوانیکی بات کررہے ہیں، شوگر کا تماشا ہی رہے گا، یہ اپنے مخالفین کو کھینچنا جانتے ہیں، ان کوکوئی دلچسپی نہیں کہ انصاف ہو،ہم شوگر ڈرامے کو بے نقاب کریں گے، ٹڈی دل کے حملوں کے سبب پاکستان میں فوڈ سیکیورٹی کا بڑا خطرہ پیدا ہو گیا،،ٹڈی دل پاکستان کی معیشت اورزراعت کیلئے بڑامسئلہ ہے،اس سلسلے میں وفاقی حکومت کو اپنی ذمے داری ادا کرے،وزیراعظم نے کسی غریب آدمی کو کچھ نہیں دیا،حکومتی پیکج سے صرف انیل مسرت جیسے لوگوں کو فائدہ ہوا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ میں ابھی کنٹریکٹ پر بھرتیاں کر رہے ہیں لیکن سندھ حکومت کی کوشش ہو گی کہ وبا کے دوران کنٹریکٹ پر جن ملازمین کو بھرتی کیا جائے گا انہیں مستقل کیا جائے اور سب کو رسک الاؤنس دیا جائے گا اور امید ظاہر کی کہ تمام صوبے اسی طرح کے اقدامات اٹھائیں گے۔ ہم وبا سے معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کی بات کرتے ہیں لیکن میں آج خصوصی طور پر فوڈ سیکیورٹی پر بات کرنا چاہ رہا تھا جو اس وقت دنیا بھر میں تمام تر حکومتوں اور ریاستوں کے لیے ایک مسئلہ اور چیلنج بنا ہوا ہے۔


ای پیپر