سیاست میں عدم اعتماد کا رجحان
12 May 2020 (18:45) 2020-05-12

تمام بنی نوع انسان لاتعداد اور نہایت پیچیدہ احساسات کے مالک ہیں ۔مثلاً محبت، نفرت، خوشی اور غم، یاس و امید ، عزم اور تصور کرنے کی صلاحیت ، خوشی، مسرت اور اداسی وغیرہ۔ ہم کسی کو پسند کرتے ہیں اور کسی کو مسترد کر دیتے ہیں ۔تعریف کرتے ہیں یا پھر پرواہ نہیں کرتے۔ خوف میں مبتلا ہو تے ہیں جبکہ بہادری اور جذبے کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔ ہم پچھتاتے ہیں اورکچھ چیزوں کے لئے بے تاب ہو جاتے ہیں ۔اگر ہم ڈکشنری میں دیکھیں تو انسانی محسوسات کے لئے ایسے سیکڑوں الفاظ موجود پائیں گے۔مزید برآں یہ کہ ہم سب ایک ہی انداز میں محسوس نہیں کرتے۔ہمارے چہار اطراف کیا ہو رہا ہے ہم اس کی طرف راغب ہو سکتے ہیں ۔مخلوقات کی پیداوار کا عمل اور خوبصورتی ہمیں سیکھنے، سمجھنے اور تقابلی جائزہ لینے حتیٰ کہ اس کائنات کے خالق کی کارہ گری پر مکمل یقین کو اور مضبوط کر سکتی ہے۔اس کی عبادت اور اس کے احکامات کی بجا آوری ہماری اخلاقی اور روحانی تکمیل کا سبب بنتی ہے۔ ہم ان تمام مظاہر کو ایک باشعور روح کی کارستانی کے علاوہ کوئی اور نام کس طرح دے سکتے ہیں ۔کیا ہم دماغ میں واقع ہونے والے بائیو کیمیکل نظام کو اس تمام کے ہونے کا سبب قرار دے سکتے ہیں ؟ ہم ننھے منے ایٹم کی دنیا کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں بجلی جیسی قوت حاصل ہوتی ہے۔بے شک ہم اسے دیکھ نہیں سکتے مگر ہم اس کے مظاہر سے اس کے وجود اور طاقت پر مکمل یقین رکھتے ہیں ۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ زندگی کا وجود صرف اسی دنیا تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ دنیا تو زندگی کا ایک نظر آنے والا غیر مستحکم منظر ہے جو کبھی بھی ختم ہو سکتا ہے۔اس کے پیچھے خالص اور حقیقی نظارہ گاہ موجود ہے جہاں مادہ کو دیکھا اور مانا بھی جا سکتا ہے۔چونکہ روح کا تعلق بھی اسی عالم سے ہے اس لئے روح خالص بھی ہے اور ہماری نگاہوں سے اوجھل بھی رہتی ہے۔روح کی موجودگی کے ثبوت میں دی گئی دلیل اس خالق کے وجود کی حقیقت کے بارے میں اس طرح اشارہ دیتی ہے جس طرح ہمارا جسم ، جسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مختلف عناصر سے پیدا کیا ، روح کا طلبگار ہے جو اسے حکم دے کر چلائے۔یہ کائنات بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طلب گار ہے کہ وہ اسے تخلیق کرے اور اپنے احکامات کے ذریعے نظام کائنات کو چلائے۔ہر جسم ایک روح کے تابع ہے جو اسے زندہ رکھتی ہے اور اس پر اپنے احکامات صادر کرتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ بھی ایک ہی ہونا چاہیئے، جس کا کوئی شریک کوئی ثانی نہ ہو۔جو کائنات پر حکم صادر فرمائے اور نظام کائنات چلائے۔وگرنہ دوسری صورت میں نتیجہ تو صرف تباہی اور بربادی ہو گا۔ ہمارے ملک کے سیاسی فلسفہ کی بنیاد انسانی اقدارسے

ہٹ کر ہے۔روائتی سوچ سے بالکل مختلف ۔جو چیزیں اور جو طریقہ کار انسانیت کی تعمیر میں منفی کردار ادا کرتی ہیں سیاسی کھیل میں وہ سارے رویے وہ ساری سوچیں اور وہ سارے عمل ہمارے سیاست دان بننے کی بنیادی قابلیت ہیں ۔اس میں صرف ایک ہی نظریہ چلتا ہے کہ اقتدار کے حصول کے لئے کونسا راستہ اختیار کیا جائے کہ منزل مل جائے۔ویسے تو ہر کھیل کا بنیادی فلسفہ اسی اصول کے گرد گھومتا ہے لیکن سیاست کے کھیل میں جذبہ ٔ خدمت کا اصول بنیادی نقطہ ہے۔بدقسمتی سے ہماری سیاست میں حصول اقتدار کے لئے کوئی اخلاقی حدود و قیود نہیں ۔جھوٹ مکاری، فریب اور دھوکہ دہی میں کوئی مضائیقہ نہیں ۔کسی کی غلط سوچ اس میں رکاوٹ نہیں۔ سیاست دان کے لئے کسی کے غلط اور ناجائز کاموں میں انکار نہیں ۔اور اگر مخالف کی طرف سے یا کسی اہلکار کی طرف سے درست رویہ اور قانون کی پاسداری کا احساس ہو تو وہ شخص ناقابلِ قبول بھی ہے اور راستے کی رکاوٹ بھی۔سطحی فکر کا عمل دخل حاوی، جہاں دیکھو اقتدار کی رسہ کشی، ہر وقت اور ہر سطح پر دوسروں کی ٹانگیں کھینچنے اور کھچوانے کے طریقے، کوئی میرٹ نہیں ، نہ کسی کام میں اہمیت اور ضرورت کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔بلکہ فیصلہ کرنے میں شخصیت کی خواہش کو اہمیت دی جاتی ہے خواہ اس کا فائدہ کسی ایک ذات کو ہی کیوں نہ ہو۔پارٹیاں مفادات کی رو میں بدلی جاتی ہیں ۔اقتدار کے حصول کے لئے بدلی جاتی ہیں ۔اپنے تحفظ اور اثاثوں کو برقرار رکھنے کے لئے بدلی جاتی ہیں ۔منشور کو کوئی اہمیت حاصل نہیں ۔وہ صرف نمائشی اور اشاعت کے لئے لکھے جاتے ہیں ۔ان پر قطعاًنہ عمل کیا جاتا ہے اور نہ وہ اخلاقی پابندی کا موجب بنتے ہیں ۔اقتدار مل جائے تو اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت کا احساس نہیں ہوتا۔ اس کی دی ہوئی ذمہ داریوں کی فکر نہیں ہوتی۔عاجزی اور انکساری سے گردن جھکنے کی بجائے اکڑ جاتی ہے اور تکبر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔خوف خدا مٹ جاتا ہے۔سوچ کا زاویہ بدل جاتا ہے۔ رویوں کا رخ الٹ جاتا ہے اور جب اپنی بد اعمالیوں اورخود غرضیوں سے اقتدار چھن جائے تو اس ذات پاک کی گرفت آنکھوں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔اپنے ساتھ ناانصافی کے نعرے دوسروں کی شکایات زیر نظر ہوتی ہیں ۔پھر حصول اقتدار میں رویوں کی اس قدر شدت کا احساس کہ مخالفت کی رو میں ملکی مفادات اور سا لمیت کے احساس سے غافل نظر آتے ہیں ۔جو منہ میں آیا نکالتے گئے۔نہ وطن کے تحفظ کا احساس ، نہ ملکی مفاد کی فکر، جس آواز سے وطن کے دشمن خوش ہوں اسی زبان کو اختیار کرنا اپنا فرض سمجھا۔اپنی پہچان کے لئے ملکی سلامتی کے تقاضے بے معنی ، اپنی انا کے لئے قومی تشخص اور سوچ کے زاویے بے مقصد ہیں ۔حصول اقتدار کے لئے بیرونی آقاؤں کی داد کے طالب ، اقتدار کے حصول میں غیروں کی آشیر باد اور امداد کے طالب اور جب اقتدار مل گیا تو ملکی مفاد کے فیصلے غیروں کی خواہشات کے تحت کرنے کے پابند لوگ اپنے انجام کو پہچاننے کی کوشش کریں ۔دنیا کی تاریخ کو اٹھائیں اور اس سے وہ اوراق تلاش کریں جو ان پر تعزیراتی شکل میں نمودار ہوتے ہیں ۔انسانی چیرہ دستیوں میں جب اللہ کی گرفت نمودار ہوتی ہے تو تمام سوچیں ، تمام منصوبے ، تمام ارادے اور تمام جدوجہد کے اثرات سلاخوں کے پیچھے بھی لے جا سکتے ہیں۔بے شک دنیاوی سامان پیدا کرنے میں آپ نے بڑی چابک دستی سے کام کیا۔اپنے معتمد لوگوں کو آلہ کار بنایا۔ثبوت کے تمام نشان مٹائے۔جانچ پڑتال کے تمام راستے بند کئے۔ دنیاوی سامان پیدا کرنے اور دنیا کا نمبر ون بننے کے تمام اسباب مکمل کئے۔لیکن جس وطن کے مزدوروں اور محنت کشوں کے خون پسینے کی کمائی سے محلات کی تعمیر اور رہنے کے لئے سامان پیدا کئے ان کی آہوں کے اثرات سے شاید آپکی آنکھوں کی چربی نہیں پگھلی ورنہ انجام تو سامنے ہے۔کسی کٹیا کی بنیادوں سے تباہی اس قدر عبرت ناک نہیں ہوتی جتنی ایک محل کی چار دیواری کا کونہ تعزیراتی عمل سے گر ا دیا جائے۔


ای پیپر