بنام وزیراعظم
12 May 2020 (18:43) 2020-05-12

میں نے 2008ء سے باقاعدہ لکھنا شروع کیا۔ افسانے لکھنے، ڈرامے لکھے، فلم لکھی پھر 2009ء سے باقاعدہ کالم نگاری شروع کر دی۔ سرکاری نوکری میں ہوتے ہوئے وقت کے حکمرانوں کے خلاف کلمۂ حق لکھا۔ حرف کو موت نہیں میرے کالم گواہ ہیں تاریخیں موجود ہیں۔ ہمارے وطن عزیز کی حاکمیت کے تعین کا بڑا مسئلہ ہے۔ سادہ لوح یا متعصب لوگوں کی نظر میں بڑے حق پرست بن جاتے ہیں کہ حکومت وقت کے خلاف لکھ رہیں حالانکہ وہ وقت اس کی حاکمیت کا نہیں ہوتا۔ جیسے کہنے کو زرداری تھا مگر گیلانی خوب کھیلے اور جن کے ایماء پر کھیلے اس وقت احساس نہ ہوا، جسٹس افتخار محمد چوہدری اور بعد میں ثاقب نثار نے وطن عزیز کے عدالتی نظام کے ساتھ جو کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ عدلیہ، حکومت اور اگر فوجی حکومت ہو تو ڈکٹیٹر حکمران پر سب کی نظر ہوتی ہے مگر ڈکٹیٹر کے لیے 10، 3، 11، 9 سال کے لئے براہ راست آئے جمہوری حکومت ساڑھے 5سال، 20 ماہ، پونے تین سال، تین سال یا اب 2002 سے ملے جلے رجحان کے ساتھ رو دھو کر 5 سال کے لئے آئیں مگر جو مکمل لڑائی اور بہت محدود اختیارات کے ساتھ، پیپلزپارٹی کو کبھی مکمل اقتدار ملا ہی نہیں اور یہ حقیقت سب جانتے ہیں۔ اب اس میں اگر کوئی سوال اٹھائے تو جواب اس کو اس کا ضمیر دے دے گا۔ پیپلزپارٹی کو تباہ کرنے کے لیے ملک کے تمام وسائل جھونک دیئے گئے۔ سول بیورو کریسی جو دراصل اس ملک کا اصل روگ ہے اس کی طرف کسی نے کبھی بات نہیں کی جب تک کہ ذاتی مخاصمت اور پر خاش نہ ہو۔ جو 24 گھنٹے میں 48 گھنٹے سوچوں سے عمل تک کرپشن میں دھنسے پڑے ہیں انہیں آٹے، سبزی، گوشت، کپڑے ، ضروریات زندگی کا بھاؤ معلوم نہیں ہوتا۔ ان کے تو پورے پورے گھر لوگ تعمیر کروا دیتے ہیں، گھر تحفے میں ملتے ہیں۔ بچوں کی شادیاں بھی نفع میں پڑتی ہیں۔

تاریخ میں ایوب خان کو بھرپور موقع ملا کہ وہ بہتری کرتے مگر ان کی حکمرانی کی ہنڈیا کا ڈھکن اٹھا تو ملک دو لخت ہونے کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا تھا۔ یحییٰ خان کی داستانیں اب تاریخ ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو جزوی موقع ملا کیونکہ ملک کی اشرافیہ، ملاں، عدلیہ، بیورو کریسی ، امریکہ اندرونی اور بیرونی اسٹیبلشمنٹ ان کے خلاف تھی وہ اتنا کچھ دے گئے کہ جو کہتے ہیں نہ کہ آج بھی بھٹو زندہ ہے وہ ملک کی خدمات کے لیے اور قربانیوں کی وجہ سے زندہ رہیں گے۔ آئین، ختم نبوت کا تاریخی فیصلہ، امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم، عوام کو شعور، پاسپورٹ ، تعلیم، معیار زندگی بلند، افواج پاکستان اور وطن عزیز کی تعمیر نو، سٹیل ملز ، زرعی اصلاحات ، معاشی اصلاحات، مزدور دوست، غریب نواز اصلاحات، خارجہ امور میں کامیابی اور دنیا کی تاریخ میں فرعون کے بعد مع لشکر غرق ہونے والے ڈکٹیٹر کے سامنے حسینیت کا علم پکڑے سولی پر چڑھ جانا۔ ان کے بعد بی بی شہید اور نواز شریف کو نادیدہ قوتوں نے الجھائے رکھا مگر عمران خان کو بطور اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم بھی جو پلیٹ فارم اور ملک ملا ایسا شاندار ملک کسی کے حصے میں نہیں آیا۔ وزیراعظم اور عسکری قوتیں ایک پیج پر اپوزیشن، منقسم اور مقدمات میں دھنسی ہوئی۔ موجودہ حکومت میں آرمی چیف کا تو بقول وزیراعظم تیسرے مہینے میں فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ توسیع دینا ہے اور خود بھی تعریف کر چکے ہیں کہ ایسا جرنیل پاکستان کی تاریخ میں نہیں آیا ان کے علاوہ عسکری خدمات انجام دینے والے درجنوں محب وطن تجربہ کار لوگ حکومت کا حصہ ہیں۔ جو کہ سابقہ ادوار دیکھیں تو اتنی زبردست سپورٹ محترمہ

بینظیر شہید، میاں نواز شریف ، ظفر اللہ جمالی ، شوکت عزیز کے برعکس ہے شاید یہ سپورٹ دیکھ کر وزیراعظم کے منہ سے بے ساختہ نکلتا ہے گھبرانا نہیں اور پھر بین الاقوامی کنگ کانگ ٹرمپ بھی خوش ہے۔ موجودہ حکومت کے پاس وطن عزیز کے عوام کے لیے بہتری کرنے کا بھرپور اور نادر موقع ہے۔

اگر راستہ معلوم اور سیدھا ہو تو منزل قریب ہوتی ہے اور اگر الٹ راستے نکل پڑیں تو منرل دور اور ناکامی لازم ہے۔ جناب وزیراعظم آپ کو غلط راہ پر ڈال دیا گیا۔ اب زرداری صاحب اور میاں صاحبان کی مخالفت اور ان کے خلاف انتقام میں کچھ نہیں رکھا یہ کسی اور کا مسئلہ تو ہو سکتا ہے عوام کا ہرگز نہیں۔

شیخ رشید نیب کو ڈریکولا بنا گئے۔ چوہدری اپنے بندے ہیں کہہ کر آپ کا سارا انصاف صاف کر گئے۔ شہباز گل، فیاض الحق چوہان، مراد سعید، واوڈا، زیدی اگر آپ کے افکار کے نمائندے ہیں تو یقین کر لیں یہ مریم نواز کے سپورٹر ہیں۔ اگر آج انتخابات ہوں تو آپ کو امیدوار ملنا مشکل ہوجائیں گے۔ مریم نواز آپ کے لوگوں کی پنجاب میں ضمانتیں ضبط کروا دیں گی۔ کے پی کے میں سراج الحق اور مولانا فضل الرحمن آپ کی جماعت کا بستر گول کر دیں گے۔ بلوچستان تو پہلے ہی کھچڑی حکومت ہوا کرتی ہے اور سندھ میں بلاول بھٹو، شہید ذوالفقار علی بھٹو کی یاد تازہ کرا دیں گے اور اگر انتخابات ایک سال یا اس کے بعد ہوتے ہیں تو بلاول بھٹو پنجاب میں اپنی پارٹی کے ووٹ آپ سے واپس لینے میں کامیاب ہو جائیں گے اتنا بڑا ڈینٹ ڈالیں گے کہ آپ کا تصور نہیں ہے یہ حقائق ہیں جو شاید ایجنسیوںکے پاس بھی اس وقت نہ ہوں۔ وزیراعظم صاحب آپ کا ایک ہی نعرہ تھا انصاف اور کرپشن ۔ انصاف جو حکومت کر سکتی ہے آپ نے وہ کرنا ہے باقی جج بہادر کی مرضی ہے کہ وکلاء کا کس حد تک سامنا کرتا ہے۔ آپ یہ انتقام انتقام چھوڑیں وہ ماضی ہو گیا۔ بیورو کریسی میں کرپشن ختم کریں۔ آپ چند محکمے سامنے رکھ لیں ان کے بھی چند لوگ جن بعد پھر لائنیں لگ جائیں گی کسٹم، ایف آئی اے، نیب، ایکسائز، لوکل گورنمنٹ اینٹی کرپشن، کسٹم انٹیلی جنس، انٹی سمگلنگ، میں ہاتھ ڈالیں ذاتی طور پر خفیہ اطلاعات پھر حکم دیں اور دیکھیں 10 دن میں کرپشن کم ترین سطح پر آئے گی اور مہنگائی خود بخود کم ہوگی ۔ FBR تو ایک دن کا کام ہے پہلے ان دیانت داروں کی لسٹ منگوائیں جو کرپشن چھوڑ چکے تا کہ جاری رکھنے والوں کو اندازہ ہو کہ خان صاحب تو چھوڑنے والے بھی پکڑ رہے ہیں تو جاری رکھنے والے کیوں بچیں گے۔ اِن میں سے بعض ایسے بہروپیے ہیں کہ شک ہوتا کہیں رات کو داڑھی اتار کر تو نہیں سوتے؟


ای پیپر