وزیر تعلیم صاحب! رہتا ہوں بے چراغ گلیوں میں
12 May 2020 (18:42) 2020-05-12

میں نے پوچھا! حضور کبھی آپ کو دن میں تارے نظر آئے؟ وہ ہڑ بڑا کر بولے! آپ کا دماغ چل گیا ہے کیا؟ یہ تو محض محاورہ ہے۔ میں نے عاجزی اور تمیز سے پوچھا حضور جب اس محاورے کا عملی زندگی سے کوئی واسطہ، کوئی سروکار ہی نہیں تھا تو اس محاورے کو خواہ مخواہ میں مجازی رنگ سے آشنا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ آنکھیں لال کر کے بلکہ غصے سے لال پیلا ہو کر بولے تم تو جاہل المطلقان ہو… تم سے بحث ہی فضول ہے۔ اپنے سوال اپنے پاس رکھو۔ جاؤ میں روزے سے ہوں، تنگ نہ کرو۔ میں خاموش ہو گیا بلکہ چپ سادھ گیا جبکہ میں تو تنگ آمد، بجنگ آمد پر بضد تھا۔ کچھ دیر توقف کے بعد میں نے بھرپور التجائیہ لہجے میں چوں چوں کی۔ میں بھی تو سوال پر سوال داغے جا رہا ہوں۔ بولے! محاورہ اور روز مرہ اہل لکھنو کی زبان کو چٹخارے دار بنانے کے لیے ہی کافی تھا۔ ہمارے ہاں بھی ادھر سے آوارہ گردی کرتا ہوا آ پہنچا ہے۔ لہٰذا اب یہ ہمارے ادب اور تحقیق کا حصہ ہے۔ اس سے روگردانی ممکن نہ ہے۔ ہمارے شاعر بھی اسے آمد و آورد کے تحت اپنے کلام میں سمونے کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔ بس! اب ایک لفظ اور نہ بولنا تمہارے ناقص علم کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔

میں نے سکوت برگ سے لبادہ مستعار لیا اور چند منٹوں میں اوڑھ کر اپنے مؤقف سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ کچھ عرصے کے بعد میں نے اپنی توانائی کو پوری طرح یکجا کیا اور انا کی بکھری ہوئی کرچیوں کو سمیٹ کر اور ہاتھ باندھ کر عرض کی۔ حضور میں نے دن میں تارے دیکھے ہیں۔اس باران کی غراہٹ میں زرا لاک ڈائون جیسی نرمی تھی۔ بولے!وہ کیسے؟ میں نے کہا حضور جب وزیر تعلیم نے اعلان کیا کہ بورڈز کے تمام امتحانات منسوح کر دئیے گئے ہیں اور طالب علموں کو ان کی پچھلی کلاس کی کارکردگی کی بنا پر اگلی کلاسوں میں پرموٹ کردیا جائے گا۔ حضور! یہ بیان سن کر میرے چودہ طبق روشن ہونے کے ساتھ ساتھ دن میں بلکہ ’’چٹے دن‘‘ میں تارے نظر آگئے۔ بولے! اس میں حرج کیا ہے؟ میں نے کہا سبحان اللہ! آپ کو قباحتیں نظر نہیں آرہیں کیا؟بولے!کیا قباحتیں ہیں؟ میں نے کہا نسل نوکے مستقبل کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کل کو ملک کی بھاگ ڈور سنبھالنی ہے۔ کسی نے سیاستدان ، کسی نے بیوروکریٹ، کسی نے آمر بنناہے اور کسی نے اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بننا ہے۔کسی نے کرپشن میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ کسی نے منی لانڈرنگ کو فروغ دینا ہے۔ کسی نے اینکر پرسن بننا ہے اور اپنے وقت کے علما کو معافی مانگنے پر مجبور کرنا ہے۔ کسی نے گھوڑے پالنے ہیں اورمربعہ جات سے ان کی تواضع کرنی ہے۔ کسی نے کتوں کے شوق کو پروان چڑھاناہے۔ کئی ریحام خان پیدا ہونی ہیں وغیرہ وغیرہ ۔بڑے ٹھنڈے دماغ سے بولے آپ بس قباحتوں کا ذکر کرو اور اس کے بعد چلتے بنوں۔ میں نے کہا حضور سنیے جماعت کو کس بنیاد پر پرموٹ کیا جائے؟ ان کی قابلیت پرکھنے کا کیا پیمانہ اور معیار ہے؟ وہ طالب علم جو کلی (کمبائنڈ) امتحان دینا چاہتے ہیں اور جو طالب علم اہلیت کو بڑھانے (Repeater) چاہتا ہیں ان کو کس بنیاد پرنمبر دئیے جائیں گے؟ کیا یہ طالب علم اگلے سال امتحان دیںگے؟ اگر اگلے سال دیں گے تو ان کا لمحہ لمحہ تو کیا پورا ایک سال ضائع ہو گا اور ان کی تیاری بھی ضائع جائے گی؟ معاشی طور پر بھی ان کا نقصان ہوگا؟ پھر سے ٹیوشن لینی پڑے گی؟ ضمنی امتحان دینے والے طالبعلم کس کیٹگری میں رکھے جائیں گیـ؟ سب سے اہم بات یونیورسٹیز میں داخلے کون سے میرٹ سٹم اور کس بنیاد پر ہوں گے؟ انٹری ٹیسٹ دینے والے طالب علموں کے لیے کونسا میرٹ اور کونسا سسٹم اپنانا ہو گا؟ ایسے میں تو بہت سے طالب علموں کی محنت کا قتل ہو گا اور بہت سے نکھٹو طالب علم انٹر کرنے کے بعد نوکریوں کی تلاش میں سرگرداں ہو کر بیروزگاری میں شدید اضافہ کریں گے۔


ای پیپر