وزیراعظم کہاں ہیں اور ملک کون چلا رہا ہے؟
12 May 2020 (16:13) 2020-05-12

اسلام آباد:ایوان بالا(سینیٹ) میں اپوزیشن نے حکومت کی کرونا وائرس سے متعلق پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے وبا ء کے خاتمے کیلئے یکساں پالیسی تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا اور وزیر اعظم کو مسنگ پرسن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کہاں ہیں اور ملک کون چلا رہا ہے؟

وزیراعظم نے عوام کو متحد کرنے کے بجائے تقسیم کیا،ارطغرل کا ڈرامہ دکھانے سے پاکستان مدینے کی ریاست نہیں بنے گا،ساری توقعات ارطغرل ڈرامے پر نا ڈالی جائیں، حکومت اپو زیشن کے تعاون کی پیشکش قبول کرے اور وائرس سے نمٹنے کیلئے قومی ایکشن پلان بنائے، وزیراعظم کا اشرافیہ والا بیان قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے، حکومت کا موجودہ صورتحال میں شروع دن سے رویہ منفی رہا،حکومت نے طبی ماہرین کے برعکس لاک ڈائون ختم کرنے کا اعلان کیا،لاک ڈاون میں بغیر ایس او پی کے سب کچھ کھل گیا، حکومت بھوک اورموت کی تکرار کر رہی ہے .

حکومت عید کے بعد 4 ہفتہ کیلئے موثر لاک ڈائون کرے ، حکومت کو 24 روپے کا پیٹرول مل رہا ہے، ایک لیٹر پر حکومت 80 روپے کما رہی ہے،تارکین وطن کو تنہاء چھوڑ دیا گیا ہے، حکومت نے معیشت کا کرونا وائرس سے پہلے بیڑا غرق کر دیا تھا۔ شرح سود زیرو کیا جائے ، غریب لوگوں کے گیس اور بجلی کے بل معاف کئے جائیں اور 17 ہزار ماہانہ لوگوں کو دیا جائے،حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان لائے۔

چین پاکستان کو وائرس سے نمٹنے کیلئے مسلسل امداد دے رہا ہے ،پاکستان کی طرف سے شکریہ کے الفاظ نہ ہونا بہت بڑی کمی ہو گی ،عالمی طاقت نے چین کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈا کی مہم چلائی ہے ، اس کی مذمت کرتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر مشتاق،سینیٹر جاوید عباسی نے کرونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے تحریک پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔منگل کو ایوان بالا کا اجلاس چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس میں کرونا وائرس وبا کی صورتحال کے حوالے سے تحریک پر بحث کاآغاز کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے کہ حکمت کو چاہیے تھا کہ اپو زیشن کی ریکوزیشن سے پہلے اجلاس بلاتی ۔ حکومت کی جانب سے کرونا سے متعلق درست پالیسی نہیں اپنائی جا رہی۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ لاک ڈاون اشرافیہ نے ختم کرایا۔ حکومت کا موجودہ صورتحال میں شروع دن سے رویہ منفی رہا، اپوزیشن کیخلاف نفرت پیدا کی جا رہی ہے، کہا گیا لاک ڈاون مفاد میں نہیں پھر پورے ملک میں لاک ڈاون ہوا، ملک میں لاک ڈاون سے متعلق ایک پالیسی نہیں تھی۔راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا حکومت موجودہ صورتحال میں قومی یکجہتی کی فضا پیدا کرتی، حکومت نے اپوزیشن سے رابطہ نہیں کیا، وزیراعظم نے عوام کو متحد کرنے کے بجائے تقسیم کیا، تاثر دیا جا رہا ہے جیسے سندھ حکومت ملک دشمن ہے۔حکومتی کا رویہ انتہائی منفی ہے۔ جو اپوزیشن کے خلاف بات کرتا ہے اسے شاباش ملتی ہے۔ یہ رویہ قابل مذمت ہے،حکومت نے لاک ڈان ختم کرنے کا اعلان کیاجو طبی ماہرین کی رائے کے برعکس ہے۔ اسلام آباد میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 7 سو سے زائد ہو گئی ہے۔ راجہ ظفر الحق نے کہا کہ وائرس کے آغاز سے چین نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ اس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ عالمی طاقت نے چین کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈا کی مہم چلائی ہے کہ وائرس چین کی لیبارٹری سے تیار ہوا اور چین نے پھیلایا، اس سے زیادہ بے بنیاد اور جھوٹا الزام تاریخ میں کسی نے نہیں لگایا، اس کی مذمت کرتے ہیں۔ چین پاکستان کو وائرس سے نمٹنے کیلئے مسلسل امداد دے رہا ہے ،پاکستان کی طرف سے شکریہ کے الفاظ نہ ہونا بہت بڑی کمی ہو گی۔ راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا حکومت موجودہ صورتحال میں قومی یکجہتی کی فضا پیدا کرتی، حکومت نے اپوزیشن سے رابطہ نہیں کیا، وزیراعظم نے عوام کو متحد کرنے کے بجائے تقسیم کیا ہے، سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ حکومت نے 18 ویں ترمیم پر بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت بتائے حکومت کی کرونا وائرس سے نمٹنے کے حوالے سے حکمت عملی کیا ہے۔ روزانہ اخلاقیات کا جنازہ نکالا جا رہا ہے۔ آج لاک ڈائون ایس او پیز کے بغیر کھل گیا ہے۔ لوگوں نے عید کی شاپنگ شروع کر دی ہے جبکہ ایک دن لاک ڈائون کی حمایت اور دوسرے روز مخالفت کی جا رہی ہے۔ وائرس کے حوالے سے حقیقی اعدادو شمارزیادہ ہیں۔ جنگ سے بدتر صورتحال ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کو مسنگ پرسن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کہاں ہیں ملک کون چلا رہا ہے۔ وزیر اعظم پارلیمانی فورمز سے کیوں ڈر رہے ہیں۔ سندھ حکومت کی کارکردگی کو دنیا سراہا رہی ہے۔ لگتا ہے 18 ویں ترمیم دے کر کوئی گناہ کر دیا، روز اخلاقیات کا جنازہ نکالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا تاریخ میں پہلی بار مہلک وبا کا سامنا کر رہے ہیں، یہ ایسا وقت ہے جہاں ہمیں یکجہتی کی ضرورت ہے، لاک ڈاون میں نرمی پر حکومت کا پیغام واضح نہیں ہے۔شیری رحمان کا کہنا تھا لاک ڈاون میں سب کچھ کھل گیا، کوئی ایس او پی نہیں ہے، کیسا لاک ڈاون ہے لوگ عید کی شاپنگ کر رہے ہیں، حکومت نے کورونا سے متعلق کوئی پالیسی نہیں دی، ہمیں کورونا سے نمٹنے کے اقدامات پر فوکس کرنا چاہیئے، ہم نہیں جانتے حکومت کی پالیسی کیا ہے، ہوسکتا ہے 50 فیصد آبادی کورونا سے متاثر ہو جائے، اپوزیشن سے متعلق حکومتی رویہ افسوسناک ہے۔سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ اس وقت لاک ڈائون کھولنے کی پالیسی ہے ،حکومت بھوک اورموت کی تکرار کر رہی ہے جو حکومت کا کام نہیں ہے۔ قبرستان کی کوئی معیشت نہیں ہوتی، آج یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اموات کی شرح دگنی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ حکومت کو ہمیں سپورٹ کرنا چاہیے۔ تین کروڑ ملک میں بزرگ ہیں۔ ان کی اموات کی شرح 10 سے 20 فیصد ہے۔ حکومت اپنی تجویز پیش کرے۔ سب کو مل کر موثر پالیسی بنانی ہو گی۔ حکومت کو خدوخال بنانے ہو گی۔ عید کے بعد تک ایک دو ہفتہ موثر لاک ڈائون کیا جائے جس سے و ائرس کی کمر ٹوٹ جائے۔یہ 2 سے3 ہفتہ تک موثر لاک ڈائون کیا جائے۔ وائرس کی کمر توڑ کر لاک ڈائون نرم کیا جائے۔ جس دن لاک ڈائون شروع کیا گیا تو 7 مریضوں کی تشخیص ہوئی تھی اب نرم کیا ہے تو 1400 سے زائد مریضوں کی تشخیص ہو رہی ہے۔آئی ایم ایف نے 230 ارب روپے کرونا سے نمٹنے کیلئے دئیے ہیں۔ اس وقت 5 کروڑ لوگ غربت کے نیچے جا چکے ہیں ان کو ایک ماہ کاکھانا فراہم کرنے کیلئے 230 ارب ایم ایف والے اور اضافی پیسے استعمال ہو سکتے ہیں۔ سینیٹر مشتاق نے کہا کہ ڈاکٹر اور صحت کے ورکرز اس وقت جوکام کر رہے ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں۔ ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ یہ دوسری عالمی جنگ سے بڑھ کر بڑا المیہ اور چیلنج ہے۔ حکومت نے ابتداء میں 2 ماہ کا وقت درست استعمال نہیں کیا۔ خطہ میں سب سے آخر میں وائرس ہمارے ملک میں آیا۔ حکومت نے ابتدا میں وقت کا صحیح استعمال نہیں کیا۔اپوزیشن نے متحدہ طور پر حکومت کا ساتھ دینے کی پیشکش کی لیکن وزیر اعظم نے اپوزیشن کا شکریہ تک ادا نہیں کیا۔ اس سے تاثر یہ جاتا ہے کہ بڑے دفاتر میں چھوٹے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ۔ قومی حکمت عملی نہیں بنائی گئی اور پارلیمنٹ کو تالے لگائے گئے۔ حکومت کی کوئی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی۔ پی ٹی آئی کی سولو فلائٹ چل رہی ہے۔ اشرافیہ حکومت میں بیٹھی ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اشرافیہ نے لاک ڈائون کرایا۔ کہتے ہیں کہ زندگی اور بھوک کا دنگل ہے اس لئے لاک ڈائون نرم کیا۔ وزیر اعظم نے لاک ڈائون نہ کرنے کا اعلان کیا تو اسی دن صوبوں نے لاک ڈائون کا اعلان کیا۔ کسی اور ملک نے اتنی غیر سنجیدگی نہیں دکھائی گئی، صنعتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ ساڑھے 7 کروڑ لیبر ورکرز ہیں ، 2 کروڑ لیبر فورس بے روزگار ہو رہی ہے۔ حکومت کو 24 روپے کا پیٹرول مل رہا ہے لیٹر پر حکومت 80 روپے کما رہی ہے۔ یہ ریلیف حکومت اپنے خزانے میں جمع کر رہی ہے مگر عوام کو ریلیف نہیں دے رہی۔ تارکین وطن کو تنہاء چھوڑ دیا گیا ہے۔ بے روزگاروں کو واپس لانے کا انتظام نہیں۔ پی آئی اے کے ٹکٹ تین چار گنا زیادہ بلیک میں فروخت ہو رہے ہیں۔ سفارت خانوں نے فون بند کئے ہوئے ہیں۔ حکومت نے معیشت کا بیڑا کرونا وائرس سے پہلے غرق کر دیا تھا۔ شرح سود زیرو کیا جائے ، ارتغرل کا ڈرامہ دیکھانے سے پاکستان مدینہ کی ریاست نہیں بن سکتی۔ ۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو کارکردگی پر آئینہ دکھایا۔ کرپشن کے خدشات کورٹ نے اٹھائے ہیں۔ حکومت صحت کے عملے کی حفاظت یقینی بنائے۔ حکومت اپو زیشن کے تعاون کی پیشکش قبول کرے اور وائرس سے نمٹنے کیلئے قومی ایکشن پلان بنائے۔ غریب لوگوں کے گیس اور بجلی کے بل معاف کئے جائیں اور 12 ہزار ماہانہ لوگوں کو دیا جائے۔ ریلیف میں دینی مدارس کو محروم رکھا ہے۔ ان کو پیکج دیا جائے۔ ڈاکٹر عافیہ کو واپس لایا جائے اس کی جیل میں وائرس پھیل چکاہے۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قیدیوں کو رہا کیا جا رہا ہے۔ حکومت عافیہ صدیقی کو پاکستان لائے۔سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ وزیراعظم کو اس موقع پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس میں آنا چاہیے، پاکستان ابتدا میں سرحدوں اور ائیرپورٹ پر سختی کرتا تو ملک میں وائرس نہ پھیلتا، حکومت وبا سے نمٹنے کے لیے یکساں پالیسی بنائے، یہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا وقت نہیں ہے بلکہ متحد ہونے کا وقت ہے۔


ای پیپر