یہ ملاقات ایک بہانہ ہے !....(تیرہویں قسط)
12 May 2020 2020-05-12

وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات پر کئے گئے اپنے گزشتہ کالم میں میں نے عرض کیا تھا ”وزیر اعظم سے مل کر مجھے یہ احساس ہوا مختلف شعبوں کی کچھ خرابیوں کو ہم جو وزیر اعظم سے جوڑ دیتے ہیں، یا ان خرابیوں کا براہ راست انہیں ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں، ان کے بارے میں انہیں معلوم تک نہیں ہوتا کہ یہ خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں اور اس سے کیا نقصانات ہو رہے ہیں؟ یا ان سے ان کی پوزیشن کتنی خراب ہو رہی ہے؟ مانا کہ بہت سے معاملات میں وزیر اعظم عمران خان وہ کردار ادا نہیں کر پا رہے جس کی ہمیں ان سے توقع تھی۔ پر یہ بھی زیادتی ہے دو بھائیوں کی لڑائی میں ایک مارا جائے اس کا ذمہ دار ہم وزیر اعظم تو ٹھہرا دیں۔ کوئی مولوی کس مدرسے میں کس بچے کو زیادتی کا نشانہ بنائے۔ اس کا ذمہ دار بھی ہم وزیر اعظم کو ٹھہرا دیں۔ کوئی وزیر انفرادی حیثیت میں کرپشن کو رہا ہو ہم اس یقین میں مبتلا ہو جائیں”اسے وزیر اعظم کی آشیر باد حاصل ہے“....میں سمجھتا ہوں معاشرے کی انفرادی خرابیوں کو یا معاشرے کی ہر انفرادی خرابی کا ذمہ دار حکومت یا وزیر اعظم کو ٹھہرانا جائز نہیں۔ البتہ یہ درست ہے معاشرے کی اجتماعی اصلاح کے لئے حکمرانوں کو نیک نیتی سے کرپشن ضروری کرنی چاہئے، جو میرے خیال میں ابھی تک کسی حکمران نے نہیں کی۔ وہ بے چارے ذاتی مفادات کے تحفظ میں اسقدر مصروف رہتے ہیں اس طرح کے ”فضول معاملات“ کو درست کرنے کا ان کے پاس وقت ہی نہیں بچتا.... مجھے یاد ہے کچھ سال قبل خان صاحب سے میں نے کہا تھا ”نوجوان آپ کو بہت فالو کرتے ہیں ، وہ دل سے آپ سے محبت کرتے ہیں ، آپ چونکہ ایک ”روایتی سیاستدان“ نہیں (تب تک ہم اس یقین میں مبتلا تھے وہ روایتی سیاستدان نہیں) تو آپ کو چاہئے ایک ”یوتھ کنونشن بلائیں، جس میں پورے ملک کے نوجوان کو مدعو کریں، ان سے کہیں “آپ اگر واقعی پاکستان سے محبت کرتے ہیں ، آپ اگر واقعی اپنے دین سے محبت کرتے ہیں ، آپ اگر واقعی اپنے اخلاقیات سے محبت کرتے ہیں ، تو آئیں آج میرے ساتھ وعدہ کریں ، مجھے یہ حلف دیں آج کے بعد کوئی نوجوان اپنی شادی پر جہیز نہیں لے گا“.... اس سے یہ ہو گا آپ کے اس عمل سے معاشرے کی ایک خرابی جہیز کی لعنت کی صورت میں جو موجود ہے اس سے کسی حد تک نجات مل جائے گی.... انہوں نے میری بات پوری توجہ سے سنی اور اپنے روایتی جذباتی انداز میں بولے ”تم نے بڑی زبردست بات کی ہے، ہمیں یہ کام فوراً کرنا چاہئے۔ افسوس یہ ”فوراً“ ابھی تک نہیں آ سکا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے ہمارے سیاسی و اصلی حکمرانوں نے معاشرے کی اجتماعی خرابیوں کو دور کرنے کی یا کم کرنے کی کوئی کوششیں ہی کبھی نہیں کی، نہ معاشرے کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہم افراد ، جیسا کہ ہمارے علمائے کرام ، ہمارے اساتذہ ، ہمارے اہل قلم ، ہمارے دانشوروں نے کبھی کی، سو رونا یہ ہے اس ملک کا کوئی ایک شعبہ ایسا نہیں جس کی ہم مثال دے سکیں، یا دنیا جس کی مثال دے سکے کہ فلاں شعبے نے پاکستان کی تعمیر و ترقی یا پاکستانی معاشرے کی بہتری و بھلائی کے لئے انقلابی جدوجہد کی۔ ہم اس حوالے سے بڑے محروم بڑے بدقسمت بدنصیب لوگ ہیں۔ اور سب سے بڑا ہمارا المیہ یہ ہے جو جتنا بدزبان بداخلاق ہے اتنا زیادہ ”اخلاقیات“ کے درس دیتا ہوا سنائی اور دکھائی دیتا ہے ۔ اس کے ”فالوورز“ کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ ظاہر ہے جب تقریباً پورا معاشرہ ہی بداخلاق ہو گا تو بداخلاقوں کے فالوورز بھی اس حساب سے ہی ہوں گے.... سچی بات ہے کم از کم میں کسی کو اخلاقیات کا درس دیتے ہوئے۔ خصوصاً کسی چینل پر بیٹھ کر اپنے جیسے لوگوں کو اخلاقیات کا درس دیتے ہوئے ہزار بار سوچتا ہوں کہ میرے اس عمل سے اس ملک کے جو چند مہذب لوگ ہیں کہیں وہ مجھے بھی ”بداخلاق“ نہ سمجھنا شروع کر دیں۔.... میں وزیر اعظم عمران خان کی بات کر رہا تھا اور بات خود بخود بداخلاقی کی جانب نکل گئی۔ اس کے باوجود کہ یہ بڑا مضبوط تاثر ہے ملکی معاملات چلانے والے کوئی اور ہوتے ہیں ، جبکہ منہ کالک لینے والے اور ہوتے ہیں، وزیر اعظم ان حالات میں بھی بہت مصروف ہوتا ہے۔ گوکہ مجھے وزیر اعظم کی مجبوریوں اور سرکاری مصلحتوں کا اچھی طرح اندازہ تھا، اس کے باوجود جی چاہتا تھا کچھ موضوعات پر کھل کر ان سے بات کروں.... وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کسی شخصیت کی ملاقات کا عمومی دورانیہ زیادہ سے زیادہ بیس پچیس منٹ کا ہوتا ہے۔ میرے لئے کچھ زیادہ وقت رکھے جانے کا کہا گیا تھا۔ یہ بات ملاقات سے قبل وزیر اعظم کے سٹاف نے مجھے بتائیں۔ ملاقات کے لئے چالیس منٹ مقرر کئے گئے تھے۔ یہ چالیس منٹ ختم ہونے سے چند سیکنڈ پہلے ہی وزیر اعظم سے میں نے اجازت چاہی اس وقت جہانگیر ترین کا موضوع چھیڑا ہوا تھا۔ انہوں نے مجھے کچھ دیر اور رکنے کا کہا ۔ کوئی پچاس منٹ بعد وزیر اعظم کے اے ڈی سی کمرے میں داخل ہوئے۔ وہ یقیناً وزیر اعظم کو اگلی کسی میٹنگ کی اطلاع دینے ہی آئے ہوں گے۔ وزیر اعظم نے ان سے کہا ”بس پانچ منٹ میں بلاتا ہوں“.... سو یہ ملاقات سوا گھنٹے کی ہو گئی۔ میں جب کمرے سے باہر نکلا کچھ وفاقی وزراءجن میں شاہ محمود قریشی اور اسد عمر بھی تھے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے ساتھ برآمدے میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ کچھ فاصلے پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود بھی کھڑے تھے۔ کچھ اور لوگ بھی تھے جنہیں میں جانتا تھا نہ ہی وہ یقیناً مجھے جانتے ہوں گے ، دیکھنے میں وہ بھی وزیر مشیر ہی لگ رہے تھے۔ ایک دو نے تو مجھے بہت گھور کر دیکھا جیسے وہ یہ سوچ رہے ہوں ان کی وزارت شاید وزیراعظم نے مجھے دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حالانکہ وزیراعظم نے جب مجھ سے پوچھا ”توفیق بتاﺅ تم مجھے کس شعبے میں ہیلپ کر سکتے ہو؟“دست بستہ عرض کیا ”خان صاحب میں صرف اپنی ناقص سمجھ بوجھ کے مطابق آپ کو مشورہ ہی دے سکتا ہوں“۔ ان کی مہربانی انہوں نے فرمایا کوششیں کروں گا مہینے میں کم از کم ایک بار تمہارے ساتھ لازمی ملاقات ہو جایا کرے“.... وزیر اعظم کے ساتھ سوا گھنٹے کی اس ملاقات میں ایک بار پھر یہ اندازہ ہوا ملک چلانا یا ہر معاملے میں اوندھے منہ گرے ہوئے ملک کو پھر سے اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہوتا۔.... ہم لوگ جو منہ و دیگر اعضاءاٹھا اٹھا کر طرح طرح کی باتیں کرنے میں بڑی آسانی محسوس کرتے ہیں ہم سے اپنے گھر نہیں چلتے ، سو جنہوں نے ملک چلانے ہوتے ہیں ان کی مجبوریوں کا بھی تھوڑا بہت ہمیں ادراک ہونا چاہئے۔ (جاری ہے)


ای پیپر