مہربانی کریں
12 May 2019 2019-05-12

موزوں ترین موضوع تو نئی بات کے قارئین کے لیے وہ متوقع معاہدہ ہے۔ جو بین الاقوامی مہاجن آئی ایم ایف کے ساتھ ہونا ہے۔ ہفتہ کی شام تک کرکٹ میچ کی مانند پل پل نت مئی خبریں آرہی تھیں۔ کبھی اختلاف کی خبر۔ کبھی اتفاق کی نوید۔ کبھی تحفظات کا سندیسہ اور کبھی کسی شرط کو تبدیل کرکے نرمی کی اطلاع۔ اور پھر یہ خبر کے جناب وزیر اعظم نے مسودہ مسترد کر دیا۔ خبر سنتے ہی دل کو ڈھارس بندھی کہ اب تو معاہدہ ہو کرہی رہے گا۔ ایسی خبریں کسی میڈیا مینجر کے زرخیز ذہن کی پیداوار ہوا کرتی ہیں۔ ذرا امیج بلڈنگ کیلئے۔ عوام الناس کو باور کرانے کیلئے کہ دیکھو تمہارا حاکم کیسا خدا ترس اور عوام دوست ہے۔ کتنی خبر گیری رکھتا ہے۔ عوام کو دھوکے کی میٹھی گولی دینے کیلے یہی حربہ ماضی کے حکمران ایسے عامل کرتے تھے۔ یہی تیر بہدف نسخہ آج بھی موثر ہے۔ فیصلہ ساز تو خشوع و خضوع سے دعایئں مانگتے پائے گئے ہیں کہ جلد از جلد معاہدہ پر دستخط ہوجائیں۔ ظاہر ہے کہ وہ خود کشی والی آپشن تو فی الحال داخل دفتر ہے۔قرض ملتے ہی حاکم وقت اور اس کی مالیاتی ٹیم کے حسن تدبیر پر دادوتحسین کے ڈونگرے برساے جائیں گے۔ بے خبر قوم کو قرض کی مے پینے کی فضیلت بتائی جائے گی۔ ہم بے خبر شادی مرگ کی کیفیت میں تالیاں پیٹ پیٹ کر اپنے ہاتھ لال کرینگے۔ واہ واہ کیسے حاکم وقت نے قرض کے پیکج کا مسودہ مسترد کیا اور کیسے اس میں عوام دوست نکات شامل کرائے۔ حالانکہ جب بیل آوٹ پیکج پر مذاکرات کیلئے سجی میز کے دونوں جانب ہی آئی ایم ایف بیٹھی ہو ناکامی کیسی۔ ہفتہ کی صبح کچھ تشکیک سی پیدا ہوئی کہ شاید معاملہ لٹک جائے۔ اور تو کچھ نہیں بس بندہ مزدور کو خدشہ ہوا۔ مذاکرات طوالت پکڑ گئے تو اس وقت تک ٹینشن رہے گی جب تک باقاعدہ دستخط نہیں ہوجاتے۔ لیکن پھر شیخ رشید غیبی امداد بن کر آئے۔ پریس کانفرنس تو ان کی لاہور میں تھی اور موضوع ظاہر ہے کہ پاکستان ریلوے۔ جہاں آئے روز نئی گاڑی کا افتتاح ہوتا ہے۔یہ بتائے بغیر کہ پرانی گاڑیاں کب کس روٹ پر چلتی ہیں۔ اتنی ساری نئی گاڑیوں کیلئے بوگیاں اور انجمن کہاں سے آتے ہیں۔ کونسی نئی فیکٹری لگ گئی۔ بہر حال یہ تو ضمنی بات ہے لیکن شیخ رشید نے مشکل آسان کردی۔ شاید کسی متجسس رپورٹر نے سوال پوچھ لیا ہوگا۔ جناب شیخ نے بغیر کسی لگی لپٹی کے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ فائنل ہے۔ بس دستخط کی دیر ہے۔ کچھ اشارہ تو جناب وزیر اعظم نے راولپنڈی میں گائنی ہسپتال کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے دیدیا تھا۔ یاد آیا یہ وہی گائنی ہسپتال ہے جہاں ایک روز عین انتخابی مہم کے دوران منصف اعلیٰ پہنچے تھے۔ اسی حلقہ سے امیدوار جناب شیخ رشید بھی پانچویں سوار کی طرح قافلہ انصاف کے ہمراہ تھے۔منصف اعلیٰ نے فوری اور مفت انصاف فراہم کرتے ہوئے ہسپتال کی تعمیر رکوا دی۔دیر آید درست آید۔ ہسپتال کا افتتاح ہو چکا ، پرانی تختی کی جگہہ نئی تختی لگ گئی ، بہر حال خطاب میں جناب ٹیم کپتان نے کمال کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا اور یہ تسلیم کر لیا کہ مہنگائی تو ہوئی ہے۔ اگلے ہی سانس میں متوقع مشکلات کا بھی تذکرہ اور پھر قوم سے مزید دو سال مانگ لئے۔ تقریباً ایک سال تو گزر ہی گیا۔ باقی دو سال بھی گزر ہی جائیں گے۔ البتہ جناب وزیر اعظم نے وضاحت نہیں فرمائی کہ دو سال بعد کیا ہوگا ؟ مزید ایک سال مانگا جائے گا۔ معاملات بہتر ہوجائیں گے ؟ یا پھر قوم "عادی" ہوجائے گی۔ کیونکہ خبریں تو اچھی نہیں۔آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد ڈالر کو اضافی پر لگ جائینگے۔ ہر قسم کی سبسڈی ختم۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں پر حکومتی کنٹرول ختم۔حکومت کے پاس وافر وقت ہوگا۔ حکمران شیلٹر گھروں کے دورے کرینگے۔ روحانیت کے فروغ کیلئے نئی یونیورسٹیاں بنیں گی۔ روحانیت کو سپر سائنس میں تبدیل کرنے کیلے نئے تجربات کیے جائیں گے۔ پانچ سال بعد انتخابات آئیں گے تو دیکھی جائے گی۔ ستر سال کا مبینہ گند صاف کرنے کیلئے ایک اور مدت تو دینی پڑے گی۔ماہرین کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکج تو اب مجبوری بن چکا۔ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ لیکن اگر یہی پیکج گزشتہ سال اکتوبر میں لے لیا جاتا تو یوں ناک سے لکیریں نہ لگانی پڑتیں۔ نہ قومی خزانہ اس طرح سے آئی ایم ایف سے ڈیپوٹیشن ہر آئے پرکاروں کے تصرف میں دینا پڑتا۔ معیشت کی صورتحال دگر گوں ہے۔ماہر معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ چالیس لاکھ افراد خط غربت کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ اور اگلے ایک سال میں یہ تعداد دگنی ہوسکتی ہے ، گزشتہ سال معیشت کا حجم تین سو تیرہ ارب ڈالر تھا ، جبکہ صرف ایک سال میں یہ حجم دو سو اسی ارب ڈالر تک سکڑ گیا ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ زرعی شعبہ میں ترقی کی رفتار تشویش ناک حد تک گر رہی ہے۔کپاس ، چاول گنے کی فصلیں انتہائی کم سطح پر آچکی ہیں۔آئی ایم ایف کے بیل آوٹ پیکج کا مطلب عام آدمی کی پیٹھ پر مزید بوجھ لادنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ شنید ہے کہ بجٹ سازی کا عمل تاخیر کا شکار ہوچکا۔ عرض ہے کہ بجٹ میں عوام کیلئے کسی خوشخبری کی توقع تو نہیں لہٰذا مہربانی کریں کوئی مزید بد خبری نہ دیں۔ آپ کا شکریہ


ای پیپر