مہنگائی اور کتنی ہوگی؟
12 May 2019 2019-05-12

مہنگائی اور کتنی ہوگی؟ عوام کی امید نا امیدی میں بدل رہی ہے۔ تبدیلی آتے دیر کتنی لگتی ہے۔اپوزیشن کے چیخ چیخ کے گلے بیٹھ گئے کہ 9 ماہ قبل مہنگائی 3 فیصد تھی۔ آج 10 فیصد ہوگئی۔ مزید مہنگائی کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ مصدق ملک اور شیری رحمان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف آئی ایم ایف سے ہی مذاکرات کر رہا ہے۔ ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں، معاہدہ ہوگا۔ جذئیات پر اتفاق ہوچکا چند معاملات (غالباً لین دین کا معاملہ طے ہونا باقی ہے) پر بات چیت ہوگی اور معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے۔ آئی ایم ایف تین سالہ پروگرام کے تحت پاکستان کو 8 ارب ڈالر قرضہ دے گا۔ مرے پہ سو درے، آئندہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی کے مقابلے میں ٹیکس کی شرح 11.7 فیصد سے بڑھا کر 13.2 فیصد کردی جائے گی۔ حکومت نے آئندہ بجٹ میں سبسڈی ختم کر کے 750 ارب کے ٹیکس لگانے کا پلان پیش کردیا۔ شنید ہے کہ آئی ایم ایف کی سربراہ خوشی سے اچھل پڑی،( پتا نہیں بغلیں بجائیں یا نہیں) معاملات طے ہوگئے۔ گیس، بجلی، پیٹرول سب مہنگا۔ عوام کی چیخیں نکل گئیں۔ آسمان تک پہنچ رہی ہیں فرشتے حیرت زدہ ہیں ہماری وزیر کو سنائی نہیں دے رہیں ،کہنے لگیں چیخیں عوام کی نہیں لٹیروں کی نکل رہی ہیں۔ عوام مہنگائی کے ہاتھوں پریشان، لیڈر چیخوں پر مناظرہ کر رہے ہیں۔ کس کی چیخیں ہیں، آواز کتنی بلند ہے کتنی بلند ہوگی تو نیندیں اڑائیں گی۔ بریفنگ میں تو کہا گیا کہ عوام خوش ہیں اور آپ کی آل اولاد کو دعائیں دے رہے ہیں جب ہی تو وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا تھا کہ عوام دو سو روپے لیٹر پیٹرول بھی برداشت کرلیں گے۔ وزیر اعظم نے بھی کہہ دیا کہ ملکی قرضے مہنگائی کی وجہ ہیں۔ قوم کو مشکل حالات برداشت کرنے پڑیں گے، قرضے نہ لیتے اپنے نائب وزیر اعظم سے قرض حسنہ لے لیتے کہ ملک ترقی کرے گا تو آپ کو واپس کردیں گے۔ 8 ارب ڈالر معمولی رقم ’’اے ٹی ایم‘‘ سے باآسانی نکلوائی جاسکتی تھی۔ 8 ارب ڈالر دینے کیا مشکل ہیں۔ دائیں بائیں اے ٹی ایم مشینیں، بے حساب دولت، خوامخواہ آئی ایم ایف سے ناطہ جوڑا، اپنوں سے مل جاتے تو عوام مہنگائی کی بھٹی میں نہ جلتے، کیا پالیسی ہے کہ امیروں کے لیے ایمنسٹی اسکیم غریبوں کے گلے میں مہنگائی کا طوق، سود خور عالمی ادارہ اپنی شرائط پر قرض وصول کرے گا۔ قرضے لینا بری بات نہیں، ہر ملک قرضے لیتا ہے ایمان سے امریکا بھی اربوں کھربوں ڈالر کا مقروض ہے۔ اصل مسئلہ ان قرضوں کو ترقیاتی منصوبوں پر لگا کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تاکہ عوام خوشحال زندگی گزار سکیں۔ ایک سابق وزیر اعظم نے پوچھ لیا کہ 9 ماہ کے دوران جو قرضے لیے ان کا کیا کیا؟ مناظرے چلتے رہیں گے، قوموں کے زوال کی نشانی ہے، اس پر غور کیجیے کہ قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، عجیب لایعنی بات ہے قیمتیں کیا باتیں کریں گی۔ دراصل ان قیمتوں سے بے ہوش ہونے والے پندرہ سولہ بلکہ اب سترہ اٹھارہ کروڑ عوام آسمان کی جانب ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے نجات کی دعائیں کرنے لگے ہیں۔ آسمان دنیا پر تعینات فرشتے فرط حیرت سے انگشت بدنداں ہیں کہ ’’کام کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو‘‘ غور سے سنو یہ آواز ہے کیا اپنے ہی لوگوں کو بھوکوں مارنے کی تگ و تاز ہے کیا۔ ڈھیر ساری شکایات لے کر رب ذوالجلال کے حضور پیش ہوئے مالک دو جہاں جسے آپ نے خود تخلیق کیا تھا اس کی فریاد سن لیجیے، حکمران تو چیخ و پکار سن نہیں رہے، کان لپیٹے پڑے ہیں۔ آپ سمیع و بصیر ہیں، دربار خداوندی میں معروضات پیش کر کے واپس لوٹ آئے، ایک جلیل القدر فرشتے نے دوسروں سے کہا سب اعمال کا نتیجہ ہے جیسے اعمال ویسے حکمران وہ کیا کہتے ہیں جیسی روح ویسے فرشتے جیسا منہ ویسی چپیڑ (تھپڑ) رونا کس بات کا؟ پانچ سال کی جدوجہد سے اقتدار میں لائے اب پانچ سال تک کیونکہ چونکہ چنانچہ اور اب جب تب کی گردان سنتے رہو، کم و بیش 37 وزیر مشیر رات دن ان 6 الفاظ کی رٹ لگائے ہوئے ہیں، پوری پاکستانی سیاست ان 6 حروف ابجد کے گرد گھوم رہی ہے، یقین نہ ہو تو شاہ محمود قریشی، مراد سعید، شیخ رشید اور دیگر وزیروں کی تقریریں اور بیانات پڑھ دیکھیے۔’’ کیونکہ چور لٹیرے ملک کھا گئے۔ 50 ارب کے قرضے لے کر ملک کو تباہ کر دیا چونکہ خزانہ خالی ملا چنانچہ مہنگائی اور مشکلات آئیں گی۔ اب مہنگائی کا رونا رویا جا رہا ہے جبکہ اس دور میں بھی دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہہ رہی تھیں تب تو کسی نے کچھ نہیں کہا،’’ ادارے تباہ کردیے اب جب حالات بہتر ہوں گے تب قدم آگے بڑھائیں گے’’ چونکہ خزانہ خالی ملا کیونکہ حکومت چلانی تھی، چنانچہ قرضہ لینا پڑا‘‘ چونکہ چنانچہ اور اب تب میں دن گزر رہے ہیں، وہ بھی ہیں آرام سے اور ہم بھی ہیں آرام سے، فرشتوں کی حیرت بجا ہے انہوں نے ایسی بدحالی پہلے کا ہے کو دیکھی ہوگی، یقینا انہوں نے رب دو جہاں سے شکایت کی ہوگی کہ ’’کیسے بندے ہیں یہ خدا تیرے، ہر جگہ سرجھکائے رکھتے ہیں اور چند پاگل ہیں تیری دھرتی میں، سب کو پاگل بنائے رہتے ہیں۔‘‘ صورتحال کیا ہے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں عوام سختیاں سہنے پر مجبور، بیل آئوٹ مذاکرات میں 700 ارب کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے اور ریونیو کا ہدف 5550 ارب روپے کرنے کی ضد، نہیں کرسکتے تو قرضہ نہیں ملے گا، ایک سال میں ٹیکسوں کا 700 ارب کا ٹارگٹ بڑا بوجھ ہے عوام کیسے برداشت کریں گے،کمر پہلے ہی ٹوٹ چکی ہے، چند ماہ قبل گیس کے بل سیکڑوں سے ہزاروں اور ہزاروں سے لاکھوں کردیے گئے تھے، وزیر اعظم کی ہدایات کے باوجود کہاں واپس کیے گئے بلوں کی واپسی کا معاملہ گول، جو لوگ شکایت لے کر گئے انہیں کہا گیا، واپسی کبھی نہیں ہوگی، قسطیں کرالیں، گیس کمپنیوں کو اربوں کی ضرورت ہے 247 ارب عوام کے پیٹوں سے نکالنے ہیں کس سے فریاد کریں، کس سے داد رسی چاہیں، پیٹرول 108 مزید اضافہ کی باتیں، ڈالر 142 روپے 170 تک جانے کی افواہیں، مہنگائی کے طوفان پر قابو کیسے پایا جائے گا۔ معاشی تجزیہ کاروں کا دعویٰ کہ پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی کا ایسا طوفان اٹھے گا کہ پاکستان کے عوام کی دو تہائی سے زیادہ اکثریت دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہوجائے گی۔ کسی بری گھڑی میں بری بات کہی۔ سچ ہوگئی، ہمارے ڈرائیور کو موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد نے پستول دکھا کر لوٹ لیا۔ ڈرائیور نے احتجاج کیا کہ بھائی آج ہی تنخواہ ملی ہے جو مکان کے کرائے، بجلی گیس کے بلوں، اور دو بچوں کی فیس میں خرچ ہوجائے گی۔ رحم کرو، مسلح افراد نے اسی اخلاق و محبت سے جواب دیا، بڑے بھائی معاف کرنا ہمارے بچے چار دن سے بھوکے بیٹھے ہیں بے روزگار ہیں کہاں سے لائیں کہاں سے کھلائیں اللہ میاں تمہیں اور دے گا یہ کہہ کر چلے گئے، ڈرائیور بھائی چار دن سے قرضہ مانگتے پھر رہے ہیں لیکن آئی ایم ایف کی طرح کوئی دینے کو تیار نہیں سوچنا ہوگا کہ

نہ جانے کیسی گھڑی کسی خطائیں ہوگئی ہم سے

ہمیں ہر موڑ پر رسوائیاں آواز دیتی ہیں

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن کے چیخنے چلانے، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑنے اسپیکر ڈائس کا گھیرائو کرنے سے کیا حالات سدھر جائیں گے؟ کچھ نہیں ہوگا، آنے والے نئے نہیں کھل کھیلے ہوئے ہیں 22 سال کے تربیت یافتہ، تربیت بھی ماہر ٹرینرز کے ہاتھوں ہوئی، احتجاج کی گہرائی اور چیخنے والوں کی گیرائی کا ادراک رکھتے ہیں جانتے ہیں ’’یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں‘‘ چوروں لٹیروں کی گردان کرنے سے کیا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’جیل تک لے تو گئے ہم کو زمانے والے، ہاں مگر ہم کو گناہ گار نہیں کر پائے‘‘ چونکہ چنانچہ اور اب تب کی تکرار سے مہنگائی کم نہیں ہوگی اور کتنی ہوگی دیکھتے جائیے۔


ای پیپر