دا تا در با ر میں خو د کش حملہ اور سا نحہ کاتجزیہ
12 May 2019 2019-05-12

یہ جولائی 2010کی یکم تا ریخ تھی، اور جمعرات کا روز تھا، جب داتا در بار میں دو خو د کش حملہ آ ورو ں نے اپنے آ پ کو ھما کے سے اڑا لیا۔ دھماکے اس قدر شد ید تھے کہ پچا س کے قر یب زا ئر ین مو قع پر شہید ہو گئے اور دو سو سے ز یا دہ ز خمی ہونے کی اطلا ع تھی۔ یا د د لا دو ں کہ کہ یہ وہ زما نہ تھا جب وطنِ عز یز میں د ہشت گر دی اپنے عر و ج پہ تھی۔ تب خو د کش بمبا ر و ں نے جمعرا ت کا روز اس لیے حملے کے لیئے چنا تھا کہ جمعرا ت کا روز صو فیا کرا م کے مزا رو ں پے حا ضر ی دینے کیلئے متبر ک سمجھا جا تا ہے۔ اب اس مر تبہ آٹھ مئی کا روز اس لیئے چنا کہ رمضا ن شر یف کے مقد س مہینے کا آ غا ز ہو چکا تھا۔ سب ہی جا نتے ہیں کہ رمضا ن کے مقد س مہینے میں داتا دربا ر پہ ز ا ئر ین کی آ مد عرو ج پہ ہو تی ہے۔ تا ہم خدا ئے پا ک کا شکر ہے کہ اب وہ وقت آ چکا ہے کہ دہشت گرد ی میں خا طر خو ا ہ کمی آ چکی ہے۔چنا نچہ خو د کش بمبا ر در با ر میں د ا خل ہو نے میں کا میا ب نہ ہو سکا، اور اس نے ایلیٹ پو لیس کی و ین کے قر یب خو د کو اڑا کر 4 پو لیس سمیت 2 افراد والوںکی شہا د ت کا با عث بنا۔ بہر حا ل اب صورتِ حا ل کچھ یو ں ہے کہ داتا دربار کے باہر خود کش حملہ کے بعد سے لاہور کی فضا سوگوار ہے، دھماکہ کے مقام کا راستہ بند ہے۔ کرائم سین سیل ہے جبکہ ایلیٹ فورس کی حملہ میں تباہ ہونے والی گاڑی کو واقعہ کی جگہ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ میڈیا کے مطابق پولیس اور فرانزک حکام نے جائے وقوع سے تمام شواہد اکٹھے کیے ہیں، تفتیش میں تیزی لائی جارہی ہے۔ دہشت گردی مخالف ماہرین بم بلاسٹ کے بعد کی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں جس میں بمبار کی شکل واضح نظر آتی ہے، تفتیش دراز ہونے کی توقع ہے۔ ماہرین کے مطابق لاہور میں دہشت گردی ماضی کی وارداتوں میں ملوث عناصر کے افغانستان کنکشن کا سراغ لگایا گیا تھا اسی طرح داتا دربار کے خود کش بمبار کے سرپرستوں اور نیٹ ورک سے وابستہ ماسٹر مائنڈز تک رسائی کے لیے تحقیقات کثیر جہتی ہوگی اور جلد قوم کو آگاہ کیا جائے گا۔ تاہم سانحہ کے محرکات اور خود کش بمبار سے متعلق ڈیٹا کی دستیابی کے لیے ٹیموں کی تشکیل کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔

دہشت گردی سے متعلق معلومات رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ خود کش بمبار کسی قریبی گلی میں سے باہر نکلا، اسے سی سی ٹی فوٹیج میں جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، اسے چلتے ہوئے مشکل پیش آرہی ہے۔تحقیقاتی ایجنسیز کے لیے یہ اصل امتحان ہے کہ یہ پتہ چلایا جائے کہ وہ کس گلی سے باہر نکلا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ موبائل میں موجود اہلکار یہ اندازہ کیوں نہ لگاسکے کہ ان کی طرف آنے والا مشکوک شخص بمبار بھی ہوسکتا ہے۔ لہٰذا دہشت گردی کی اس نئی لہر کے بنیادی محرکات اور سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے حکام بلوچستان سمیت ملک بھر میں انتہا پسند نیٹ ورک کے سلیپنگ سیلز اور روپوش کارندوں کا تعاقب کرنا، ان کے ہینگ اوورز کو دبوچنا اور انتہا پسندی کے بیانیہ کے ماخذوں تک رسائی حاصل کرنے کا ٹاسک مکمل کرنا ہوگا۔ چیلنج انتہا پسندی کے نیٹ ورک کی موجودگی کا ہے۔ دہشت گردوں کے ہینڈلروں، نام نہاد کمانڈروں اور ماسٹر مائنڈز کو کیفرکردار تک پہنچانے کا ایک اہم مرحلہ آپریشن ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد میں پورا ہوا ہے مگر دہشت گردوں کی باقیات کا مسئلہ بدستور موجود ہے۔ سیکورٹی حکام اس نکتہ پر بھی لازماً غور کریں گے کہ داتا دربار کے قریب خود کش بم دھماکہ کا مطلب طالبانیت کے عفریت کا ’’سٹرائیک بیک‘‘ تو نہیں۔ کیا ٹی ٹی پی کا جن بوتل سے باہر آنے کو بیتاب ہے؟ کیا خود کش بمباری کے لیے برین واشنگ مقامات پر چھاپوں کا وہی سلسلہ شروع کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں طالبان کے عقابوں کے نشیمنوں کو ٹھکانے لگایا گیا تھا۔ دہشت گردوں کی دیومالائی طاقت کا بھرم خاک میں ملادیا گیا۔ ان کے خفیہ ٹھکانے تہس نہس کیے گئے، اسلحہ کے انبار قبضے میں لیے گئے، حتیٰ کہ طالبان کی پوری قیادت پسپا ہو کر افغانستان فرار ہوگئی، جہاں سے آج بھی ان کے بچے کھچے لوگ پاکستان کے اندر دہشت گردی کرانے کے لیے خود کش بمبار بھیجتے ہیں۔ دہشت گردی مقامی مسئلہ نہیں، اس کا وائرس عالمی نیٹ ورکس سے جڑا ہوا ہے۔ 22 اکتوبر 2016ء کو ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں وفاقی حکومت سے استدعا کی گئی تھی کہ بلوچستان اور ملک کے دیگر دور افتادہ پسماندہ علاقوں میں دہشت گرد تنظیمیں بچوں کے اغوا میں ملوث ہیں۔ ان کے خفیہ نیٹ ورک معصوم بچوں کو ان کے گلی کوچوں سے کھیلنے کے دوران غائب کرتے ہیں، یہ بچے خود کش بمبار بنانے کے لیے را میٹریل کا کام کرتے ہیں۔ اس مسئلہ پر بلوچستان اسمبلی کے فلور پر صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے اظہارِ خیال کیا تھا۔ انہوں نے بچوں کے اغوا میں ملوث افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں سے بچوں کے غائب ہونے کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی تھی۔ جبکہ پولیس اور انٹیلی جنس افسروں نے اس رپورٹ کی تیاری میں کردار ادا کیا تھا۔ داتا دربار کے مشکوک خود کش بمبار کی عمر، اس کی لاہور میں کسی رہائش گاہ میں عارضی روپوشی اور موقع کی مناسبت سے ہدف تک پہنچنے کی عیاری اور اعتماد نے سیکورٹی میکنزم پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ بات وہی ہے کہ کیا اس خود کش بمبار کی تربیت اور اس کی ریڈیکلائزیشن ان ہی اغوا شدہ بچوں کی کھیپ سے مربوط ایک منظم مجرمانہ اور ریاست دشمن بیانیہ کا اثبات تو نہیں۔ دشمن کا انتہا پسندانہ بیانیہ ایک مضبوط ریاستی رد بیانیہ کا متقاضی ہے۔ صائب حکمت عملی یہی ہوسکتی ہے کہ انتہا پسندی کے مکتب فکر کو ہدف پر لیا جائے۔ دہشت گردی کے واقعہ کی تحقیقات و تفتیش جاری رہنی چاہیے مگر اس کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے ماخذ اور اس عفریت کے فکری، سماجی، معاشی، مذہبی اور نظریاتی پہلوئوں پر اوپن مکالمہ کا اہتمام کیا جائے۔ ایک دور تھا جب بیت اللہ محسود کی قیادت میں طالبان کے 13 دھڑے اس کی زیر نگرانی دہشت گردی کے نیٹ ورکس سے وابستہ تھے۔آج صورتحال مختلف ہے۔ دہشت گردی کا سحر ٹوٹ چکا ہے، ان کی طاقت ملیامیٹ اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی رعونت خاک بسر ہوئی ہے۔ مگر اطلاعات ہیں کہ دہشت گرد پھر سے فعا ل ہو نے لگے ہیں۔ واضح رہے گزشتہ دنوں فاٹا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے یکے بعد دیگرے واقعات کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم بلوچ دہشت گرد تنظیموں نے قبول کی تھی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ دہشت گردوں کو سر اٹھانے کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔ جن سفاک قوتوں نے جمہوریت، انسانیت، انسانی حقوق اور آدمیت کی بنیادی قدروں کو پامال کیا آج ان کے کسی دھڑے کا داتا دربار کے قریب خود کش دھماکہ کرنا سوچ و تفکر و تدبیر کے کئی در وا کرتا ہے۔ یہی خود کش بمبار داتا دربار کے اندر تک پہنچ جاتا تو کتنی تباہی ہوتی؟


ای پیپر