دہشت گرد سر اٹھا نہ پائیں
12 May 2019 2019-05-12

کوئٹہ کے پانچ ستارہ ہوٹل میں دہشت گردوں کی جانب سے خوفناک حملہ کیا گیا تاہم سکیورٹی گارڈز نے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کر کے تخریب کاری و دہشت گردی کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ دہشت گردوںنے سکیورٹی گارڈز پر فائرنگ کی اور ہوٹل میں داخل ہو گئے تاہم سکیورٹی فورسز نے انہیں ٹاپ فلور پر جانے والی سیڑھیوں پر ہی محصور کر لیااور حملہ آور تینوں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ دہشت گردی کی اس کاروائی میں دوسیکورٹی گارڈز شہید ہوئے ہیں ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے پی سی ہوٹل پر حملہ سے متعلق اطلاع دیتے ہوئے کہاہے تمام مہمانوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ اسی طرح صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لانگو کا کہنا ہے کہ حملہ میں چند افراد زخمی ہوئے ہیں مگر ان میں کوئی غیر ملکی شامل نہیں ہے۔ ہوٹل میں موجود تمام افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کر کے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ چینی سفارت خانہ نے پی سی ہوٹل گوادر پر حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کے جرأتمندانہ اقدامات کو سراہا ہے۔ ادھر دو دن قبل لاہور میں حضرت علی ہجویری رحمۃ اللہ کے مزار( داتا دربار) پر بھی بم دھماکہ کیا گیا جس میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت10سے زائد افرادشہید ہو ئے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے ان واقعات کی مکمل چھان بین کر رہے ہیں۔

افواج پاکستان اور سکیورٹی اداروں کی طرف سے پاکستان میں دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کچلنے کیلئے بے پناہ قربانیاں پیش کی گئیں اور انہی قربانیوں کے پیش نظر وطن عزیز پاکستان میں الحمد اللہ امن قائم ہوا۔ اس میں بلاشبہ پاکستانی قوم کا بھی لازوال کردار ہے ۔ دہشت گردوں کے بزدلانہ حملوں کے دوران عوامی سطح پر بھی جس طرح جرأتمندانہ انداز میں شہادتوں پر صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا گیا اور پوری پاکستانی قوم نے افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دیا‘ اسے بھی تاریخ میں سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا۔ دہشت گردی کی کاروائیوں میں جس طرح ہزاروں فوجی، رینجرز اور پولیس کے علاوہ دیگر اداروں سے وابستہ لوگ شہید ہوئے اسی طرح عام پاکستانیوںنے بھی ہزاروں کی تعداد میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی رااور دیگر بین الاقوامی خفیہ اداروں کی گزشتہ برسوں میں پوری کوشش رہی ہے کہ کسی طرح افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ کو پاکستان کی سرزمین پر منتقل کر دیا جائے اور افغان سرزمین کو بیس بنا کر وطن عزیز پاکستان میں دہشت گردی اور خونریزی کا بازار گرم رکھا جائے لیکن ان کی یہ سب کوششیں اللہ کے فضل و کرم سے بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی ہیں۔ افغانستان میں انہیں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس وقت وہ باعزت واپسی کے راستے تلاش کر رہے ہیں تو دوسری جانب پاکستان میں بھی ہماری بہادر افواج اورسکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کے سلسلہ میں قائم کئے گئے ان کے تمام نیٹ ورک بکھیر کر رکھ دیے ہیں ۔ پاکستانیوںنے وہ مشکل وقت بھی دیکھا ہے جب ہر روز دھماکے ہوتے اور بیسیوں افراد کی شہادتیں ہوتی تھیں لیکن پاکستانی قوم بشمول افواج پاکستان کی مجموعی قربانیوں کے نتیجہ میں اب یہ صورتحال نہیں ہے۔ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ ضرب عضب جیسے آپریشن انتہائی کامیاب رہے ہیں۔ آج اگر کہیں اکا دکا دہشت گردی کے واقعات ہوتے ہیں تو یہ بیرونی خفیہ اداروں کی جانب سے یہاں دہشت گردوں کی موجودگی ظاہر کرنے کی سازشوں کا حصہ ہے۔ خاص طور پر انڈیا جس نے پاکستان کو وجود کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا وہ بم دھماکوں اور دہشت گردوں کی وارداتوں میں پیش پیش ہے۔ 1971ء میں پاکستان کو دولخت کرنے والا بھارت ایک مرتبہ پھر وہی ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے اس کیلئے بھارتی ایجنسیوں نے بلوچستان، سندھ و دیگر علاقوں میں لسانیت و صوبائیت پرستی کی بنیاد پر تحریکیں کھڑی کیں اورتخریب کاری کیلئے اربوں روپے خرچ کئے گئے۔ ملک میں دھماکے اور خود کش حملے پروان چڑھانے کیلئے کلبھوشن جیسے نیٹ ورک قائم کئے گئے اور افغانستان میں دہشت گردوں کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی گئیں بلکہ سرحدی علاقوں میں قونصل خانوں کے نام پر دہشت گردی کے اڈے قائم کئے گئے۔ بھارتی فوج یہاں دہشت گردوں کو ٹریننگ دے کر پاکستان کے مختلف علاقوں میں داخل کرتی ہے جو یہاں تخریب کاری و دہشت گردی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ کوئٹہ، پشاور، کراچی، لاہور ،اسلام آباد، راولپنڈی سمیت ملک کا کوئی شہر تخریب کاری سے محفوظ نہیں رہا۔سانحہ پشاور اے پی ایس جیسے واقعات بھی پیش آئے۔ دہشت گردمعصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہے تاہم افواج پاکستان اور دفاعی اداروں نے پچھلے چند برسوں میں جرأت اور بہادری کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی اور پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان اس جنگ میں کامیاب ہواہے۔

پاکستان میں امن و امان کی صورت حال بہتر اور سی پیک جیسے منصوبوں کی کامیابی سے معاشی طور پر ملک کو مضبوطی کے راستے پر گامزن ہوتا دیکھ کر بھارت سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ اسے اب تک یہاں تخریب کاری کیلئے خرچ کئے گئے اپنے اربوں روپے ضائع ہوتے نظر آرہے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کسی طور ہمسایہ ملک کو برداشت نہیں ہو رہا۔ جنوبی ایشیا میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل یہ منصوبہ جوں جوں تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے انڈیا کے اوسان خطا ہو رہے ہیں۔ اگرچہ گوادر میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ میں کسی غیر ملکی مہمان کو نقصان نہیں پہنچا مگر دہشت گردی کی یہ بزدلانہ واردات انہی مذموم سازشوں کا حصہ ہے۔ برادر ہمسایہ ملک بھی بھارتی دہشت گردانہ کردار سے بخوبی واقف ہے اورپاکستان کی قربانیوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ پاکستانی دفاعی ادارے گوادراور لاہور میں ہونیو الے دہشت گردانہ حملوں کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔ اس سلسلہ میں اہم نوعیت کے اجلاس بھی ہوئے ہیں جن میں دہشت گردی کے ان واقعات کے تمام پہلوئوں اور محرکات کا جائزہ لیا گیا ہے۔پاکستانی قوم کو افواج پاکستان اور اپنے اداروں کی جرأت و بہادری اور اللہ رب العزت کی طرف سے عطا کردہ صلاحیتوں پر فخر ہے۔ پاکستان کے خلاف بنے گئے عالمی سازشوں کے جال ٹوٹ رہے ہیں۔ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا یہ ملک ان شاء اللہ قائم و دائم رہے گا اور دشمن قوتوں کی اسے عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ پاکستانی قوم کا ہر فرد حوصلے میں اور اپنی بہادر افواج اور اداروں کے ساتھ ہے۔ دہشت گردوں کودوبارہ یہاں سر اٹھانے کا موقع نہیں ملے گا۔یہ ملک پوری امت مسلمہ کی امیدوں کا مرکز اور عالم اسلام کی دفاعی قوت ہے۔ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور لاکھوں جانوں کی قربانیاں پیش کر کے حاصل کیا گیا یہ خطہ ترقی کی مزید منزلیں طے کرے گا۔ دشمن قوتوں کی طرف سے اسے معاشی طور پر کمزور کرنے کی سازشیں بھی جلد دم توڑ جائیں گی۔ پاکستان زندہ و تابندہ رہے گا۔ صرف پاکستانی قوم ہی نہیں پورے عالم اسلام کی دعائیں اس کے ساتھ ہیں۔


ای پیپر