نفیس زکریا کا خواب
12 May 2019 2019-05-12

پاکستان میں زبان زدعام ہونے والی منی لانڈرنگ کو روکنے میں پاکستان ہائی کمیشن کیا کردار ادا کر رہا ہے؟ کیا تیسری بار مختلف ذمہ داریاں سنبھالنے والے ہائی کمشنر سے برطانیہ میں رہنے والے پاکستانی مطمئن ہیں؟ ایسے کئی سوال ذہن میں جگہ بنا رہے ہیں۔ جب میں نے پاکستان ہائی کمیشن لندن کی عمارت میں داخل ہونے کے لیے سیڑھیوں پر پہلا قدم رکھا۔ یہ عمارت 1996ء میں پاکستان نے خرید لی تھی۔میرے ساتھ، اعظم، پاکستان پریس کلب یوکے ، کیصدر مبین چودھری، سینئر صحافی میر اکرام شاہ اور اکرم عابد چودھری ہیں۔ پریس اتاشی منیر احمدنے ہمیں خوش آمدید کہا۔ کچھ دیر مہمان خانے میں بیٹھے۔ اتنے میں مسکراتے چہرے کے ساتھ نغمانہ بٹ آئیں اور کہا میرے پیچھے پیچھے آجائیں۔ لمحے بعد ہی ہنستے ہوئے وضاحت کردی۔ صرف ہائی کمشنر آفس تک۔ ہم سب ٹی وی پر خواتین اینکرز سے برسوں سے سنتے آ رہے ہیں۔ کہیں مت جائیے گا۔ ہمارے ساتھ رہیے گا۔ پھر وہ خود بریک پر چلی جاتی ہیں۔ اس لیے ہم سب نے نغمانہ بٹ کے جملے کا لطف اٹھایا اور باجماعت پیچھے پیچھے چل دیئے۔

پاکستانی ہائی کمشنر نفیس زکریا نے آفس کے دروازے پر استقبال کیا۔ جس کے بعد صوفوں پر سب نے اپنی اپنی جگہ سنبھال لی۔ چائے اور کافی سرو ہونے تک تعارف کا مرحلہ طے پا گیا۔ گرما گرم مشروب کی چسکیاں لیتے ہوئے گفتگو شروع ہو گئی۔

دفتر خارجہ کیسابق ترجمان اور اب برطانیہ میں ہائی کمشنر نفیس زکریا نے دھیمے اور مضبوط لہجے میں بتانے لگے کہ وہ پاکستان اور برطانیہ کے تاجروں کو ملانے پر کمربستہ ہیں۔ پاکستان یوکے چیمبر کے وفد کے حالیہ دورہ پاکستان کو بھی انہی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔ ہم نے وفد کی جانب سے بوئنگ طیارہ دینے کی پیشکش پر حیرانی کا اظہار کیا تو کہنے لگے۔ یہ ایک پیشکش ہے جس کو عملی جامہ کیسے پہنایا جائے گا۔ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ویسے پاکستان اور برطانیہ کے لیے قومی ایئرلائن کی 20 پروازیں چلانے کی ضرورت ہے۔

نفیس زکریا نے پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے اپنی کوششوں کا بتایا۔ برطانوی اخبار میں یوم پاکستان پر دوصفحات پر مشتمل مضمون بھی دکھایا کہ گارڈین اخبار میں پہلی بار دوصفحات پاکستان پر ہیں۔ صفحات کے اوپر چھوٹا سا ایڈورٹائزنگ لکھا یے اور نیچے سپانسرز کے لوگو چھپے ہیں۔ ہم نے اسے نظرانداز کرتے ہوئے سوال کیا۔ پاکستان کے سیاحتی مقامات پر رہائشی سہولتوں کو ممکن بنائے بغیر غیرملکی سیاحوں کو بھجوانا کیا درست ہوگا؟ ویسے بھی پرفضا مقامات پر ملکی سیاحوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔اس سوال پر نفیس زکریا زور دے کر بولے۔ رہائشی سہولتوں کے کم زیادہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ سیاح کو سیاحت سے غرض ہوتی ہے قیام سے نہیں۔ انہیں جہاں جگہ ملے خیمہ گاڑ لیتے ہیں۔ مقامی آبادی بھی اپنے کمرے کرایے پر فراہم کر دیتی ہے۔ اس جواب سے ہم مطمئن نہ ہو پائے کیونکہ تین سال پہلے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے لاہور میں ملاقات کے دوران بتایا تھا کہ ان کے پاس بمشکل دس ہزار سیاحوں کے قیام کی سہولت ہے۔ سیزن میں سیاح ایک سے دو لاکھ تک فیمیلز کے ساتھ آجاتے ہیں۔ ساتھ ہی یقین دہانی کرائی، ہوٹل اور مقامی گھروں کو ملا کر کوشش ہے۔ دس ہزار کی گنجائش ایک لاکھ تک بڑھالیں۔ اب ان کی پارٹی مسلم لیگ ن کی حکومت مرکز میں نہیں رہی۔ پتہ نہیں خواب کیسے حقیقت بنتا ہے۔

خیال سے دوبارہ حال میں آئے اور اس منصوبے کا ذکر چھیڑا جو نفیس زکریا کا اپنا آئیڈیا ہے۔ سوال سنتے ہی وہ صوفے پر آگے کو جھکے اور بولے۔ میری کوشش ہے برطانیہ کی دس یونیورسٹیوں کے کیمپس پاکستان میں کھولے جائیں۔ جس کے لیے مختلف یونیورسٹیوں سے ملاقاتیں جاری ہیں۔ اس سے جہاں برطانیہ آکر پڑھنے والوں کو اپنے ملک میں ہی وہی معیار اور ڈگری مل پائے گی وہیں زرمبادلہ بھی بچے گا۔ اوورسیز میں اپنوں سے دور طلبا جن مسائل سے گزرتے ہیں وہ ہولناک ہیں۔ برطانیہ کی آبادی کم ہے، یہ اپنے اداروں سے فارغ التحصیل طلبا کو خوش آمدید بھی کہیں گے۔ نفیس زکریا کا یہ خواب اچھا لگا۔ پوچھا، کسی سے بات بن بھی پائی؟ بولے ایک سے ہو گئی ہے۔ لا اینڈ آرڈر اور محکمانہ کارروائیوں پر تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ کوشش ہے اس منصوبے پر ون ونڈو آپریشن کی سہولت مل جائے۔ یہ غیرملکی سرمایہ کاری بھی ہے اور اپنی نسلوں کی ذہنی آبیاری بھی۔ لہجہ بتا رہا ہے۔ نفیس زکریا اپنے خواب کو حقیقت دینا چاہتے ہیں۔زمینی حقائق کہہ ہے۔ اک عمر چاییے قطرے کو گہر ہونے تک۔

اعظم چودھری اور میرے سوال ختم ہونے میں نہیں آرہے ہیں۔ گفتگو کے دوران نفیس زکریا ایک دوبار کلائی گھڑی پر نظر ڈال چکے ہیں۔ ہم نے برطانیہ میں پاکستانی صحافتی کمیونٹی کے ساتھ ہائی کمیشن کے تعاون کا پوچھا۔ کیا ان سے صرف مصافحہ کرنے اور پریس ریلیز تک معاملات رکے ہیں یا پاکستان کی امیج بلڈنگ کے لیے بھی تعاون لیتے ہیں۔ نفیس زکریا نے اصل سوال نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔ انگریزی زبان میں چینل نہ ہونے کی وجہ سے ہم اپنا پیغام موثر انداز میں پہنچا نہیں پارہے۔انگریز تو دور کی بات پاکستانیوں کی اردو نہ سمجھنے والی نسل کو بھی ابلاغ نہیں ہو پارہا۔ پاکستانی ہائی کمشنر کے جواب سے بین السطور میں ہمیں اپنے سوال کا جواب بھی مل گیا۔ بس صاحب سلامت ہے بھائی اور کیا۔

آخری سوال منی لانڈرنگ سے متعلق پوچھ ہی لیا۔ کتنے ہی پاکستانی منی لانڈرنگ کرکے رقم برطانیہ لائے۔ گزشتہ برس برطانیہ میں نیا قانون بھی آچکا۔ عمران خان کی حکومت بھی منی لانڈرنگ روکنے کے لیے بے چین ہے۔ ہائی کمیشن دونوں ممالک میں منی لانڈرنگ روکنے کے لیے کوئی کردار ادا کر پا رہاہے؟ نفیس زکریا نے نفی میں سر ہلا دیا۔ ' ہم بھلا اس معاملے میں کیا کر سکتے ہیں '

گفتگو میں ابھی تشنہ ہے لیکن کیا کریں نفیس زکریا کی اگلی میٹنگ تاخیر کا شکار ہو رہی ہے۔ رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے لندن میں سینئر صحافی میر اکرام شاہ نے نفیس زکریا اور منیر احمد کو ملتانی اجرک کاتحفہ دیتے ہوئے وعدہ لیا وہ ملتان اور چولستان کو بھی غیر ملکی سیاحوں میں متعارف کرائیں گے۔ واپسی پر مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات لکھے۔

واپسی پر ساتھیوں نے وہی شکوہ دہرایاکہ لابنگ میں ہمارا ہائی کمیشن بھارت سے بہت پیچھے ہے۔ صرف یہاں کے پاکستانی اور کشمیری ارکان پارلیمنٹ انہیں گھیرے رکھتے ہیں۔ انگریز ارکان پارلیمنٹ تک وہ نمائندے بھی جانے نہیں دیتے اور ہائی کمیشن والے بھی کم کم ہی سرکھپاتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے تو اصلاح ضروری ہے۔ لابنگ تو دوسروں کو اپنا بنانے کا ہی نام ہے۔ ہمیں تو انتظار ہے۔ نفیس زکریا کب اپنے خواب کو تعبیر دے پاتے ہیں کب تعلیم کی سرمایہ کاری پاکستان لاتے ہیں۔


ای پیپر