جنتی
12 May 2019 2019-05-12

ا ک زمانہ تھا جب ریاستی میڈیا کی وساطت سے چیریٹی ڈنر کا انعقاد ہوا کرتا تھا، عمومی طور پر اس کا اہتمام ملک کی نادار ادبی شخصیات، فنکاروں ،اداکاروں کی مالی معاونت کیلئے کیا جاتا ۔معروف اداکار معین اختر مرحوم کے حصہ اسکی میزبانی آیا کرتی تھی ۔زرق برق کے لباس زیب تن کئے ہو ئے فلمی دنیا کا اک جہاں کراچی جیسے بڑ ے شہر کے کسی نامور ہوٹل آباد ہوتا تھا۔ذاتی دوستیوں سے لیکر فلمی معاشقوں تک سارے افسانے زیر بحث آیا کرتے تھے، اس پر رونق فضاء میں خدمت انسانیت کی دعوت بھی دی جاتی یوں شہر کے’’ سیٹھ‘‘ فرط جذبات سے مغلوب ہو کر اپنی اپنی تجوریوں کے منہ کھولتے اور پھر بڑی توصیف کے ساتھ ساتھ ایوارڈ لیکر رخصت ہوتے۔اس نوع کی تقریبات زیادہ تر سپانسری ہوا کرتی تھیں بسا اوقات دیار غیر میں بھی ان کے انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے پاپڑ بیلے جاتے ،سرمایہ اور افرادی قوت فراہم کرنے والے اس’’ کارخیر‘‘ کیلئے دوبئی کی ریاست کا انتخاب کرتے ، غیر ملکی فنکاروں کی بھی آشیر باد حاصل کی جاتی ،ماحول ذرا زیادہ ہی روشن خیال ہوجاتا، اس کے زیرسایہ بھاری بھر کم چندہ اکٹھا کرکے متاثرین تک پہنچانے کا فریضہ انجام دے کر ’’ثواب دارین ‘‘حاصل کیا جاتا۔ اسکی آڑ میں کچھ غیر سرکاری تنظیمیں اپنے مقاصد بھی حاصل کرتیں ،مجبور اور محکوم پسماندہ طبقات کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھا کر انہیں ’’ اپنی راہ ‘‘ پر چلانے پر اور اکسانے میں بھی کامیاب ہوجاتیں۔

اس طرز کی تقریبات کی وساطت سے’’ فیوض برکات‘‘ سمیٹنے کی باز گشت تو دور تک سنائی دیتی لیکن اس سے فیض حاصل کرنے والے آٹے میں نمک کے برابر ہوتے۔

الخدمت فائونڈیشن پاکستان نے سماج کے غریب ،پسماندہ، یتامیٰ کی بے بسی کو دل کے قریب سے محسوس کرتے ہوئے ان طبقات کو معاشرہ میں باوقار مقام دلانے اور انہیں دوسروں کے برابر کھڑا کرنے کیلئے نئی طرح ڈالی، بغیر کسی ریاستی مشینری کے ملک سے ’ ’ اہل خیر ‘‘ کو چیرٹی ڈنر کی وساطت سے دعوت خیر دی کہ وہ مستحق طبقات کی مالی مشکلات کو کم کرنے کیلئے ان کا ہاتھ بٹائیں۔

ان کی یہ کاوش ہے کہ صاحب ثروت سے وسائل لے کر ان کو لوٹائیں جو انکی امانت ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ انکی دولت میں انکا حصہ بھی رکھا ہے، الخدمت فائونڈیشن نے مذکورہ ڈنر میں اس بات کا بھی خیال رکھا کہ نظریاتی تشخص کے ساتھ اسلامی تہذیب اور کلچر بھی ان تقریبات میں پروان چڑھیں، مردوخواتین اور بچوں کی شمولیت کے ساتھ وہ حدود قیود قائم رہیں جنہیں اللہ نے مقرر کیا ہے اور انسانیت کی خدمت کے نام پرکسی کی بھی عزت نفس مجروح بھی نہ ہو اس مقصد کیلئے ان تقریبات میں ارض پاک سے نامور شعراء کرام ادیب ، کرکٹر ، کالم نگار، مصنف اور اہل دانش کو مدعو کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے اپنے تجربات حاضرین کے سامنے رکھتے ہوئے انہیں انسانی خدمت پر آمادہ کریں، اب تلک الخدمت فائونڈیشن اس مقصد میں کافی حد تک کامیاب بھی دکھائی دیتی ہے ان تقریبات میں انور مسعود،اوریا مقبول جان، خالد مسعود، امجد اسلام امجد، اختر عباس ودیگر اپنی خدمات پیش کرچکے ہیں ۔

گذشتہ دنوں ملتان میں بھی اس نوع کی سرگرمی میں شریک ہونے کی سعادت حاصل ہوئی ۔الخدمت فائونڈیشن ملتان کا ننھا پودا جو عبدالمحسن شاہین نے لگایا تھا آج ڈاکٹر امجد چغتائی،ڈاکٹر صفدر ہاشمی، ڈاکٹر ولی مجاہد،ڈاکٹر اشرف علی عتیق ، محمد فاروق نظامی، نوید اسلام کی دیوانہ وار محنت سے تناور درخت بن چکا ہے۔اسکے ڈائیگناسٹک سنٹر سے لاکھوں مریض فیض یاب ہوچکے ہیں انتہائی ارزاں نرخوں پر لیبارٹری ٹیسٹ نے مریضوں کیلئے آسانیاں پیدا کی ہیں جن کے پیچھے ڈاکٹر محمد سرور اور انکی ٹیم کی بڑی خدمت ہے۔

سالانہ ڈنر کے موقع پر حاضرین کو بتایا گیا کہ الخدمت کا ہسپتال جلد اپنی ورکنگ کا آغاز کردے گا اور مستقبل میں میڈیکل کالج کی تعمیر بھی منصوبہ کا حصہ ہے۔علاوہ ازیں صاف پانی کی فراہمی ،یتامیٰ کی پرورش، سٹریٹ چائلڈ کی تعلیم کا اہتمام، طلباء کے وظائف، بے روزگاروں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی الخدمت کے پروجیکٹ میں شامل ہیں۔اس تقریب میں معروف ادیب ، سپیکر اختر عباس نے اپنی گفتگو سے حاضرین کو خاصا محظوظ کیا اور انہیں دعوت فکر دی کہ وہ سماج کے پسماندہ طبقات کی خدمت دل کھول کرکریں اور اللہ سے معاہدہ کرکے انہیں اپنی آمدنی کا کچھ حصہ وہ ہر صورت ان طبقات کے نام کرکے اپنی اخروی زندگی کو اس لیے بھی زیادہ خوبصورت بنائیں گے۔اس موقع پر حاضر ین میں سے کچھ افراد کو اظہار خیال کا بھی موقع دیا گیا ،کچھ شکوہ کناں بھی تھے کہ الخدمت فائونڈیشن کے منتظمین خدمت انسانی کیلئے وسائل اکٹھا کرنے کے پیغام کو عام نہیں کرسکے ورنہ اہل ملتان تو اس سے بھی بڑا دل رکھتے ہیں۔ تاہم بچوں نے بھی جوق درجوق شامل ہوکر اپنے ہاتھوں سے رقوم دے کر اچھی روایت بھی قائم کی۔ اس موقع پر بھی بتایا گیا کہ یتامیٰ کیلئے مری میں آغوش کالج کا افتتاح نو مسلم برطانوی معروف جرنلسٹ لارن بوتھ سے کروا کر اچھی روایت قائم کی گئی۔الخدمت فائونڈیشن’’ چیریٹی ڈنر ‘‘نے اس کلچر ہی کوبدل دیا ہے جو چند مغرب زدہ خواتین اور این جی اوز کی کاوش سے مخصوص کلاس کیلئے منعقد ہوا کرتے تھے بجا طور پر بڑی کاوش اور قابل تحسین ہے، اس موقع کی مناسبت سے اک دوست کی زبانی سنی کہانی قارئین کی دلچسپی کیلئے پیش خدمت ہے۔

غرباء کے ایک محلہ میں اک شخص جو کسی محکمہ سے ریٹائر ہوکرآیا اس نے دوکان کھولی ہر گھر کی خواہش ہوتی کہ وہ دوکان سے ادھا ر سودا سلف لے۔دوکاندار کی بھی ضرورت تھی لیکن دوکاندار وعدہ خلافی پر بڑا سیخ پا ہوجاتا اور ادھار کی وصولی کیلئے گھر پہنچ جاتا اگر کسی کو پیسے کی ضرورت پڑتی تو یہ صاف انکار کردیتا ۔اک رات اس کے پڑوس میں اک مزدور کا لڑکا بیمار ہوگیا اس نے دوکاندار سے ادھار مانگا اس نے صاف جواب دے دیا وہ مایوس ہوکر گھر لوٹ آیا اس وقت بارش ہورہی تھی لڑکے کی بیماری ماں سے دیکھی نہ جاتی تھی، دل پے پتھر رکھ کر لڑکے کو اللہ کے حوالے کرکے میاں بیوی لیٹ کر دعائیں کرنے لگے اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی تو محلے کا ڈاکٹر کھڑا تھا اس نے لڑکے کو دوائی دی والدین نے پیسے نہ ہونے کی مجبوری ظاہر کی تو ڈاکٹر نے کہا دوائی کے پیسے کسی نے دیئے ہیں لیکن وہ نام ظاہر نہی کرنا چاہتا، لڑکے کا والد دوکاندار کا شکوہ کرنے لگا اور اسے’’ دوزخی‘‘ کے نام سے پکارا۔ڈاکٹر دوائی دے کر رخصت ہوگیا لیکن اس کا نام دوزخی پڑ گیا،اہل محلہ اس کے رویہ سے نالاں تھے۔لیکن جب بھی کوئی بیمار پڑتا ڈاکٹر اس کے گھر جاتا اور علاج کرتا مگر فیس وصول نہ کرتا بلکہ یہ کہہ کر رخصت ہوجاتا کہ کسی اللہ کے بندہ نے پہلے ہی ادا کردی ہے یہ سلسلہ چلتا رہا ادھر دوکاندار نے بھی اپنا رویہ نہ بدلا وہ ادھار کی وصولی پر اہل خانہ سے لڑنے پر بھی تیار ہوجاتا وہ غیرضروری مہلت نہ دیتا۔اہل محلہ اس کے کرخت لہجہ پر شاکی رہتے مگر اس کی تعریف بھی کرتے کہ کم از کم سودا سلف کی دستیابی صرف دوکاندار کے سبب ہی ممکن تھی ان کے لئے ا دھار سودا سلف ملنا بھی اک غنیمت تھا۔

اک رات ایسا ہوا کہ دوکاندار کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی اسکی زوجہ نے ہر گھر پر دستک دی کہ کوئی اسکی مدد کو آئے اسکو ڈاکٹر کے پاس لے جائے مگر ہر کسی نے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیا، اس اثناء میں دوکاندار کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا اہل محلہ اپنے رویہ پر شرمندہ ہوئے ہر کوئی دوزخی کی موت پر افسردہ دکھائی دیا۔ کچھ ایام کے بعد اک گھر میں ایک شخص کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی محلہ کے ڈاکٹر نے معائنہ کیا دوائی لکھ دی اور فیس طلب کی اہل خانہ کا خیال تھا کہ آج پھر کسی نے اسکو ادائیگی کردی ہوگی لیکن ڈاکٹر صاحب نے انکشاف کیا کہ وہ دوکاندار ہی انکی فیس ادا کیا کرتا تھا وہ وفات پاچکا ہے وہ دوزخی نہیں جنتی تھا۔الخدمت فائونڈیشن ایسے جنتیوں کا پلیٹ فارم ہے جو گم نامی میں انسانی خدمت انجام دے کر سفر آخرت کو آسان بنانا چاہتے ہیں۔


ای پیپر