کتاب ایک جادو نگری
12 May 2019 2019-05-12

کتاب ایک جادو ئی دروازہ ہیں،آپ اس پر دستک دیتے ہیں اورجادو نگری کھل جاتی ہے۔ آپ ایک نئی دنیا میں داخل ہو جاتے ہیں، سفر شروع ہو جاتا ہے، آپ تہذ یبوں اور ثقافتوں کا سفر کرتے ہیں، آپ ماضی میں ڈبکی لگاتے ہیں، جادوئی مستقبل کی تاریں جوڑتے ہیں، نئی کائنات کو تسخیر کرنے کے راستے تلاش کرتے ہیں،آپ سمندر کی گہرائیوں اور آسمان کی وسعتوں کا حسا ب جاننے لگتے ہیں۔آپ ایک شخص کی ساری زندگی کی محنت کو چند منٹوں میں پڑھ کرصاحب علم ہو جاتے ہیں۔ساری زندگی گزار کر لکھے گئے سفر نامے صرف چند گھنٹوں کی پڑھائی سے آپ کے ذہن پر نقش ہو جاتے ہیں۔پہاڑوں سے بہتی آبشاریں، ہوا کی گد گدی،دریاوں کا شور، پرندوں کی چہچہاہٹ ، بارش کی چھم چھم،مٹی کی مہک، پھولوں کی خوشبو،درختوں کی لہلہاہٹ، بادلوں کے رنگ اور قوص قزاح کی لکیرجیسے مناظر پلک جھپکنے میں ہاتھ باندھے آپ کے سامنے حاضر ہو جاتے ہیں اور آپ جب تک چاہیںاس جادو نگرسی کے بے تاج بادشاہ بن کررہ سکتے ہیں۔

کتاب کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ فطرت نے انسان کو سمجھانے اور سکھانے کے لیے کتاب کا سہارا لیا ہے۔ جو چیز کتاب کا حصہ بن گئی وہ صدیوں کے لیے امر ہو گئی اور جو کتاب میں نہ سما سکی وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ بلکہ میں اگر یہ کہوں کہ اللہ نے جس چیز کو زندہ رکھنا چاہا اسے کتاب کا حصہ بنا دیا اور جسے فنا کرنا چاہا اسے کتاب سے نکال دیا تو غلط نہیں ہو گا۔ کتاب ایک ایسی دنیا ہے کہ اس کے اندر سما جانے والے حقائق، واقعات، لوگ، تہذیبیں لاکھوں سالوں تک زندہ رہتے ہیں بلکہ اسے یوں کہنا چا ہیے کہ کتاب ایک ایسی دنیا ہے جس کے باسیوں کی عمریں لاکھوں سال ہوتی ہے۔ آدم کی غلطی ہو یا حوا کی پیدائش ہو، نمرود کی آگ ہو یا ابراہیم کا معجزہ ہو، فرعون کا دربار ہو یا موسیٰ کا عصا ہو، یوسف کا حسن ہو یا زلیخا کی محبت ہو، مصر کی خشک سالی ہو یا یوسف کی کامیاب حکمت عملی ہو، مریم کا معجزہ ہو یا عیسٰی کی تبلیغ ہو، حضرت محمد کی سچائی ہو یا ابوجہل کی نفرت ہو، قیصر و کسریٰ کے دربار ہوں یا عمر فاروق کی فتوحات ہوں،رومیو جولیٹ کی محبت ہو یا ہیر رانجھا کے قصے ہوں، جولیس سیزر کی بہادری ہو ہو یا بروٹس کی مکاری ہو، پہلی جنگ عظیم ہو یا ایٹم بم کے دھماکے ہوں، چاند پر پہلا قدم ہو یا نئے سیاروں کی دریافت ہو، مریخ پر پہنچنا ہو یا بلیک ہول کی تصویر کھینچنا ہو نیز کہ دنیا کا کوئی بھی عمل ہو وہ صرف اسی وقت تک زندہ رہ سکتا ہے جب تک وہ کتاب کا حصہ رہے گا۔ جس دن وہ کتاب کا حصہ نہیں رہے گا وہ مر جائے گا اور ذہنوں سے ایسا محو ہو گا کہ جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔

کتاب کی طاقت کا اندازہ آپ صرف اس بات سے لگا لیں کہ کتاب آپ کو ہنسا سکتی ہے، رلا سکتی ہے، مایوسی کے سمندر میں غوطے دلوا سکتی ہے، مایوسی کے کالے بادلوں کو ہٹا کر روشنی کی نئی کرن بن سکتی ہے۔ آپ کی زندگے بنا سکتی ہے، بگاڑ سکتی ہے۔آپ کو سلا سکتی ہے، میٹھے خواب دکھا سکتی ہے۔ آپ کو صوفی سے سائنس دان بنا سکتی ہے۔ آپ کے جذبات کی ترجمانی کر سکتی ہے۔ آپ کے احساسات کو لفظی شکل دے سکتی ہے۔ آپ کے اندر چھپے ہوئے ٹیلنٹ کو سو گنا بڑھا سکتی ہے۔ کتاب وہ جام جم ہے جس کے اندر جھانکتے ہی آپ حال، ماضی اور مستقبل سے آشنا ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی سواری ہے جو آپ کو ایک دنیا سے دوسری دنیا میں سفر کرنے کی سستی ترین سہولت فراہم کرتی ہے ۔نہ جہازوں کی ٹکٹ، نہ سٹلائیٹ کا جھنجھٹ، نہ اربوں ڈالر کی انوسٹمنٹ اور نہ ہی منزل پر نہ پہنچنے کی ناکامی کا خدشہ۔سکون ہی سکون اور اطمینان ہی اطمینان۔

کتاب کے جادوئی اور طلسماتی کرامات کے باوجود بھی مجھے یہ اقرار کرنے میں کوئی دقت نہیں ہو رہی کہ پاکستانی عوام میں آج تک کتابوں سے محبت قائم نہیں ہو سکی اور جو تھوڑا بہت رجحان تھا وہ بھی معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ جس کی ایک وجہ شرح خواندگی میں کمی ہے۔ اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق سال 18-2017 میں شرح خواندگی ساٹھ فیصد سے کم ہو کر اٹھاون فیصد رہ گئی ہے۔ پاکستان میں کم آمدنی والے طبقے میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ جس کی بدولت و ڈیرہ کلچر پروموٹ ہو گیا ہے۔ جو کہ انسان کو صاحب قلم اور صاحب علم ہونے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔جس کی ذمہ دار ریاست پاکستان ہے۔

دوسری طرف پڑھے لکھے لوگوں میں بھی کتاب پڑھنے کا رجحان ختم ہوتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ ہمارا نظام تعلیم اور انداز تعلیم ہے۔سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سارا فوکس کورس مکمل کرنے اور کورس کی کتابیں پڑھانے کی طرف ہے۔ کورس کی کتابوں کا مقصد کتاب کی اہمیت بتانے کی بجائے نوکری حاصل کرنے کے طریقوں کو اجاگر کرنے پر ہے۔ جیسے ہی کورس ختم ہوتا ہے کتابیں ماضی کا حصہ بن جاتی ہیں اور کچھ مہینوں بعد وہ ذہن سے محو ہونے لگتی ہیں۔ کتابوں کو نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھنے کی بجائے زندگی میں ہر وقت سیکھنے اور صاحب علم ہونے کا ذریعہ سمجھے بغیر کتاب سے محبت ممکن نہیں ہو سکتی۔میری گزراش ہے کہ اگر آپ کا کورس مکمل ہو گیا ہے تو آپ اس کی سپیشلائزیشن کی طرف چلے جائیں، اگر حالات اجازت نہیں دیتے تو کسی لائبریری کو جوائن کر لیں۔ جہاں ایک دن میں کم ازکم آدھا گھنٹا ضرور دیں۔ اپنی محفل تبدیل کریں۔ ایسے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کریں جن کا تعلق کتاب سے ہو۔ جس دن آپ نے زندگی بھر کے لیے کتاب سے ناطہ جوڑ لیا وہ دن آپ کی شخصیت میں مثبت تبدیلی کا دن ہو گا۔ آپ کو زندگی خوبصورت لگنے لگے گی، آپ کی سوچ کی وسعت زمین و آسمان جتنی ہو گی اور آپ بھی کتاب کی جادوئی دنیا کا ایک حصہ بن جائیں گے۔آئیں آج کتاب کا حصہ بننے کا عہد کریں تا کہ آپ بھی رہتی دنیا تک زندہ رہ سکیں۔


ای پیپر