استاد باندری سے ملاقات
12 May 2019 2019-05-12

تربوز خریدنے کے لئے نہر کنارے ایک ریڑھی کے قریب رکا تو قریب ہی ایک بندر والا اپنے بندر اور بکرے سمیت بیٹھا ہوا تھا اس کا بندر اک چھوٹا سا تربوز ”پیالہ“ بنائے ہوئے ہاتھوں میں لئے بیٹھا تھا، تربوز کھاتے ہوئے وہ اردگرد بھی ”بٹ بٹ“ دیکھ رہا تھا جبکہ بکرا آرام سے ایک طرف بیٹھا جگالی کر رہا تھا، میں نے یونہی مذاقاً بندر والے سے پوچھا : کیا تمہارا بندر سرعام تربوز کھا کر احترام رمضان کی خلاف ورزی نہیں کر رہا؟ وہ بولا سرجی! آپ دیکھ رہے ہیں گرمی نے ہر بندے کو بدحال کر رکھا ہے یہ نہر پر نہانے پر بھی سنا ہے پابندی ہے مگر غریب لوگ تپتی دوپہروں کو گھروں میں کیسے گزاریں! سبھی یہاں نہر میں نہا رہے ہیں ہمارے جھونپڑوں میں تو ویسے وی بجلی نہیں ہے، یہ ”جانور“ میرے ”کماﺅ پوت“ کی طرح ہیں، انہیں کا تماشا دکھا کر میں روٹی روزی کماتا ہوں، پر جی! اب تو گرمی میں ان ”بے زبانوں“ کی زبانیں بھی سخت گرمی سے باہر آ جاتی ہیں، میں بندر کو یہاں لے آیا، یہاں بچے، جوان نہاتے ہوئے میرے بندر اور بکرے سے محظوظ ہو کر کچھ نہ کچھ خدمت کر دیتے ہیں، آج تو اتنی سخت گرمی ہے کہ ابھی بندر کو بھی نہلایا ہے اب یہ بدن خشک کر رہا ہے۔ تربوز والے نے ترس کھا کر چھوٹا سا تربوز عنایت کر دیا ہے جو یہ کھا رہا ہے۔

تو کیا بندر کا اب بھی تماشا دیکھا جاتا ہے؟ میں نے سوال کیا تو وہ بولا: وہ پہلے جیسی بات تو نہیں ہے جی پھر بھی میرے بندر اور بکرے کا تماشا دیکھا جاتا ہے، زیادہ دیہاتی علاقے میں صبح کے اوقات یا شام میں مجمع لگا کر چار پیسے کما لیتا ہوں پر سچی بات ہے کی اب گزارہ کرنا مشکل ہو گیا ہے لوگ زیادہ تر مفت ہی دیکھتے ہیں کچھ لوگ خوش ہو کر پانچ دس روپے ”باندر“ کی ہتھیلی پر رکھ دیتے ہیں، خاص طور پر جب یہ بھوکے ہونے کی اداکاری کرتے ہوئے زمین پر لیٹ کر پیٹ پر ہاتھ رکھتا ہے اور پھر اٹھ کر تماشائیوں کو ماتھے پر ہاتھ رکھ کے سلام کرتا ہے تو لوگ پیسے پھینکتے ہیں۔

تربوز والے نے ہنستے ہوئے اس سے پوچھا : باندر تو تماشا کرتا ہے یہ بکرا کیا کرتا ہے؟

بندر والا بولا : بکرا بڑا گنی ہے جی یہ ایک ”پائے“ پر چاروں پاﺅں رکھ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس کو میں نے تیس ہزار میں اک رشتہ دار سے قسطوں میں خریدا ہے، اب اس کی قسطیں پوری ہونے والی ہیں، اس کا باندر سے خرچا کم ہے اسے ہم ”رانجھا“ کہتے ہیں۔

رانجھا؟ میں نے ذرا زور دے کر کہا اور اس کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا دیا۔

جی بس فضلو چاچا نے اس کا نام رانجھا رکھا ہوا تھا ہم بھی اسی نام سے پکارتے ہیں۔

پھر تو باندر کا نام بھی ہو گا؟ جی باندر کا نام ”بنٹی“ ہے جب بنٹی مجھاں (بھینسوں) دا چھیڑو بنتا ہے اور پھر سسرال جانے کی اداکاری کرتے ہوئے پٹوسیاں لگاتا ہے تو مجمع میں تالیاں گونج اٹھتی ہیں، پرجی اس کے بڑے نخرے اٹھانے پڑتے ہیں، فروٹ کا بہت شونقی ہے پر فروٹ رمضان میں تو غریبوں کی پہنچ سے دور ہو گیا ہے اب تک بھیک میں اس بے زبان کو بھی کوئی مفت پھل نہیں دیتا، میں تو ستھرے کیلے ”بنٹی“ کے لئے خریدتا تھا گلے سڑے کیلے یا امرود کبھی اسے نہیں کھلائے، اب اس کے لئے پنکھا خریدنا ہے بیٹری پر چلنے والا، یہ بڑا نازک مزاج ہے جی، گرمی میں بڑا تنگ کرتا ہے، تبھی تو اسے نہلانے کے لئے یہاں پر آیا ہوا ہوں، ابھی یہ نہا کے بیٹھا ہے آرام سے تربوز کھا رہا ہے اور خوش بیٹھا ہے۔

میرے تین تربوز ریڑھی والے نے گاڑی میں رکھ دیئے تھے جب میں اسے تربوز مہنگے ہونے کا گلا کر رہا تھا تو وہ کہنے لگا دیکھ لیں صاحب جی ” استاد باندریسے حالات آپ نے سن لئے ہیں، ” استاد باندری “ میں نے لفظوں پر زور دے کر بندر والے کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا کر بولا جی مجھ مسکین کو لوگ ” استاد باندری “ کہتے ہیں، تین جماعت تک تعلیم بھی ہے پر بچپن سے مجھے جانور اچھے لگتے تھے، باپ نے مجھے باندری لے کر دی تھی مگر وہ اک روز مجھے چھوڑ کر بھاگ گئی۔

میں نے بات کاٹ کر کہا تم نے آگے کیوں نہیں پڑھا تو بولا پکھی واس ٹک کر کہیں ایک جگہ کہاں رہتے ہیں وہ تو لالہ موسیٰ میں جب ہم رہتے تھے تو قریبی سکول میں جانے لگا تھا ماسٹر لطیف مجھ پر زیادہ توجہ دیتے تھے انہوں نے اردو میں پڑھنا سکھایا میں نام بھی لکھ لیتا ہوں اور اخبار تو سارا پڑھ لیتا ہوں بس ہم ”پکھی واس“ اپنی دنیا میں خوش رہتے ہیں مگر روزی کے لئے آپ کی دنیا سے دور بھی نہیں رہ سکتے ہیں، عمران خان صاحب کو اللہ زندگی دے غریبوں کا درد رکھتا ہے مگر ابھی اس نے مہنگائی بہت کر دی ہے، ہماری زندگی تو پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئی ہے نہ کوئی روزگار نہ باقاعدہ چھت، بس چل پھر کے دنیا کا میلہ دیکھ رہے ہیں، اگر وہ جھونپڑیوں والوں کے لئے بھی گھر بنا دے تو ہمارے جانور بھی اس کی حکومت کو دعائیں دیں گے، اب بنٹی باندر بھی تربوز کا پیالا خالی خرچ کر چکا تھا، میں نے باندر والے کو پچاس کا نوٹ دیا تو وہ دعائیں دیتا رخصت ہو گیا۔میں سوچ رہا تھا زندگی کس قدر دشوار ہو گئی اور استاد باندری جیسے لوگ بھی اس تنگ ہیں، کاش! ایسے لوگوں کے لئے بھی کوئی سوچے، مگر کون سوچے!!


ای پیپر