”یتیم ، مسکین تبدیلی کی زد میں ہیں“
12 مئی 2019 2019-05-12

اطلاعات گردش میں ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے زکوٰة و صدقات پر چلنے والے معروف ادارے شوکت خانم کو وصول ہونے والی فنڈنگ میں بیس فیصد کمی کا سامنا ہے۔ یہ خبر درست ہے یا غلط، اس بارے شوکت خانم انتظامیہ ہی بتا سکتی ہے مگرحقیقت یہ ہے کہ نئی حکومت قائم ہونے کے بعدپاکستان میں چلنے والے متعددفلاحی اداروں کو پچاس فیصد تک عطیات کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس سلسلے میں حتمی رائے رمضان المبارک کے بعد ہی قائم ہوسکے گی کہ اس مقدس مہینے میںسب سے زیادہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایک رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر دو ارب ڈالر سے زائد کے عطیات دئیے جاتے ہیں مگرچونکہ ان عطیات کا دو تہائی براہ راست غریب کی جیب میں چلا جاتا ہے لہٰذا ان کا ریکارڈ نہیں ہوتا، ایک تہائی مختلف فلاحی تنظیموں کے ذریعے استعمال ہوتا ہے جن میں ایدھی اور چھیپا سے لے کر الخدمت اور الغزالی سمیت سینکڑوں دیگر ہیں جو اپنی اپنی ترجیحات اور اپنے اپنے انداز میں مستحقین کی مدد کر رہی ہیں۔

جناب عمران خان کے ادارے کا خسارہ بہت آسانی سے پورا ہو سکتا ہے کہ ہمارے ہاں زکوٰة و صدقات بھی پبلک ریلیشننگ کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور اگر پنجاب کے گورنر کی این جی او کوصوبے کے بڑے گھر سے جانے والی ٹیلی فون کالز کے بعد ملک او ربیرون ملک سے اتنی رقوم کی وصولی ہوسکتی ہے کہ اداروں کے کان کھڑے ہوجائیں تووزیراعظم کے ادارے کولاکھوں او ر کروڑوں کے عطیات فراہم کرنا بہت سارے لوگوں کی ترجیح ہو سکتی ہے مگر وہ ادارے کیا کریں جن کی سربراہی حکومت کے کسی عہدے دار کے پاس نہیں ہے اور وہ محض خلوص نیت سے دی جانے والی زکوٰة اور عطیات کے طلبگار ہیں تاکہ غریبوں ، یتیموں، مسکینوں اور مستحقین کی خوراک، علاج ، تعلیم اور دیگر مدا ت میں مدد کی جا سکے۔ میں نے دوستوں سے پوچھا کہ فلاحی اداروں کو ملنے والے چندے میں کمی کی کیا وجوہات ہیں تو علم ہوا کہ ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت نے اس میں بڑا کردارادا کیا ہے۔ وہ کاروبار ی ادارے اور تجارتی شخصیات جو زکواة اور صدقات کے لئے لاکھوں اور کروڑوں روپے نکالا کرتے تھے وہ جی ڈی پی کی گرتی ہوئی شرح کی وجہ سے کاروباری بدحالی کا شکار ہیں۔ بہت سارے ایسے ہیں جو زکوٰة اور صدقات تو ایک طرف رہے اپنے ملازمین کی تنخواہیں نہیں پوری کر پا رہے اور ان کی چھانٹی پرمجبور ہیں۔ میں نے شاہ عالم مارکیٹ میں تاجروں سے سناکہ جس کے پاس سات ملازم تھے، اس نے مندے کی وجہ سے چار فارغ کر دئیے۔

کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے زکوٰة ، صدقات اور عطیات کے سلسلے میں اقوام متحدہ دباﺅ کو پہلے سے کہیں زیادہ قبول کر لیا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف بیرون ملک سے آنے والے عطیات کو کلئیر نہیں کیا جا رہا ا ور انہیں مختلف حوالوں سے مشکوک سمجھا جا رہا ہے تو دوسری طرف حکومتی اداروں نے ملک کے اندر عطیات دینے والوں پر سختی بڑھا دی ہے۔ دینی مدارس کے زعما بتا رہے ہیں کہ انہیں فنڈنگ کرنے والے بہت سارے اداروں اور شخصیات کو صرف صدقات اور عطیات کی وجہ سے تحقیق و تفتیش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ ان کے پاس یہ پیسہ کہاں سے آیا جو انہوں نے صدقے اور عطئے کے طور پر دیا۔ اصولی طور پر ریاست کو یہ پوچھنے کا حق حاصل ہے اور عمومی طور پر خیرات کرنے والے اپنی حق حلال کی کمائی سے ہی یہ کار خیر کرتے ہیں مگر دوسری طرف یہ امربھی حقیقت ہے کہ عام پاکستانی چاہے وہ کتنا ہی دولت مند کیوں نہ ہو اور چاہے اس کی آمدن ڈیکلئیرڈ ہی کیوں نہ ہو وہ ملک کے فنانشل احتساب کرنے والے اداروں میں مبینہ کرپشن کی وجہ سے ان کے ریڈار میں آنے سے ہر صورت بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ اب صورت یہ ہے کہ وہ بہت سارے لوگ جو برس ہا برس سے کسی دینی یا فلاحی ادارے کو عطیات دے رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ دینی ادارے ان کے عطیات کو سرکاری یا غیر سرکاری طور پر ظاہر نہ کریں، وہ دلیل دیتے ہیں کہ وہ ایسے مدد کرنا چاہتے ہیں کہ ایک ہاتھ دے رہا ہو تو دوسرے ہاتھ کوبھی علم نہ ہو، مگر اصل حقیت کچھ اور ہے ، دینی اور فلاحی اداروں کی مشکل یہ ہے کہ ان کے آڈٹ پر بھی سختی ہے لہٰذا وہ بہت بڑی رقم کو یہ ظاہر نہیں کر سکتے کہ کوئی جاتے جاتے ’ گلے‘ میں ڈال گیا ہے۔

اس صورتحال کا ایک تیسرا پہلو بھی ہے کہ بہت سارے فلاحی ادارے اپنے پراجیکٹ حکومتی مدد سے چلاتے ہیں۔ حکومت کے پاس بینکوں میں پڑی ہوئی رقوم سے کاٹی ہوئی زکوٰة سمیت دیگر مدات میں اربوں روپے موجود ہوتے ہیں جو بیت المال کے ذریعے مستحقین کی براہ راست مدد کے علاوہ اچھی شہرت کی حامل این جی اوز کے ذریعے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ حکومت نے بھی اس شعبے میں اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے جس کی وجہ فنڈز کی کمی کے ساتھ ساتھ ان کا شفاف استعمال کرنے کا ”ارادہ“ بھی بتایا جا رہا ہے مگریہاں بہت ساروں کو خطرہ ہے کہ یہ کسی میرٹ کے بغیر اپنے پیاروں کونوازنے کی تیاریاں ہیں۔ میں اس بدگمانی میں نہیںجانا چاہتا کہ بہت سارے گمان گناہ ہوتے ہیں لیکن وجہ کچھ بھی ہو ہمارے دینی، فلاحی اداروں کو اس وقت جس بحران کا سامنا ہے ایسا شاید نائن الیون کے فوری بعد بھی نہیں تھا۔ ابھی مشکلات کا شکار ہونے والوں میں وہ لوگ الگ ہیں جو براہ راست حکومتی سکالرشپس پر اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکا، برطانیہ اور چین سمیت دیگر ممالک میں گئے اور ان کی جاری تعلیم کے دوران موجودہ حکومت نے قائم ہونے کے بعد اپنا ہاتھ روک لیا، یہ موضوع ایک الگ کالم کا متقاضی ہے۔ اس وقت موضوع وہ تنظیمیں اور ادارے بھی ہیں جنہیں موجودہ حکومت نے کالعدم بھی قرار نہیں دیا مگرعملی طور پر ان سے اور انہیں فنڈنگ کرنے والوں سے مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ میں اپنے ہم وطنوں کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتا مگر حقیقت یہی ہے کہ غیر سرکاری فلاحی تنظیموں کے بہت سارے پراجیکٹس معاشی بدحالی اور حکومتی نااہلی کی وجہ سے بند ہو رہے ہیں اور اس کے متاثر ہونے والوں میں این جی اوز کے ملازمین کی تعداد تو شاید چند سو اور ہزار میں ہو مگر بڑے شہروں سے دور دراز کے علاقوں میں مجموعی طور لاکھوں افراد متاثر ہو رہے ہیں۔ وہ حیران ہیں کہ انہیں خوراک، تعلیم اور صحت کے میدان میں جو سہولیات کچھ اداروں کی طرف سے فراہم کی جار ہی تھیں وہ کیوں ختم ہو رہی ہیں۔

یہ میرے ذاتی علم میں ہے کہ اس رمضان المبارک میں فلاحی تنظیمیں چلانے والے انہیں چلتا رکھنے کے لئے بری طرح سے ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں مگرانہیں ناکامی کا سامنا ہے۔ بات سمجھ میںآنے والی ہے کہ جس ریاست میں کاروباروں اور روزگاروں کے لالے پڑے ہوں وہاں عطیات اور خیرات جیسے اضافی معاملات پر توجہ کیسے دی جا سکتی ہے۔ غور کیجئے کہ بھٹو دور تک ہمارے یہ مسائل نہیں تھے ، ضیا ءدور میں مسائل ضرور پیدا ہوئے مگراس کے ساتھ ساتھ نیت کی وجہ سے وسائل نے بھی جنم لے لیا۔ملکی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ یہ رمضان یتیموں، مسکینوں اور مستحقین کے لئے ایک تبدیلی بھرا رمضان ہے مگریہ وہ تبدیلی ہرگز نہیں ہے جس کا خواب پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والوں نے دیکھا تھا، یہ تبدیلی یتیموں، مسکینوں، غریبوں کے لئے جان لیوا ہوتی جا رہی ہے۔


ای پیپر