دیوارِچمن پر
12 مئی 2018 2018-05-12

رمضان کی آمد آمد ہے۔ اس سے پہلے ’پیغام پاکستان‘ ،1800 علماء کے دستخطوں سے جاری کردہ فتویٰ سامنے آیا۔ اسکی رو سے پاکستان کی حیثیت گویا مسجد کی سی قرار دی گئی۔ اس کا تقدس، اس کا تحفظ بحیثیت اسلامی ریاست کسے عزیز نہ ہو گا جب اسے مسجد بھی کہا جائے۔ یہ یاد دہانی بھی ہمراہ ہو کہ ’آئینی دستوری لحاظ سے اسلامی ریاست ہے‘۔ ’سر زمینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان اللہ کی مقدس امانت ہے‘۔ ان جملوں نے سیروں خون بڑھا دیا۔ توقعات آسمان کو جا چھوئیں۔ تاہم جب زمینی حقائق کی طرف نگاہ دوڑائی تو ششدر رہ گئی۔ شعبان کا مہینہ ہے۔ استقبالِ رمضان کی تیاری اپنی اسلامی جمہوریہ میں دیکھنا چاہی تو ’ٹیلی نور سپر کبڈی لیگ‘ کے تحت لڑکیاں، مردانہ وار کبڈی کے میدان میں پھدکتی پھر رہی تھیں! کشتی سے مشابہ انتہائی غیر زنانہ کھیل جس کی ہم ابجد سے بھی عورت ہونے کی بنا پر واقف نہ تھے، نگاہوں کو خیرہ کر رہا تھا۔ ہیجان خیز وحشی سا کھیل، نسوانیت کُش! قوم کی وہ بیٹیاں کہ جن کو بننا تھا بتول، ’کالجوں‘ میں سیکھتی ہیں ناچ گانے کے اصول کا شکوہ تو بہت پیچھے رہ گیا۔ ٹیلی ویژن کے 78 چینل بھی (الاماشاء اللہ) یوں ہیں کہ لگتا ہے انہیں اس فتوے کی ہوا بھی نہیں لگی۔ اخباروں میں چیختی چلاتی خبروں میں عشق عاشقی کی خود کشیاں، قتل الگ پریشان کن ہیں۔ لگتا ہے نوجوان نسل ہوش سنبھالنے سے بھی پہلے کم عمری ہی سے اسباقِ عاشقی از بر کر لیتی ہے۔ سوشل میڈیا، موبائل نوجوانوں کے اوقات، تعلیم ، صلاحیتیں بلا بن کر نگل رہا ہے۔پیغامِ پاکستان میں جس شدت پسندی ، انتہا پسندی کا غم کھایا گیا ہے وہ کتنے فیصد پاکستانیوں کی چاہ یارجحان ہے؟ یہاں تو ریوڑوں کے ریوڑ بے مقصدیت، کھیل تماشوں اور صنفِ مخالف کی اسیری والے انتہا پسند ہیں! خود کشی یا قتل سے کم پر رکتے نہیں۔ شہیدانِ عشق عاشقی تو دن رات کی خبروں میں ذی شعور طبقے کے لیے سوہانِ روح ہیں۔ اور ہم ہیں کہ نصابوں ، ہم نصابی سرگرمیوں ، کھیل کے میدانوں ، میوزیکل شوز، فیشن پریڈوں، میں یہی جذبات پروان چڑھانے، بھڑ کانے کے اسباب فراواں کیے چلے جا رہے ہیں۔ اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی! نقار خانے میں جسٹس شوکت صدیقی مسلسل پیمرا اور وزرات اطلاعات و نشریات کے لیے احکام جاری کر رہے ہیں۔ بر سر زمین عمل درآمد تو فی الحال نظر کم کم آ رہا ہے۔ رمضان میں پچھلے سالوں کی مانند اگر عملاً اسلام کا تمسخر اڑانے والے کھیل تماشا پروگرام جاری رہے تو خدا کی پناہ۔ اللہ کی اس مقدس امانت۔۔۔ پاکستان کا کیا بنے گا۔؟ ہم منتظر رہے کہ اس فتوے کے عملی نتائج کے طور پر فوج کا پرانا ماٹو۔۔۔ ایمان، تقویٰ ، جہاد فی سبیل اللہ بحال ہو جائے گا۔ کیونکہ تاکیداً یہ بات بجا طور پر سامنے آئی ہے کہ جہاد۔۔۔ یعنی جنگ و قتال اسلامی ریاست کا حق ہے۔ ہم سکون کی نیند سو سکیں گے کہ ریاست، دنیائے کفر بالخصوص قریب ترین درپےء آزار مسلم دشمنوں سے نمٹنے میں مستعد تر ہو گی اس بیانیے کے بعد۔ تاریخ اور فقہ سے ابوابِ جہاد ان کے نصابوں کا فی الفور حصہ بنا دیے جائیں گے جو شو میِ قسمت سے پرویز مشرف کے ہاتھوں بھلا دیے گئے تھے۔ لیکن شمالی وزیرستان کو گراؤنڈ زیرو کر کے ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ میں لوٹا یا گیا تو اب خبر غجیب آ رہی ہے۔ وہاں شعبان میں میران شاہ ایجنسی ہسپتال میں محفل موسیقی سجائی گئی۔ ہسپتال تو آپریشنوں، دکھوں تکلیفوں کے مداوے ، آہوں کراہوں اور مسیحائی کا مرکز ہوا کرتا ہے۔ شفا کے متلاشی دعاؤں اور سجدوں میں پناہ لیتے ہیں۔ یہاں پوری محفلِ طرب و نشاط برپا ہے؟ اسی دوران بعداز فتویٰ بھی مساجد، مدارس میں تفتیش، کوائف کا اکٹھا کیا جانا ، ہراساں کرنا کہ ایک ایک تفصیل سے آگاہ کیا جائے۔ اچنبھے کا باعث تھا۔ حفظ کی کلاسوں کے دوران انسپکٹروں کا گھس آنا؟ کیا نجی سکولوں کی انگریزی یا موسیقی کی کلاس میں بھی ممکن ہے؟ اس فتوے
سے مساجد و مدارس کا وقار و تقدس مجروح ہونے کی بجائے احترام بڑھ جانا چاہیے تھا۔ سکولوں ، کالجوں میں تو یوں پوچھ گچھ نہیں کی جاتی کہ کس استاد ، کس طالب علم کا تعلق کس این جی او یا جماعت یا غیر ملک سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بیانیے کو 1800 علماء کی توقعات اور حسنِ ظن پر پورا اتارے اور ان کے مقام و مرتبے کے شایانِ شان ملک کی نظریاتی شناخت اجاگر کرنے کا سبب بنے۔ اسے یقینی بنانے کو چوکس رہنا ہو گا۔ (آمین) ہم نے تو اقلیتوں کے تحفظ اور رواداری کی خاطر 140 فٹ اونچی صلیب کراچی میں ایستادہ کر دی۔ ادھر یورپ بھر میں مساجد کے مینار 10 فٹ اونچا کرنے کی بھی حکومتیں روا دار نہیں۔ مسلمانوں اور اسلام کا جو حال انہوں نے کررکھا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اسی تسلسل میں جرمنی میں خواتین کو سکارف کے ساتھ پرائمری سکولوں میں پڑھانے کی ممانعت صادر کر دی گئی ہے۔ یہ ان کی لعنت میں رواداری کا مطلب ہے! فلسطین اور کشمیر میں اسرائیل اور بھارت مسلم آبادی پر جو قیامت ڈھا رہے ہیں دنیا اس سے منہ موڑے بیٹھی ہے۔ شام میں عالمی محاذ جنگ کا تنور دہک رہا ہے۔ مسلمانوں پر چاند ماری کر کے آبادی چیتھڑوں میں تبدیل کر دی یا دھواں بن کر اڑ (evaporate) گئی۔ فلسطین میں 800 فلسطینیوں کو پُر امن مظاہروں میں نشانہ بنا کرزخمی کیا گیا۔ ایمبولینسوں پر لگاتار حملے ہوتے رہے۔ کشمیر مسلسل جنازوں کی تصویر بنا پڑا ہے۔ ان درد انگیز تصاویر پر ملول ہو کر امریکہ کی خبریں دیکھیں تو دہلا دینے والے (ہوائی میں ) آتش فشاں پھٹنے کے مناظر سامنے آئے۔ مسلمانوں پر بارود برسانے والوں پر ابلتا، پگھلتا، سیاہ فام لاوا ، بلا بن کر سڑک یوں عبور کر رہا تھا کہ گاڑی نگلتا، گھر بھسم کرتا۔۔۔ ناریخی شعلوں کے ساتھ لپکا چلا آ رہا تھا۔ زلزلہ مزید تھا۔ ہوا میں دم گھونٹ کر رکھ دینے والی سلفر ڈائی آکسائیڈ ، کیمیائی بمبوں کا قائم مقام بنی امڈ رہی تھی۔ تیزابی بارش (Acid Rain) کا ہول اپنی جگہ۔ پھٹی ہوئی سڑکیں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ زلزلے سے آتش فشاں کے پھٹنے کا مزید اندیشہ بھی ہے۔ پوری دنیا ہی میں موسم درہم برہم ہو رہا ہے۔ اسے گلوبل وارمنگ سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ گلوبل ویلج میں گلوبل وارمنگ؟ اتنی حدت اور تپش کی شاید ایک وجہ اور بھی ہو۔ آبادیوں کی آبادیاں جن گناہوں میں لت پت ہیں ان کی مثال یوں تاریخ میں نہیں ملتی۔ انسانی تاریخ میں بد ترین اخلاقی گراوٹ، درندگی، ظلم و جبر، بد دیانتی، بے حیائی، اس پر مستزاد چوری اور سینہ زوری ایسی کبھی نہ تھی۔ کھربوں ڈالر کے کاروبار گناہوں سے نتھی ہیں۔ رگوں میں اترنے والا پیسہ حرام زہریلا۔ مسلم دنیا میں ہمیشہ حالات کچھ بہتر ہی رہے تھے۔ 9/11 کے بعد مسلم ممالک شاہ سے بڑھ کر شاہ کی وفاداری میں ان سے بھی اس دوڑ میں آگے نکلنے کو ہیں۔ رمضان سے پہلے سعودی عرب کی مقدس سر زمین پر دھڑا دھڑ ایمان سوز، حد شکن اقدامات ہوئے چلے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں گناہوں سے بھڑ کتی تپش سے گلوبل موسم کے رخسار تمتما اٹھے ہیں۔ کانوں کی لوئیں سرخ ہو گئی ہیں۔ کف آلودہ ہو کر آتش فشان پھٹ پڑا ہے ۔ سرخ و نارنجی منظر نامہ دیکھا جا سکتا ہے۔ غیظ و غضب آندھی کے بگولے بن بن اٹھ رہے ہیں۔ منظر دھندلا ہو رہا ہے۔ سعودی عرب میں ریت کے مستند ترین طوفان ، سیلابی ریلے اٹھ رہے ہیں۔ پاکستان بھر میں ایک ہی دن میں زلزلے کے دو مرتبہ جھٹکے۔ قوموں کی مستند ترین تاریخ ہمارے پاس مقدس آسمانی صحیفے میں موجود ہے۔ سورۃ ھود، الاعراف، الشعراء، الابنیاء، القصص جیسی سورتوں میں قوموں کی نافرمانیوں کے نتائج ، سنتِ الٰہیہ واضح پڑھا دی گئی ہے۔ ایک سائنس۔۔۔، خالق و مالکِ سائنس کی بھی ہے۔ للہ جنودالسموات والارضo ( زمین و آسمان کے سارے لشکر اللہ ہی کے ہیں ) فرعون کے عساکر نگلنے کو قلزم کی موجیں۔۔۔ ننھے ننھے قطروں کی صف در صف فوج کافی ہو گئی۔ ہوا، طوفان بن کر عاد کے بے مثل تنو مندوں کو پچھاڑ گئی۔ پانی ہی کے قطرے سونا می بن کر اٹھے اور قومِ نوح کے گھمنڈ کو غرقاب کر گئے۔ قومِ ثمود کے آواز کی لہروں (sound waves) نے کلیجے شک کر دیے۔ ابرہہ کو ابابیلوں کے ننھے پنجوں میں دبی (ایٹمی!) کنکریاں بھوسہ بنا دینے کو کافی ہو گئیں! یہ ہے ربِ کائنات! این المفر۔! بچ نکلنے کی جائے پناہ کہاں پاؤ گے۔؟ فاین تذھبون۔۔ ( کہاں بھٹکے چلے جا رہے ہو!) رمضان آ رہا ہے۔ اللہ ہی ہمیں من حیث القوم رجوع الی اللہ کی توفیق عطا فرمائے۔( آمین)۔
چیف جسٹس صاحب نے بہت اچھا کیا کہ ذہنی امراض کے ہسپتال کا دورہ کر لیا۔ ہسپتال کے مریضوں کی خیریت دریافت کی۔ ان سے سہولیات کا بھی پوچھا۔ اخباروں کی شہ سرخیاں پڑ ھ کر احساس ہوتا ہے کہ ایسے مقامات کو ذرا اچھا ستھرا کر کے بہت سے افراد کی مزید جگہ (وی آئی پی معیار کی ) بنا دی جائے تو ملک میں امن قائم کرنے اور باہم کھینچا تانی کے گھڑ مس سے نکلنے میں شاید سہولت ہو جائے۔
جسٹس صاحب نے پشاور سینٹرل جیل کا بھی دورہ کیا۔ گزشتہ سالوں میں 9/11 کے بعد جیلیں اور عقوبت خانے کچھا کھچ بھر دیے گئے ہیں ۔ جن کا پُرسانِ حال کوئی نہیں۔ جیلوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ خفیہ جیلوں کا سراغ لگا سکیں تو آمنہ جنجوعہ کے قبیلے کے آنسو پونچھے جائیں۔ ورنہ جسٹس جاوید اقبال کے لیے 4.9 ارب ڈالر بھارت منتقلی کی مضحکہ خیز جعلی خبرپر از خود نوٹس انہی کی آہ لگنے کی بنا پر جگ ہنسائی اور خجالت کا سامان بنا کھڑا ہے۔جسٹس ثاقب نثار ہی مداوا کر دیں لا پتگان کا تو کارِ خیر ہو!
فی الحال تو۔۔۔ دیوارِ چمن پر زاغ و زغن مصروف ہیں نغمہ خوانی میں!


ای پیپر