سانحہ 12 مئی 2007ء : مشرف کے حواریوں کی درندگی
12 مئی 2018

12 مئی 2007ء کو کراچی میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد کے موقع پر ایم کیو ایم کی جانب سے متوازی ریلی نکالنے کے بعد کراچی میں امن و امان کا مخدوش ہو جانا ایک فطری امر تھا۔ 11 مئی کی شب ہی سے کراچی میں نامعلوم افراد نے فائرنگ شروع کر دی تھی۔ 10 مئی کی شب پچھلے پہر چیف جسٹس کے وکیل منیر اے ملک کے گھر پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی اور ان کے اہل خانہ کی ٹارگٹ کلنگ کی بھی مذموم کو شش کی گئی۔ 11 مئی ہی سے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور ان کے دیگر عوامی قائدین کی جانب سے اس قسم کے بیانات منظر عام پر آنا شروع ہو گئے تھے ، جن کا لب لباب یہ تھا کہ وہ کسی کو بھی کراچی میں چیف جسٹس کا استقبال نہیں کرنے دیں گے اور اگر کسی نے ایسی کوشش کی تو ایم کیو ایم اس کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائے گی۔ ان بین السطور دھمکیوں کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے سیکرٹری داخلہ صاحبان چیف جسٹس کے نام بالواسطہ اس قسم کے خطوط لکھتے رہے کہ وہ 12 مئی کو کراچی ہائیکورٹ بار کی تقریب سے خطاب کے پروگرام کو ملتوی کر دیں ۔ ان خطوط میں پروگرام کو معرض التواء میں ڈالنے کی جو وجوہات بیان کی گئیں تھیں ان کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو اس روز کراچی میں نا خوشگوار واقعات اور حادثات وقوع پذیر ہو سکتے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان اور ان کے وکلاء نے سیکرٹری داخلہ صاحبان کے ان درخواست نما مراسلوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھاکہ وہ کراچی بار کی تقریب سے خطاب کے لیے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس کو اس تقریب میں شرکت کے لیے کراچی بار نے 9مارچ 2007ء سے قبل ہی مدعو کیا تھا لیکن 9مارچ کو صدارتی ریفرنس سامنے آنے کے بعد انہیں اپنا یہ پروگرام ملتوی کرنا پڑا۔ بعد ازاں سندھ ہائیکورٹ بار کے صدر کی دوبارہ درخواست پر انہوں نے 12مئی کو اس تقریب میں شرکت کی ہامی بھری اور اس دوران ایم کیو ایم نے اسی روز کراچی میں صدارتی ریفرنس کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ریلی کا پروگرام بنایا اور ایم کیو ایم کی قیادت میں واضح الفاظ میں کہا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کو چیف جسٹس کی بحالی کی آڑ کی تحریک میں اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایک طرف ایم کیو ایم کی جانب سے اس قسم کے خوفناک بیانات آ رہے تھے اور دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اس امر کی یقین دہانی کرا رہے تھے کہ’’ 12مئی کو کراچی میں ایسا کچھ نہیں ہو گا جس سے تصادم کا خطرہ ہو۔ یاد رہے یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں ایک نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی تھی ۔ادھر 11مئی کو سندھ ہائیکورٹ کے جناب جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جناب جسٹس علی سائیں ڈینو متیلو پر مشتمل ڈویژن بنچ نے پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی آئینی درخواست کی سماعت کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کو 12 مئی کراچی کے دورے کے موقع پر فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اپنی مرضی سے جو بھی روٹ اختیار کریں اس روٹ پر سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے اس ضمن میں تین صفحات پر مشتمل آرڈر بھی جاری کیا۔ اندریں اثناء سیکرٹری داخلہ سندھ نے اپنے اس موقف کو ایک بار پھر دہرایا کہ ’’کراچی میں صورت حال بہت کشیدہ ہے اور ہنگامہ آرائی اور دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے جس سے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھ کر آگاہ کیا جا چکا ہے ‘‘تاہم انہوں نے پر تیقن لہجہ میں یہ بھی کہا کہ ’’حکومت سندھ 12 مئی کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات کر ے گی‘‘ ۔
12مئی کو کراچی میں بے گناہ ، معصوم اور نہتے شہریوں کی شہادت کے بعد ملک بھر میں عوام الناس نے یوم سوگ اور یوم سیاہ منایا تھا۔ اس موقع پر کراچی ، لاہور ، آزاد کشمیر اور دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے مرحومین کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ کئی شہروں میں شہداء کی غائبانہ نماز جنازہ میں بھی ہزاروں شہریوں نے شرکت کی ۔ ی یہ امر افسوسناک ہے کہ کراچی میں 13 مئی کو بھی ہنگامہ آرائی و
تشدد کا سلسلہ جاری رہا، شہر کے مختلف علاقوں میں مسلح تصادم کے نتیجے میں 8افراد کی ہلاکت اور ڈیڑھ درجن سے زائد کے زخمی ہو نے کی اطلاعات میڈیا نے رپورٹ کیں۔ 13 مئی بھی کراچی کے شہریوں نے خوف و ہراس کے عالم میں گزارا۔ اس دوران ایک معاصر قومی روز نامہ کی اطلاع کے مطابق ’’مشتعل افراد نے ڈیڑھ درجن سے زائد دکانیں 7 مکانات، 6 گاڑیاں اور ایم کیو ایم کے کئی دفاتر نذر آتش کر دیئے، دکانوں میں آگ لگائے جانے کے دوران ایک مسجد کو بھی نقصان پہنچا، ایک پٹرول پمپ پر بھی توڑ پھوڑ کی گئی، تقریباً پورا شہر شدید فائرنگ سے گونجتا رہا، مخالفین ایک دوسرے کی املاک جلاتے رہے، ہنگامہ آرائی کے دوران رینجرز کا ہیلی کاپٹر پورے شہر میں گشت کرتا رہا‘‘ تاہم انتظامیہ نے شرپسندوں کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں ، جس کی وجہ سے دوسرے روز بھی لا قانونیت کا راج رہا۔ مسلح افراد کھلے عام اسلحہ لے کر شہر بھر میں دندناتے پھر رہے تھے اور لوگ گھروں میں محصور تھے۔ بنارس چوک پر2 گروپوں میں شروع ہونے والے ہنگامے نے شدت اختیار کر لی، مخا لفین نے ایک دوسرے کے گھر وں پر مسلح دھاوے بولے ، بعض خاندانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا، فائرنگ سے متعدد مکانات کی دیواروں میں سوراخ ہو گئے، مکین گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ 12 مئی کی طرح 13 مئی کو بھی کراچی کے باسیوں کے ہونٹوں پر یہ شکوہ رہا کہ تشدد کے واقعات کے دوران پولیس اور قانون کا نفاذ کرنے والے اداروں کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ گھبرائے ہوئے شہری فون کر کے مدد کے لیے پولیس اور انتظامیہ سے رابطہ کرتے رہے۔ ٹیلی فونک رابطوں کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کئی گھنٹوں تک کوئی عملی قدم نہ اٹھایا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ’’ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انتظامیہ نے کراچی کے شہریوں کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اورشہر پر دہشتگردوں کا راج ہے، وہ جب چاہیں، جہاں چاہیں اور جسے چاہیں قتل کردیں یا زندہ چھوڑ دیں۔ کئی مقامات پر مسلح ملزمان نے آنے جانے والے راہگیروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ درندگی کی انتہا تو یہ ہے کہ دہشت گرد راہگیروں کوزد و کوب کا نشانہ بنانے کے بعد انہیں برہنہ کر دیتے اور بھاگ جانے کا’ نادر شاہی حکم‘ جاری کرتے۔اس قسم کے واقعات کی رپورٹنگ کے مندرجات پڑھنے کے بعد ایک باشعور قاری یہ تصور کرتا ہے کہ 12 اور 13 مئی کو کراچی میں دہشت گردوں نے اسی قسم کی بہیمیت کا اعادہ کیا، جس قسم کی بہیمیت کے ارتکاب کا سامنا دہلی کے شہریوں کو نادر شاہ درانی کی بد تہذیب افواج کے ہاتھوں 18 ویں صدی میں کرنا پڑا تھا۔کراچی ایک بار پھر زخم زخم اور لہو لہوتھا۔ یہ زخم زخم اور لہو لہو شہر مسیحاؤں کی آمد کا منتظر تھا۔ بعض علاقوں میں ایسے افراد کو خصوصی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو پینٹ خصوصاً جینز پہنے ہوئے تھے۔سنڈے ٹیلی گراف کا یہ تبصرہ ایک لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتا کہ’’صدر پرویز مشرف نے 2متحارب ریلیوں کی اجازت اس لیے دی تھی کہ حالات اس قدر ابتر ہو جائیں کہ ایمر جنسی نافذ کرنے کا جواز پیدا ہو سکے‘‘اخبار نے کراچی میں ہونے والے واقعات ، گلیوں ا ور ہسپتالوں کے مردہ خانوں میں پڑی نعشوں کے حوالے سے یہ سطور رونگٹے کھڑی کر دینے والی یہ سطور سپرد قرطا س کیں کہ ’’انہیں دیکھ کر بغدا د کی یاد تازہ ہو رہی تھی‘‘۔
کراچی میں چیف جسٹس کی آمد کے موقع پر صوبائی اور ضلعی حکومت کی جانب سے شہر میں ہائی الرٹ کا اعلان کیا گی ، بتایا گیا کہ’ شہر میں 15 ہزار اہلکار تعینات کر دیئے گئے ہیں‘۔مزید برآں چیف جسٹس کی آمد پر سیکورٹی معاملات پر غور کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ ارباب رحیم نے گورنر ہاؤس میں مسلسل تیسرے دن بھی گورنر سے ملاقات کی اس موقع پر صوبائی وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ادھر ایئر پورٹ پر ریڈ الرٹ کا اعلان کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے کئے گئے ان مبینہ اقدامات کے بعدو کلاء رہنماؤں نے کہا تھا کہ’ سپریم کورٹ کی گولڈن جوبلی تقریب ضرور منعقد ہو گی اور چیف جسٹس آف پاکستان کا شایان شاں طریقے سے استقبال کیا جائے گا‘۔جب 12 مئی کا سورج طلو ع ہوا تو چیف جسٹس کے استقبال کی تیاریاں کرنے والے شہریوں اور وکلاء کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ راتوں رات سندھ ہائیکورٹ کو جا نے والے تمام راستوں کو بھاری کنٹینرز رکھ کر بند کر دیا گیا۔چیف جسٹس آف پاکستان کراچی پہنچے لیکن انہیں ایئر پورٹ سے باہر نہیں آنے دیا گیا اور کراچی ہائی کورٹ کو ہر طرف سے اسلحہ بر دار غنڈوں نے اپنے محاصرے میں لے لیا اورضلعی اور صوبائی انتظامیہ نے بار بار کی درخواستوں کے باوجود وکلاء اور ان کے رہنماؤں کو ایئر پورٹ جانے سے عملاً روک دیا اورگورنر نے وعدے کے باوجود چیف جسٹس آف پاکستان کو ہائیکورٹ تک پہنچانے کے لیے محفوظ راستے کا اہتمام نہیں کیا۔عام پاکستانی جاننا چاہتا ہے کہ 12 مئی اور 13 کو کراچی میں جو خونریزی ہوئی اس کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے ۔یقیناًکسی بھی طور اس کی ذمہ داری چیف جسٹس آف پاکستان پر عائد نہیں ہوتی۔
یہ امر حیران کن ہے ایک قومی روز نامہ کے مطابق ایم کیو ایم کے سینیٹر طاہر مشہدی نے کہا ہے کہ ’’صدر مشرف نے ہفتہ 12 مئی کے روز بہترین انتظامات کرنے پر گورنر سندھ عشرت العباد کو شاباش دی ہے‘‘ طاہر مشہدی نے مزید کہا ’’چیف جسٹس کی کراچی آمد پر امن و امان کے بہترین انتظامات کئے گئے تھے جس کی وجہ سے جانی و مالی نقصان کم ہوا‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ سندھ حکومت واقعات کی ذمہ دار نہیں اس لئے کوئی مستعفی نہیں ہو گا‘‘ صدر پرویز مشرف کی جانب سے گورنر سندھ کو مبارکبادکا یہ پیغام ملک بھر کے ان تمام شہریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا جو کراچی کے واقعات پر ملول و افسردہ اور مشوش و مضطرب ہے۔ ایک طرف گورنر سندھ کو صدر مملکت کی جانب سے مبارکباد کا یہ بیان شائع ہورہا تھا اور دوسری طرف عالمی میڈیا کراچی میں 12مئی کو ہونے والے واقعات اور سیاسی تشدد کو نمایاں انداز سے شائع اور نشر کرتے ہوئے بر ملا اس کی ذمہ داری صدر مملکت کے حامیوں پر ڈال رہا تھا۔


ای پیپر