ٹرمپ ایران نیوکلیئر معاہدے سے منحرف
12 مئی 2018



جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JC POA) جسے عرف عام میں ایران نیوکلیئر ڈیل کہا جاتا ہے سے نکلنے اور ایران پر اقتصادی پابندیوں کی بحالی کا اعلان کیا تو یہ کسی کے لیے بھی حیرت کی بات نہیں تھی۔ یہ سب پہلے ہی نظر آ رہا تھا کیونکہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں اعلان کیا تھا کہ وہ بر سر اقتدار آ کر یہ معاہدہ کوڑے کی ٹوکری میں پھینک دیں گے ۔ بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ٹرمپ کے عالمی معاہدے سے مکر جانے پر امریکہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ اس سے امریکہ خطرے میں پڑ جائے گا۔ بلکہ پوری دنیا کا امن خطرات میں گھر جائے گا۔ سابق امریکی صدر باراک اوبامہ جس کی حکومت کے دوران یہ معاہدہ ہوا تھا اور جسے پوری دنیا میں ایک کارنامہ سمجھا جا رہا تھا انہوں نے ٹرمپ کے فیصلے کو ( misduided ) یا گمراہ کن قرار دیا ہے۔ معاہدے کی شرائط طے کرنے والے سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس کو سنگین غلطی قرار دیا ہے۔ 2015 ء میں ہونے والے اس معاہدے کی رو سے ایران نے یورینیم کی افزودگی کا پروگرام روک دینے کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی ایران کا تجارتی محاصرہ ختم کر دیا گیاجس کے بعد ایران نے اپنا تیل عالمی مارکیٹ میں فروخت کرنا شروع کر دیا تاکہ اپنی تباہ حال معیشت کو بحال کر سکے۔ اس وقت ایران ایک ملین بیرل پٹرول روزانہ فروخت کر رہا ہے جس سے اس کو سالانہ 25 بلین ڈالر سے زیادہ کا زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ اس ڈیل کی وجہ سے عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتیں کم ہوئیں۔ اور ترقی پزیر ممالک کی معیشت پر صحت مند اثرات ہوئے اور قیمتیں کم ہوئیں۔ البتہ اس کا نقصان تیل بر آمد کرنے والے ممالک کو ہوا جن میں سعودی عرب سر فہرست ہے۔ یہ معاہدہ ایران اور امریکہ کے درمیان نہیں تھا بلکہ اس میں برطانیہ فرانس روس چائنہ اور جرمن بھی شامل تھے اور مذکورہ ممالک نے اب بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاہدے کے حق میں ہیں اور اس کی پاسداری جاری رکھی جائے گی۔
ایرانی عوام نے 12 سال تک عالمی تنہائی اور سابق صدر احمدی نژاد کی سخت گیر اور بنیاد پرست امریکی مخالف حکومت کے تلخ تجربے کے بعد موجودہ اعتدال پسند صدر حسن روحانی کو ووٹ دیا تھا۔ کیونکہ وہ تعمیر نو اور ریفارم کی بات کرتے تھے۔ امریکہ کے لیے اپنی نرمی کی وجہ سے قابل قبول تھے اور امریکہ سے صلح پر آمادہ تھے۔ یہ صلح ہو گئی مگر ایرانی عوام کو ریلیف نہیں مل سکا۔ اب جبکہ ٹرمپ نے اس معاہدے سے منحرف ہونے کا اعلان کیا ہے تو ایران کے بنیاد پرست عناصر کو یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ ہم نہ کہتے تھے کہ امریکہ کے ساتھ صلح مت کرو یہ ناقابل اعتبار ہے۔ اب لوگ حسن روحانی کے مقابلے میں احمدی نژاد کو حق بجانب قرار دیتے ہیں جو 8 سال تک امریکہ کے سامنے ڈٹ کر اقتصادی پابندیوں کا مقابلہ کر تا رہا اور امریکہ کے خلاف سخت ترین الفاظ استعمال کرتا رہا۔ اب تو ایرانی روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنائی نے بھی بیان دیا ہے کہ انہوں نے 2015 ء میں کہا تھا کہ اس معاہدے پر مغربی ممالک سے گارنٹی لی جائے کیونکہ ہم امریکہ کی زبان پر اعتبار نہیں کرتے۔
فرانس، برطانیہ اور جرمنی کو ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اس معاہدے سے مکر جانے کے پیچھے سعودی عرب اور اسرائیل کا نمایاں کردار ہے جو کہ معاہدے کے وقت فریق بھی نہیں تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے اس فیصلے میں ان دونوں ممالک کی خوشنودی شامل ہے جو شام میں 8 سال سے بشارالاسد کو مٹانے میں ناکامی کے بعد ناکامی کی اصل وجہ یعنی ایران کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ 2015 ء میں جب یہ معاہدہ ہوا تھا تو اسی سال سعودی عرب نے یمن پر حملہ کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ چند دن میں وہاں سعودی نواز حکومت قائم کر دی جائے گی مگر ساری تدبیریں الٹی ہو گئیں اور سعودیہ وہاں پر ایک ایک بے مقصد جنگ میں پھنس چکا ہے جو چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ میں بھی سعودی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران ہے۔ شام اور یمن کے ناکام تجربات کے بعد سعودی عرب نے یہ سبق سیکھا ہے کہ آپ ایران کو شکست دیئے بغیر خطے میں کامیابی نہیں حاصل کر سکتے۔ اس وسیع تر تناظر میں اب امریکہ اسرائیل اور سعودی عرب کو خوش کرنے کے لیے مڈل ایسٹ میں ایک اور جنگ چھیڑنا چاہتا ہے۔ جب سے جان بولٹن کو امریکہ کی قومی سلامتی کا مشیر مقرر کیا گیا ہے پوری دنیا میں شور مچا ہوا ہے کہ جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ یہ وہی شخص ہے جس نے بش جونیئر کو عراق پر حملے کرنے اور افغانستان میں طالبان حکومت ختم کرنے کی ترغیب دی تھی۔
اس امریکی فیصلے نے امریکہ کی بین الاقوامی ساکھ کو سخت نقصان پہنچایا ہے ۔ بین الاقوامی تعلقات اور معاہدوں میں continuity اور تسلسل ہوتا ہے۔ وہاں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے۔
صدر ٹرمپ نے جو حرکت کی ہے آئندہ امریکہ پر کوئی ملک بھروسہ نہیں کرے گا۔ سب سے فوری ردعمل شمالی کوریا کی طرف سے متوقع ہے جس کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔ شمالی کوریا یہ سوچنے پر مجبور ہو گا کہ اگر امریکہ سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہوتا ہے تو اس پر عمل در آمد کی گارنٹی کون دے گا۔
بین الاقوامی قوانین کی رو سے ایران میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو 6 ماہ کا وقت دیا جائے گا کہ وہ یہاں سے کوچ کر جائیں۔ اس مدت کے بعد جو ایران سے تجارت کرے گا امریکہ اس پر پابندی لگا دے گا۔ اس طرح یہ پابندیاں ایران پر نہیں بلکہ ایران کے ساتھ لین دین کرنے والی کمپنیوں پر بھی ہوں گی۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس معاہدے کے باقی پارٹنر ممالک روس، چائنہ، فرانس، برطانیہ اور جرمنی جب اس پر قائم ہیں تو وہ اپنے طور پر ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات جاری رکھیں گے۔ یہ نہایت پیچیدہ صورت حال پیدا ہونے والی ہے۔ کیونکہ امریکہ کی طرف سے عائد کردہ یک طرفہ پابندیاں اتنی سخت نہیں ہوں گی دوسری بات یہ کہ ایران امریکہ کے معاہدے سے نکل جانے کے بعد اگر یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرتا ہے تو باقی عالمی طاقتوں کا ردعمل کیا ہو گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی کے لیے جو centrifuge سسٹم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے دور میں پاکستان سے سمگل کیا تھا ( شمالی کوریا اور لیبیا بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن کے ڈاکٹر اے کیو خان سے رابطے تھے) اس میں ایران اتنی efficency حاصل نہیں کر سکا کہ وہ 2030 ء سے پہلے ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرلے۔ ماہرین کے مطابق weapon grade یورینیم کی شرح 90 فیصد ہوتی ہے۔ جبکہ ایران کی حاصل کردہ شرح ابھی 3-4 فیصد ہے۔ ان حالات میں جبکہ ایران کے مخالف اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں تو اس صورت میں جنگ کا نقشہ کیا ہو گا۔ البتہ ایک بات تسلیم شدہ ہے کہ جنگ میں ایرانی میزائلوں کا مقابلہ کرنا اسرائیل اور سعودی عرب کے لیے آسان نہیں ہو گا ۔لبنان اور یمن ایران کے دو ایسے out post ہیں جہاں سے وہ بالترتیب اسرائیل اور سعودی عرب کو بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگرامریکہ براہ راست جنگ میں شریک ہوتا ہے تو یقینی طور پر روس ایران کی مدد کے لیے آئے گا جس کے بعد ایران کو انڈیا سے تعلقات ختم کرنا پڑیں گے کیونکہ انڈیا اس خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا حلیف ہے۔
پاکستان کے لیے اس موقع پر سب سے بڑا سوال یہ ہو گا کہ سعودی ایران جنگ میں پاکستان کا مؤقف کیاہے۔ 37 ملکوں پر مشتمل سعودی الائیڈ فورس کے کمانڈر جنرل راحیل شریف کو اگر ایران پر حملہ کرنے کا آرڈر دیا جاتا ہے تو وہ کیا کریں گے ۔ یہ جنگ ایران میں ہو گی اور پاکستان کو ایران کا backyard یا پچھلا صحن کہا جا سکتا ہے جو یقینی طور پر جنگ کی لپیٹ میں ہو گا۔ پاکستان میں 40-30 فیصد شیعہ آبادی ہے جو ایران کے ساتھ ہوں گے۔ جس سے ملک کے اندر خانہ جنگی کے خطرات پیدا ہو جائیں گے ایسی صورت میں راحیل شریف کو پاکستان کی خاطر اپنی نوکری چھوڑنی پڑ سکتی ہے۔ اس افسوسناک منظر کا مثبت پیلو یہ ہے کہ جنگ کی صورت میں ایک طرف تو پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا اور دوسری طرف ایران کا پٹرول عالمی دنیا میں پابندیوں کی وجہ سے بین ہو گا۔ یہ پاکستان کے لیے موقع ہو گا کہ وہ پابندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے شدید توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو بحال کر دے۔


ای پیپر