مری بائیکاٹ مہم میں پھنسی پانچ عورتیں!

12 مئی 2018

بشریٰ اعجاز

جب ملکۂ کوہسار مری کے بادل کنوارے تھے، نمی سے بوجھل تھے اور پلکوں پر اداسی کی خوشبو چھوڑتے تھے، یہ ان دنوں کا قصہ ہے، ایک دیسی پنجابی گھرانہ پانچ عدد بچوں اور چھے عدد ملازموں کے ساتھ، مری کی مال روڈ پر اترتا تھا، مع سازو سامان۔ اور خراماں خراماں حسین منزل کی جانب بڑھتا تھا، جو جی پی او کے بائیں جانب، قدرے نشیبی حصے میں واقع تھی اور اخروٹ اور سیبوں کے گھنیرے درختوں میں گھری، ایک ایسا جادو گھر دکھائی دیتی تھی، جسے بادل، خوشبو اور بارشوں کی نمی ہمہ وقت ایک ایسے آنسو سے مشابہ رکھتے تھے جو ٹپکنے کو تیار بیٹھا ہو۔ یہ جادوئی مسکن ان پنجابی بچوں کا دل اپنی جانب کھینچتا تھا اور وہ ہولی ٹرینیٹی چرچ سے گزرتے، لنٹاٹس کے خواب ناک ماحول کو للچاتی ہوئی نظروں سے دیکھتے آگے بڑھ رہے تھے۔ قافلۂ سالار (ابا جی) کے چیئرمین کے لٹھے کی سفید کھڑکھڑاتی تہبند انہیں اندر ہی اندر سے کچھ شرمندہ کر رہی تھی اور وہ کوشش کر رہے تھے، دور سے مال روڈ کی چڑھائی چڑھتی اس سفید براق تہبند کی چھتری سے ذرا دور دور رہیں تا کہ دیکھنے والے ان کا اس سے کوئی تعلق محسوس نہ کر سکیں۔ 1960ء کے وسطی زمانے کے یہ کانونٹی بچے، نئی نئی انگریزی اور مشنری ماحول کی مدرز اور سسٹرز سے مرعوبیت کے باعث، اس وقت مال روڈ پر دیہاتی وضع قطع والے قافلۂ سالار کی وجہ سے خاصی احساس کمتری کا شکار ہو رہے تھے۔ مال روڈ پر انگریزی وضع قطع والے جوڑے، بانہوں میں بانہیں ڈالے، ایک دوسرے کے کانوں میں سرگوشیاں کرتے، لیونڈر اور بدیسی پرفیومز کی مہک سے ارد گرد کو مہکاتے ان کے قریب سے گزرتے تو دیسی بچوں کی آنکھیں مزید جھک جاتیں، اور کنکھیوں سے انہیں دیکھتے یہ سوچتے، آخر ابا جی کو کیا ضرورت تھی مال روڈ پر تہبند باندھ کر آنے کی؟
یہ زمانہ پاکستان کی تہذیبی زندگی میں شائستگی اور جدیدیت کا زمانہ تھا۔ جس میں کشادگی بھی تھی اور وضع داری بھی ، جس کا رنگ ہر طبقۂ فکر کی سوچ پر دکھائی دیتا تھا۔ مری گرمائی دنوں کا وہ سیاحتی مقام تھا، جہاں ہر صاحب استطاعت نے یا تو کاٹج بنا رکھے تھے یا پھر وہ سیزن کے لیے وہاں تین ماہ کے لیے کسی نہ کسی حسین منزل میں قیام کی غرض سے میدانی علاقوں کی تپش اور لو سے بچنے کے لیے قیام کیا کرتے تھے۔
ایکسپریس ہائی وے پر مری کی جانب سفر کرتے ہوئے ہم ایک دوسرے سے پرانے دنوں کی مری کے قصے دہرا رہے تھے، میرے ہمراہ، بینا گوئندی، سلمیٰ اعوان، شائستہ نزہت اور عائشہ مسعود تھیں۔ ہم لوگ اسلام آباد کے نئے ایئر پورٹ پر چند گھنٹے پہلے، سکردو
جانے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ سکردو کا یہ سفر ادبی کانفرنس کی غرض سے تھا، جس کا انعقاد سکردو ضلعی انتظامیہ اور مقامی ادبی تنظیموں نے مل کر کیا تھا۔ اسلام آباد ایئر پورٹ پر ہمارے علاوہ، کراچی، لاہور، پنڈی اسلام آباد اور ملک کے دیگر علاقوں سے شاعر و ادیب جمع تھے، قصد سب کا سکردو کا تھا، مگر لمبے انتظار کے بعد فلائٹ کینسل ہو جانے کا اعلان ہوا تو سارے مایوس ہو کر اپنے اپنے گھروں کو لوٹے۔ ہم لوگوں نے بجائے واپس جانے کے، پرانے نوسٹلجیا کو آواز دے دی، کھڑے کھڑے مری جانے کا ہنگامی پروگرام بنایا، اور ایک بڑی جیپ میں لد کر مری روانہ ہوئے، ہر چند کہ ان دنوں مری بائیکاٹ مہم زوروں پر ہے، اور اس ضمن میں چند مخلص دوستوں کے مشورے بھی موصول ہوئے کہ وہاں مت جاؤ، سیاحوں کے ساتھ مقامی لوگوں کا رویہ پر تشدد ہو چکا ہے، ایسا نہ ہو تم لوگ بھی کسی ناخوشگوار واقعے سے دو چار ہو جاؤ۔ مگر ہم سبھی خواتین اس وقت ایسے کسی بھی مشورے کو سننے کے موڈ میں نہ تھیں، سو چل پڑیں۔۔۔ اور شروع ہو گیا یادوں کا وہ عجب سلسلہ، جن کا مرکز ملکۂ کوہسار مری تھی۔
وہ مری جو ہم سب کی یادوں میں آج بھی زندہ ہے، اس مری کو عرصہ ہوا اپنے خدوخال سے محروم ہوئے۔ مال روڈ جس پر پرانے دنوں میں انگریزی لباسوں والے سوٹڈ بوٹڈ صاحب لوگ دور سے اپنی سو فسٹیکیٹڈ (Sophisticated) موجودگی کا احساس دلا کر ہم جیسے دیہاتی پس منظر رکھنے والے خاندانوں کو شدید مرعوبیت کا شکار کر دیا کرتے تھے، عرصہ ہوا ان کا وجود غائب ہو گیا۔ مال روڈ پر تجاوزات کی بھرمار، ڈبہ ہوٹل، پٹھانوں کے سٹالز جن پر سستی اشیاء کی بھرمار دکھائی دیتی ہے۔ گداگر بچے اور ناقص اور غیر معیاری کھانوں کے چھوٹے سٹالز اور ریسٹورنٹ قبضہ جما چکے۔ لنٹاٹس کی خواب ناک فضا میں میزوں پر رکھے پیسٹری اٹینڈز اور ان کے سامنے رکھی seperate چائے کو زمانے کی بے مہری نگل گئی۔ Sam's ایک دیسی کھابے کے مرکز میں بدل کر اپنی رومینٹک فضا سے یکسر محروم ہو گیا اور سیسل ، برائٹ لینڈز کی بارہ دریوں کو امتداد زمانہ نے اپنی ہر خصوصیت سے محروم کر دیا، جس کے بعد مری کوڑے کرکٹ، تجاوزات اور گلی گلی کھلنے والے ہوٹلوں کی ایسی آماجگاہ بن گیا، جہاں تفریح کے لیے جانا بجائے خود کوفت کو آواز دیتاتھا۔ ٹریفک جیم، پارکنگ کے ناقص انتظامات اور سستے ہوٹلوں کے مہنگے داموں نے مری کو ایک ایسے لاوارث و یتیم، بچے میں بدل کر رکھ دیا، جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ میں نے چند برس پہلے ’’ مری گردش ایام کے آئینے میں ‘‘ کے عنوان سے چھے کالموں کی سیریز لکھی، جس میں مری کے مسائل اور ان کے حل کی تجاویز بھی شامل تھیں، مگر جیسا کہ اب ہمارے ہاں رواج پڑ چکا ہے، نہ تو متعلقہ محکمے اور نہ ہی انتظامیہ کوئی بھی کسی آواز پر کان نہیں دھرتا، چنانچہ وہ کالم بھی ہو ابرد ہو گئے۔ اس کے بعد جب بھی مری جانا ہوا، میں اس ماضی کے خوبصورت سیاحتی مقام کی بربادی پر کڑھتی رہی اور اس کے مسائل پر وقتاً فوقتاً لکھتی رہی کہ میرے اختیار میں اتنا ہی تھا۔ جو صاحب اختیار ہیں اور جنہوں نے اس خوبصورت سیاحتی مرکز کو بدصورت اور کریہہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، وہ کان لپیٹے بیٹھے رہے اور موجودہ وزیراعظم کے حلقے کا یہ سب سے اہم مقام، اپنی کسمپرسی اور بدصورتی میں یہاں تک پہنچ گیا کہ مری بائیکاٹ مہم جیسا نازک موڑ بھی اس کی تاریخ کا حصہ بن گیا۔ یہ بائیکاٹ مہم جو، ان دنوں زوروں پر ہے، اس کا اثر مری پہنچنے پر نظر آیا، مال روڈ پر ہو کا عالم، سڑکیں خالی، ہوٹل ویران، چند گداگر بچے اور مقامی لوگ یا پھر جمائیاں لیتے دکان دار، اس کے علاوہ ہر جانب خاموشی، جو مری کے بام و در پر سستا رہی تھی۔ ہم لوگ مال روڈ کی چہل قدمی کو نکلے، تو نگاہیں اس مقام کی تلاش میں دور دو ر بھٹکنے لگیں۔ جب چند دیہاتی بچے، تہبند پوش قافلۂ سالار کی وجہ سے شدید شرمندہ نظروں سے آس پاس دیکھتے تھے اور ان کی سانسوں میں مڈان فرانس کی خوشبوؤں کے لپٹے اترتے تھے، اور وہ دیسی لیڈیوں اور صاحب لوگوں کی ایڑیوں کی گونج میں دبے دبے قدم رکھتے، آگے بڑھتے تھے اور مری کے بوجھل نمکین بادلوں کے غلاف میں لپٹے حسین منزل کے گول کمرے میں جا کھڑے ہوتے تھے، جس کی شیشے کی کھڑکیوں پر دیواروں پر چیڑھ کے درختوں کے سائے لہراتے تھے اور مری کی فضاؤں کی کنواری خوشبو، حسین، منزل کو بڑھ کر اپنے حصار میں لے لیتی تھی۔ اس وقت موسم بھی مہربان تھے اور وقت بھی۔ انتظامیہ اتنی بے حس اور بے رحم نہ تھی کہ وہ مری کے خال و خد بگاڑنے پر مائل رہتی۔ مگر آج؟
مری بائیکاٹ مہم ہے اور ماضی کے اس خوبصورت مقام کی بدصورتی اور ویرانی ہے، جس پر بڑے بڑے سوالیہ نشان چسپاں ہیں۔ کیا اسے بگاڑنے والے، اس کا تہذیبی حسن اور مزاج تباہ کرنے والے ، کسی سوال کا جواب دینے کو آگے بڑھیں گے؟ ہمیں بتائیں گے، انہوں نے اس پر امن اور حسین سیاحتی مقام کو پرتشدد اور متعفن بنانے پر اتنا زور کیوں لگایا؟ یہ زور وہ اس کے خال و خد سنوارنے پر اگر صرف کرتے تو شاید آج اس صورت حال سے نہ مری کو گزرنا پڑتا نہ اس کے چاہنے والوں کو!!

مزیدخبریں