بوڑھا ہیرو۔۔۔
12 مئی 2018 2018-05-12

دوستو، ایک زمانہ تھا پاکستانی فلم انڈسٹری جوان تھی لیکن اس کے سارے ہیرو ’’بوڑھے‘‘ تھے، محمدعلی، سلطان راہی، مصطفی قریشی، اقبال حسن، ننھا، علی اعجاز، رنگیلا ایک طویل فہرست ہے، پڑوسی ملک کی فلم انڈسٹری جو دنیا میں سب سے بڑی فلم انڈسٹری مانی جاتی ہے، اس کے ہیروز تو تب بھی بوڑھے تھے اب بھی بوڑھے ہیں، اجے دیوگن، سلمان، شاہ رخ، عامرخان، اکشے کمار سب زندگی کی ففٹی بناچکے ہیں، لیکن ہمارا فیورٹ صرف ایک ہی ہیرو ہے، جو ہے تو بوڑھا لیکن اب بھی صرف ہیرو کے روپ میں ہی آتا ہے، حالانکہ اس کے ہم عصر تمام ہیروز یا تو دنیا چھوڑ گئے یاپھر انڈسٹری، جو بچے کھچے ہیں وہ بیچارے چھوٹے موٹے رولز کرکے گزربسر کررہے ہیں۔۔۔

رجنی کانت کے متعلق لاکھوں واقعات مشہور ہیں۔۔۔ اتفاق ہی ہے کہ رجنی کانت سے متعلق ساری باتیں ویسی ہی ہوتی ہیں جیسی ’’چولیں‘‘ ہم ہفتے میں تین بار مارتے ہیں اور آپ لوگ بھی دلچسپی سے اسے پڑھتے رہتے ہیں۔۔۔آج چونکہ اتوار ہے، چھٹی کا دن ہے ،اور چھٹی والا دن ہوتا ہی انجوائے منٹ کے لئے ہوتا ہے، اس لئے آج رجنی کانت سے متعلق کچھ’’ چولیں‘‘ سن لیں، اگر مزہ نہ آئے تو غصہ کرنے کی ضرورت نہیں دو روٹی زیادہ کھالیجئے گا اپنے خرچے پہ۔۔۔کہتے ہیں کہ رجنی دنیا کا واحد آدمی ہے جو میکڈونلڈ میں بھی بریانی اور نہاری کا آرڈر دے سکتا ہے۔۔۔رجنی نے ایک دفعہ ایک گھوڑے کو ٹھوڑی میں لات ماری تھی ، اب دنیا اسے ’’ زرافے ‘‘کے نام سے جانتی ہے۔۔۔کہاجاتا ہے کہ برمودا ٹرائی اینگل پہلے برمودا سکوائر ہوتا تھا لیکن پھر رجنی نے ایک روزغصے میں اس کے ایک کونے پہ لات ماردی بس سائنسدانوں کو پھر اس کا نام بدلنا پڑگیا۔۔۔

رجنی جب دوسری کلاس میں تھا تو تب وہ دسویں کے حساب کا پرچہ حل کرنے گیا ، جو پرچہ اس کو ملا اس پر ایک سو پچاس سوال درج تھے اور لکھا تھا کہ سو منٹ میں کوئی سے سو حل کریں ، رجنی نے پچاس منٹ میں ایک سو پچاس سوال حل کر کے آخر میں لکھا کہ، کوئی سے بھی سو چیک کرلو۔۔۔ ایک دفعہ رجنی کانت ’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ میں گیا، میزبان امیتابھ بچن نے کہا، کمپیوٹر جی رجنی جی سے پہلا ’’پرشن‘‘(سوال) پوچھیے، کمپیوٹر نے فوری جواب دیا، میں لائف لائن استعمال کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ رجنی کانت کی پسندیدہ کھیر ، لال مرچ کی میٹھی کھیر ہے۔۔۔لوگ اپنے فیس بک سٹیٹس ،آئی فون ، بلیک بیری ، آئی پیڈ وغیرہ سے اپ ڈیٹ کرتے ہیں،لیکن رجنی اپنا سٹیٹس ایک عام کیلکولیٹر سے اپ ڈیٹ کرتا ہے۔۔۔ انڈین ٹیم کے ورلڈ کپ بار بار ہارنے کے بعدسابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے اعلان کیا کہ اب سے ٹیم کے کوچ رجنی ہوں گے ، اگلی دفعہ ٹیم فیفا اور ہاکی کا کپ بھی جیت لائی۔۔۔ایک بار انہوں نے ایئرپورٹ فون کرکے پوچھا کہ ، نئی دہلی سے ممبئی تک جہاز کتنی دیر میں پہنچائے گا، انکوائری والوں نے جواب دیا، سر صرف ایک گھنٹے میں، رجنی نے جواب دیا، اس سے تیز تو میں ٹہلتا ہوا چلا جاؤں گا۔۔۔دنیا کا واحد انسان رجنی کانت ہی ہے جو ایک چٹکی سندور کی قیمت اچھی طرح جانتا ہے۔۔۔یہ عجیب و غریب اپنے فرسٹ ایڈ باکس سے کینسر، ٹی بی وغیرہ کا علاج آسانی سے کردیتا ہے۔۔۔اور یہی وہ انسان ہے جو آنکھیں کھول کر چھینک بھی سکتا ہے۔۔۔

کہتے ہیں کہ جو سیب نیوٹن پر گرا تھا،رجنی کانت نے ہی پھینکا تھا، بتایاجاتا ہے کہ نیوٹن بیری کے پیڑ کے نیچے بیٹھا تھا اور رجنی سیب کھانے درخت پر چڑھاہواتھا، جب اس نے دیکھا کہ نیوٹن کئی گھنٹے سے درخت کے نیچے بیٹھا ہے اور اٹھ کر نہیں دے رہا تو اس نے جیب میں رکھے درجنوں سیبوں میں سے ایک سیب نکال کر اس کے سرپر دے مارا،سیب لگتے ہی نیوٹن بھوت بھوت کا نعرہ مستانہ بلند کرکے بھاگ نکلا۔۔۔آئن سٹائن نے جو یہ کہا تھا کہ آپ روشنی کی رفتار سے سفر نہیں کر سکتے ، اس کی وجہ یہ ہی تھی کہ رجنی کانت نے کبھی اس کو لات نہیں ماری تھی۔۔۔لوگ کرسمس پر سانتا کلاز کی طرف سے تحفوں کا انتظار کرتے ہیں لیکن سانتا کلاز رجنی کی طرف سے تحفے کا انتظار کرتا ہے۔۔۔ایک دفعہ رجنی نے پان کھانے کے بعد ایک عمارت پر تھوک دیا ، آج لوگ اسے لال قلعہ کے نام سے جانتے ہیں۔۔۔رجنی نے ایک بار اپنے جوتے کا تسمہ باندھنے کے لئے ایک عمارت پر پاؤں رکھا ، آج وہ عمارت ایفل ٹاور کے نام سے دنیابھرمیں جانی جاتی ہے۔۔۔ایک دفعہ ، سپائیڈر مین ، بیٹ مین، اور سوپر مین اکٹھے ہو کر رجنی کو ملنے اس کے گھر گئے ، اور وہ استادوں کا عالمی دن تھا۔۔۔

ہمارے فیورٹ ہیرو کی باتیں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔۔۔ اگر آپ رجنی کے دشمنوں کی فہرست دیکھنا چاہتے ہیں تو ناپید مخلوقات کی فہرست دیکھ لیں۔۔۔کمپیوٹر وارننگ کا پیغام رجنی کو نہیں دیتا ، رجنی کمپیوٹر کو وارننگ کا پیغام دیتا ہے۔۔۔یہ دنیا کا واحد انسان ہے جو لینڈ لائن فون سے کسی بھی موبائل فون پر ایس ایم ایس بھیج سکتا ہے۔۔۔اپنے جوتوں کے تسمے اپنے پیروں کی انگلیوں سے باندھ سکتا ہے۔۔۔ دو برف کے ٹکڑوں کو رگڑنے سے آگ پیدا کر سکتا ہے۔۔۔ سنگترے کا جوس ایک کیلے سے نکال سکتا ہے۔۔۔’’پیاز‘‘ کو رُلا سکتا ہے۔۔۔کمپیوٹر میں موجود ری سائیکل بن کو ڈیلیٹ کرسکتا ہے۔۔۔رجنی ہی دنیا کا ایسا انسان ہے جو یہ جانتا ہے کہ مرغی پہلے آئی یا انڈا۔۔۔وہ یہ بھی جانتا ہے کہ چولی کے پیچھے کیا ہے؟؟۔۔۔ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھارت کو انیس سو سینتالیس میں اسی لیے چھوڑ دیا تھا کہ کسی نے ان کو خبر پہنچا دی تھی کہ رجنی انیس سو پچاس میں پیدا ہونے والا ہے۔۔۔ایک بار رجنی کانت نے 11 ویں منزل سے چھلانگ لگائی لیکن وہ زمین پر نہیں گرے۔ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ وہ رجنی کانت ہیں اور کشش ثقل کے قوانین ماننے کے پابند نہیں ہیں۔ سائنس دانوں نے جب پہلی بار موبائل فون ایجاد کیا اور اسے آن کیا تو سکرین پر لکھا تھا، ’’ 2 مسڈ کال فرام رجنی کانت‘‘۔۔۔

رجنی کانت شاید انڈیا کے واحد فلم سٹار ہیں جو پردے سے ہٹ کر اپنی’’'لْکس‘‘ یا امیج کی پروا نہیں کرتے۔ سر کے بال اڑ چکے ہیں تو کیا چھپانا؟ پیٹ اگر تھوڑا نکل بھی آیا تو کیا فکر ہے، عمر بھی تو 66 برس ہو گئی ہے۔ ۔۔۔کہتے ہیں رجنی کانت کی نبض ریکٹر سکیل پر ناپی جاتی ہے۔۔۔وہ اتنا تیز چلتے ہیں پرچھائیں پیچھے چھوٹ جاتی ہے۔۔۔رجنی کانت کے گھر میں میڈم تساد کا مجسمہ ہے۔۔۔دنیا کا واحد انسان ہے جو مسڈ کال پر بھی بات کرسکتا ہے۔۔۔ بحیرہ مردار کو سنا ہے رجنی کانت نے ہی مارا تھا۔۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔جیسے ہمیں لوگوں سے تکلیف پہنچتی ہے ایسے ہی لوگوں کو بھی ہم سے تکلیف پہنچتی ہے۔۔۔ہم فرشتے نہیں ہیں،اپنے رویے اور عمل کا احتساب کیا کریں ،لوگوں سے معافی مانگ لیا کریں۔۔۔ یقین کریں کافی حد تک زندگی آسان ہو جائے اگر ہم صرف خود کو بدل لیں۔۔۔


ای پیپر