درسگاہیں، میرے بچپن کی
12 مئی 2018 2018-05-12

ایک خبر نظروں سے گزری کہ صوبہ پنجاب کے باون ہزار سرکاری سکولوں میں سے دو ہزار میں بجلی نہیں، سات سو کی چار دیواری نہیں۔ انتالیس ہزار کے پاس لائبریری نہیں، پانچ ہزار میں نکاسی آب کا انتظام نہیں، آٹھ ہزار ہائی اور سیکنڈری سکولوں میں سے چار ہزار ایک سو نوے ہی میں لیبارٹریز ہیں، جس سے طلبا کو بے حد مشکلات کا سامنا ہے۔
مجھے یہ خبر پڑھتے ہوئے اپنا بچپن یاد آ گیا جب میں کمالیہ اور پیر محل کے درمیان واقع اپنے پہلے گاؤں دس چک میں رہتا تھا۔ اس گاؤں میں ایک ہی سکول تھا۔ اور وہ پرائمری تک تھا۔ لہٰذاگاؤں کے بچے وہیں سے ابتدائی تعلیم حاصل کرتے۔ میں نے بھی پانچ جماعتیں ادھر ہی پاس کیں۔
اس وقت بجلی کا کوئی تصور تک نہیں تھا۔ سکول کے تین کچے کمرے تھے اور تین ایکڑ ہی اس کا رقبہ تھا۔ ایک میں فٹبال اور کبڈی کھیلے جاتے۔ باقی کلاسوں کے لیے مختص تھے۔ سردیاں ہوں یا گرمیاں ہم لوگ پلاٹوں میں ہی بیٹھا کرتے۔ سردیوں میں اس جانب بیٹھ جاتے جہاں سورج کی کرنیں براہ راست ہم پر پڑ رہی ہوتیں۔ اور گرمیوں میں گھنے درختوں کے نیچے بیٹھا کرتے۔ زیادہ تر شیشم کے درخت تھے۔ اس زمانے میں ٹاٹ ہوتے تھے ۔ جنہیں جھاڑ پونچھ کر بچھایا جاتا اور پھر ان پر بستے رکھ لیے جاتے۔ یوں پڑھائی کا آغاز ہو جاتا۔ ماسٹر جی کی ایک کرسی ہوتی تھی اور اس کے ساتھ ایک چھڑی بھی۔ آج کی طرح کاپیاں وغیرہ نہیں ہوتی تھیں۔ بس ایک سلیٹ اور ایک تختی ہوتی۔ سارا کام ان پر ہی کیا جاتا تھا۔ چند کتابیں اور کچی پکی کے قاعدے ہوتے۔ کچھ روز پہلے میاں نواز شریف نے بھی ’’پکی فیل‘‘ کا ذکر اپنے ایک جلسے میں کیا۔ یہ وہی پکی تھی جو اصل میں کسی بچے کا دوسراقدم ہوتا تھا تعلیم کے میدان میں آگے بڑھتے ہوئے۔ کوئی چار دیواری نہیں سکول کی تھی۔ کسی کے سان گمان میں بھی نہیں تھا کہ آج کی طرح کوئی بچوں پر حملہ آور ہو گا۔ امن چین اور سکون تھا۔ اگرچہ لوگوں کا انحصار زیادہ تر کھیتی باڑی پر تھا مگر وہ خوشحال زندگی بسر کر رہے تھے۔ اب تو اخراجات نے دم نکال دیا ہے۔ بیماریاں ہی جان نہیں چھوڑ رہیں۔ کسی کو ذیابیطس، کسی کو بلند فشار خون، کسی کو جگر اور کسی کو دل کے امراض نے گھیرا ڈال رکھا ہے۔ دوائیں ہی غذا کی جگہ استعمال ہونے لگی ہیں۔ وہ بھی اتنی مہنگی اور پھر غیر معیاری ہوتی ہیں کہ کیا کہا جائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بچوں کے مسائل بھی اسی لیے پیدا ہوئے ہیں کہ وہ قوت مدافعت نہیں رکھتے۔ انہیں سردی گرمی کچھ زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔ ہماری ترقی نے ماحول کو آلودہ کر دیا ہے۔ پانی اورخوراک رگوں میں دوڑتے خون پر بری طرح سے اثر انداز ہو رہے ہیں۔ لہٰذا بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بہت سے لوازمات درکار ہیں۔
بہر حال گاؤں کے سکول میں بجلی، واش رومز، چاردیواری اور لائبریری نہیں ہوتے تھے۔ اس کے باوجود معیار تعلیم قابل رشک و تحسین تھا۔ اساتذہ بھی دل جمعی اور خلوص کے ساتھ پڑھاتے تھے۔ ٹیوشن کا نظام جو آج منظم انداز سے پھیل چکا ہے نہیں تھا۔ کوئی ایک دو طالب علموں کو جو ذراکمزور ہوتے انہیں پڑھانا بھی پڑتا تو اس کا قطعی معاوضہ طلب نہیں کیا جاتا تھا۔ اب تو منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیں۔ نتائج مطلوبہ تب بھی بر آمد نہیں ہوتے۔ یہاں میں یہ وضاحت کردوں کہ میرا ہر گز ماضی کے طرز تعلیم و تدریس بارے بتانا یہ مقصد نہیں کہ بچوں کو سہولیات نہیں حاصل ہونی چاہیے کہ ان کے بغیر بھی پڑھا اور پڑھایا جا سکتا ہے۔ انہیں ضرور نئے دور کے تقاضوں کے مطابق تمام ضروری اور بنیادی سہولیات دی جانی چاہیے۔ مگر اس کے ساتھ نصابی تبدیلیاں ازحد لازمی ہیں جنہوں نے ان کے ذہنوں کو منتشر کر کے رکھ دیا ہے۔ کتابوں کا اس قدر بوجھ کہ ان کی کمر دوہری ہو جائے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ دانستہ کیا جا رہا ہے تا کہ وہ رُک رُک کر پیش رفت کریں۔ کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ اگلی کلاسوں کے طلبا و طالبات کو دانستہ کم نمبر دیے جاتے ہیں یا پھر بہت سوں کو فیل کر دیا جاتا ہے۔ کیونکہ حکومتیں تعلیم پر اٹھنے والے اخراجات سے پریشان ہیں۔ صرف اس سے ہی نہیں انہیں پریشانی یہ بھی ہے کہ ڈگریاں حاصل کرنے والوں کو ملازمتیں کہاں سے دیں گی؟
ہاں تو بات ہو رہی تھی بچوں کی سہولتوں کی ، جب میں نے پرائمری پاس کر لی تو اب کہاں داخلہ لیا جائے۔۔۔ یہ سوال بڑا اہم تھا۔ لہٰذا والد مرحوم نے کوئی اڑھائی تین میل کے فاصلے پر موجود مڈل سکول (پانچ چک) میں داخل کرا دیا۔ سردیاں سخت ہوتیں، کہر جم رہی ہوتی جب ہم بچے لوگ سکول پہنچتے تو ہمارے ہاتھ سن ہو چکے ہوتے۔ اور اگر کبھی دیر ہو جاتی تو ماسٹر صاحب خوب ہماری ہتھیلیوں پر ڈنڈے مارتے۔ یقین مانیے سارا دن وہ سرخ رہتیں۔ اور درد ہوتا۔گرمیاں ہوتیں تو پسینے چھوٹ چھوٹ جا رہے ہوتے لو چلتی تو جھلسائے جاتی وہاں بھی ٹاٹ ہی تھے ڈیسک وغیرہ نہیں ہوتے تھے۔
لہٰذا گرمیوں میں درختوں کی چھاؤں میں اور سردیوں میں کھلے میدان میں دھوپ میں۔۔۔ آج تک وہ مناظر میری نگاہوں میں ہیں۔ ان کا اپنا ہی مزہ ہوتا تھا۔ پھر جب آدھی چھٹی ہو تی امی جان مرحومہ کے ہاتھوں کے پکائے دیسی گھی میں گندھے پراٹھے اور دیسی گھی ہی سے بنائے گئے انڈے جو ایک ’’پونے‘‘ میں بندھے ہوتے کھائے جاتے تو کیا مزہ دیتے لفظوں میں ان کا بیان نا ممکن ہے۔
اور جب پوری چھٹی ہوتی تو واپسی پر اچھلتے کودتے اپنے گاؤں کی حدود میں داخل ہو جاتے۔
شجر سایہ اور اس وقت دھوپ ہی تھے جو زندگی کی سانس بحال رکھے ہوئے تھے۔ گھر کا کام دن کے اجالے میں اور سکول کا رات کو، جو لالٹین یا پھر برنر کی روشنی میں کیا جاتا ۔ امتحان کے دنوں میں جب سکول سے فارغ کر دیا جاتا تو صبح و شام اپنی قریبی نہر کنارے جا کر خوب رٹا لگایا جاتا۔ اسی طرح جب میں نویں کلاس میں گیا تو بھی صورت حال ایسی ہی تھی۔ سکول پیر محل میں تھا لہٰذا بائیسکل پے یا پھر پیدل جایا جاتا۔
قارئین ! آپ حیران ہوں گے کہ سیکنڈری سکول چھے میل کے فاصلے پر تھا مگر ہنسی خوشی سفر کٹتا۔ کوئی پریشانی لاحق نہیں تھی۔ اور سچ یہ ہے کہ اس امر کا شعور ہی نہیں تھا کہ کوئی سہولتیں بھی ہوتی ہیں۔ لہٰذا وقت کسی غم و الم کے بغیر گزرتا گیا۔ مگر آج وہ سب ایک خواب لگتا ہے۔ یقین نہیں آ رہا کہ میں کسی ایسے دور میں رہ رہا تھا جس میں بچوں کو کیا بڑوں کو بھی آسانیاں میسر نہیں تھیں۔ اب بڑے کیا اور چھوٹے کیا۔۔۔ سبھی سہولتوں کے لیے واویلا کر رہے ہیں۔ اور یہ بڑی حد تک جائز ہے کیونکہ ان میں ’’ ساہ ست ‘‘ نہیں رہا۔ ان کے بچے بھی تو انا و مضبوط نہیں۔ یہ کہہ لیجیے کہ وہ کوئی ’’ واں برولا ‘‘ سائیکلون آئے تو اڑ جائیں۔ ٹھنڈی ہوا چلے تو بیمار پڑ جائیں۔ ایسی صورت میں جب سکولوں میں سہولتیں نہیں ہوں گی تو وہ کیا پڑھ لکھ سکیں گے۔ مگر عرض ہے کہ جہاں انہیں بجلی، پانی، نکاسئ آب اور چاردیواری کے مسائل در پیش ہیں تو وہاں انہیں نصاب کے مسئلے کا بھی سامنا ہے جسے تبدیل کیا جانا لازمی ہے۔
علاوہ ازیں انہیں بھاری بستوں اور بھاری تعلیمی اخراجات سے نجات دلانا بھی بہت ضروری ہے۔


ای پیپر