پراسرار عمارت میں آباد اپنوں کی منتظر مخلوق
12 مئی 2018

اگر آپ جیل روڈ کے پل سے مزنگ چونگی کی جانب مڑیں تو کوئی دو سو گز بعد بائیں جانب ایک بغلی سڑک آتی ہے۔ اس سڑک پر چلنا شروع کریں تو یہ آپ کو ایک بڑے مگر بوسیدہ گیٹ کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ اس گیٹ کے اندر سو سال سے بھی پرانی کئی خستہ حال عمارتیں ایستادہ ہیں۔ کچھ عمارتیں نسبتا نئی بھی ہیں مگر ان پر بھی بوسیدگی اور پژمردگی کے سائے نمایاں ہیں۔ قدیم و جدید ان عمارتوں کے اندر ایک دنیا آباد ہے۔ ایک جہاں بستا ہے۔ یہاں کے ہر مکین کی اپنی داستان ہے اپنی کہانی ہے۔یہاں ایسے بھی ہیں جنہیں آئے ہوئے نصف صدی ہو چکی ہے اور ایسے بھی ہیں جو چند گھنٹے پہلے یہاں آئے تھے لیکن نہیں معلوم کہ انہیں کتنے سال یا کتنی دہائیاں یہاں گزارنا پڑیں۔ یہاں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنا نام لکھ سکتے ہیں اور نہ اپنے نام آنے والی چٹھی پڑھ سکتے ہیں اور ایسے بھی ہیں جو کئی غیر ملکی زبانوں پر مکمل دسترس رکھتے ہیں۔ کچھ کا انگریزی ، عربی، فارسی اور اردو کا ذوق اتنا اعلیٰ ہے کہ آپ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ کچھ ایسے ہیں جو آپ کو جانگیے یا ٹراؤزر میں گھومتے ہوئے ملیں گے اور کچھ ایسے بھی ہیں جو کسی پرانے سے بوسیدہ تھری پیس سوٹ یا سفاری سوٹ میں ملبوس نظر آئیں گے اور یہ لباس زیب تن کرتے ہوئے انہیں موسم کی کوئی پروا نہیں ہو گی۔ وہ جون کے مہینے میں تھری پیس گرم سوٹ میں نظر آ سکتے ہیں اور دسمبر کے جاڑے میں ململ کا کرتا یا ہاف بازو کا سفاری سوٹ پہنے ہوئے مل سکتے ہیں۔ کچھ سخت گرمی کی تپتی دوپہر میں گرم ہائی نیک پہن کر بھی سردی کی شکایت کرتے ملیں گے اور کچھ ٹھٹھرتی سردی میں بھی موسم کے گرم ہونے کے شاکی ہوں گے۔ یہاں آپ کو نیوٹن کے استاد اور آئن سٹائن کو کان سے پکڑ کر کلاس سے نکالنے کے دعویدار بھی مل جائیں گے اور ہٹلر اور چرچل کے جنگی مشیر ہونے کے دعویدار بھی۔۔۔ ان میں سے کچھ اپنے آپ کو ارسطو کے ہم عصر اور کچھ سقراط کے اتالیق کہتے ملیں گے۔ سید علی ہجویری کے ساتھ دریائے راوی میں 40 دن کا چلہ کاٹنے والے اور سر سید احمد خان کے بھائی سید محمد خان کے رسالے سید الاخبار کے ایڈیٹر بھی آپ کو یہیں مل جائیں گے۔ اردوئے معلیٰ میں حسرت موہانی کی زبان اور شاعری کی اصلاح کے دعویدار اور مولانا ظفر علی خان کو فن خطابت میں طاق کرنے والے بھی آپ کو یہیں ملیں گے۔ ٹیپو سلطان کو شمشیر زنی سکھانے والے اور محترمہ فاطمہ جناح کو ایوب خان کے مقابلے میں صدارتی انتخاب لڑنے پر آمادہ کرنے کے دعویدار بھی آپ کو یہیں ملیں گے۔ یہاں آپ کو وہ صاحب بھی مل جائیں گے جن کا دعویٰ ہے کہ اُن کی برسوں کی محنت کا نچوڑ’’ترقی کا دس سالہ منصوبہ ‘‘اور 22 امیر ترین خاندانوں کی فلاسفی ڈاکٹر محبوب الحق اُن کے کاغذوں میں سے چوری کر کے لے گئے تھے جسے بعد میں انہوں نے اپنے نام سے جاری کر دیا۔ بھارتی وزیراعظم اندر ا گاندھی کی دادی کے ساتھ بچپن میں طویل رفاقت کی دعویدار کوئی خاتون بھی آپ کو یہیں مل جائے گی اور امریکی صدر ابراہام لنکن کو سیاسی چالیں سکھانے کے دعویدار بھی۔۔۔ اسرائیلی وزیراعظم گولڈ امیئر اور اردن کے شاہ حسین کی سوات کے کسی خفیہ مقام پر ملاقات کرانے اور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو واپس پاکستان لانے کے لیے ذوالفقار علی بھٹو کو مجبور کرنے کے دعویدار بھی آپ کو یہیں ملیں گے۔ یہاں ایسے بھی ہوں گے جو گھنٹوں بلکہ پہروں آنکھ جھپکائے بغیر کسی دیوار یا درخت کو تکتے رہتے ہیں اور ایسے بھی جو پہروں اپنے آپ سے باتیں کرتے ہیں۔ کچھ ہفتوں اپنی زبان سے ایک لفظ ادا نہیں کرتے اور کچھ ہرآنے جانے والے کو اپنی کتھا سنا رہے ہوتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو کسی کونے میں بیٹھے اللہ تعالیٰ سے پورے انہماک کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں اور ایسے بھی ہیں جو خود خدا ہونے کے دعویدار ہیں۔ کچھ کو صحابی ہونے کا یقین ہے اور کچھ ابو حنیفہ اور ابن تیمیہ کی رہنمائی کے دعویدار ہیں۔ ان میں سے بہت سوں کے پاس ہر بیماری کا علاج اور ہر مسئلے کا حل ہے۔۔۔یہ چٹکی بجا کر پاکستان کے تمام مسائل حل کر سکتے ہیں۔ اور لمحہ بھر میں ظالم حکمرانوں کو بھسم کر سکنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اتنے بڑے بڑے دعوے کرنے والے یہ لوگ کبھی کبھی بڑے غمگین ہو جاتے ہیں ۔ اداسی ان کے دل و دماغ پر چھا جاتی ہے۔ تب یہ اپنے دعووں سے دستبردار ہو کر خاموشی کی تصویر بن جاتے ہیں۔ کچھ کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور کچھ کے ضبط کے بند ٹوٹ کر آہوں اور سسکیوں میں ڈھل جاتے ہیں۔
تقریباً 110 سال قبل لاہور شہر کے ہنگاموں سے دورسے یہ دنیا آباد کی گئی تھی کہ ان افراد کو ذہنی سکون کی ضرورت ہوتی ہے مگر آج یہ چھوٹی سی دنیا قلب شہر میں آ گئی ہے۔ جیل روڈ اور ایف سی کالج کے درمیان نہر کے دائیں کنارے کئی ایکڑوں پر محیط اس بستی کے دائیں بائیں سے ہر روز سیکڑوں چمکتی گاڑیاں گزرتی ہیں۔ ہزاروں افراد اس قدیم عمارت کی اونچی بیرونی فصیل کو دیکھتے ہوئے اپنی منزلوں کی راہ لیتے ہیں۔ ان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے اپنے خونی رشتے ان اونچی دیواروں کے اندر ایک عرصے سے بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں یا یاسیت کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور ایسے بھی ہیں جنہیں براہ راست کبھی اس دنیا اور اس میں آباد مخلوق سے کوئی واسطہ نہیں پڑا لیکن بہت کم لوگوں کو اس چار دیواری کے اندر جانے کی توفیق ہوتی ہے۔ ایسے بھی ہزاروں لاکھوں ہیں جنہوں نے قریب سے گزرتے ہوئے کبھی یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کی کہ اس پر اسرار سی عمارت میں کونسی مخلوق آباد ہے۔ اور کس حال میں ہے۔ اس شہر کی ڈیڑھ کروڑ آبادی میں سے ایک فیصد بھی ایسے نہیں جنہوں نے کبھی اس دنیا کو دیکھنے اور اس کی مخلوق سے ملنے کی خواہش کی ہو۔ یہ تو شاید کبھی کسی نے سوچا بھی نہ ہو کہ اس مخلوق کی کچھ ذمہ داری ہم پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ان کے بھی کچھ حقوق ہیں جن کی ادائیگی ہمارے بھی ذمہ ہے۔انسانوں کے اس ہجوم میں ایسے بھی ہیں جو دہائیاں قبل اپنے کسی عزیز کو یہاں چھوڑ گئے تھے مگر اب سالہا سال سے یہ بھی معلوم کرنے نہیں آئے کہ اُن کا وہ پیارا زندہ بھی ہے یا نہیں۔ یہاں ایسے بھی ہیں جو کسی خاندانی تنازع یا جائیداد کے جھگڑے پر یہاں کے مکین بنائے گئے تھے اور ایسے بھی ہیں کہ اپنے خاندانوں میں واپس چلے جائیں تو نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔ مگر اب انہیں کوئی لے جانے کو تیار نہیں۔۔۔ یہ قابل رحم مخلوق جو ہر آنے جانے والے کو حسرت سے تکتی ہے، پیارکے دوبولوں اور محبت بھرے چند لمحوں کی متلاشی ہے ۔ شہر کے ہنگاموں اور بھاگتی دوڑتی زندگی میں سے ہم چند لمحے ان کے ساتھ گزار لیں تو ہمارایہ عمل جہاں اُن کی زندگی میں بہتری لا سکتا ہے وہیں ہماری زندگی کو بھی اطمینان اور سکون کی دولت عطا کر سکتا ہے۔ کاش اس شہر باکمال کے ڈیڑھ کروڑ لوگ کبھی اس پر بھی غور کریں ۔ اب تو چیف جسٹس آف پاکستان کے دورہ کے بعد اہل لاہوپرا یہ قرض زیادہ واجب ہو گیا ہے۔


ای پیپر