مسلم لیگ ن کے انتخابی منشور(2013ء)کا تنقیدی جائزہ
12 مئی 2018

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ’’کیوں تم وہ کہتے ہو جو خود نہیں کرتے ؟ اللہ کے نزدیک یہ بڑی ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو‘‘ موجودہ مسلم لیگ ن کی حکومت اپنی آئینی مد ت پوری کرنے جا رہی ہے۔ بس چند دنوں کی مہمان ہے۔ نگران حکومت کی تشکیل اور عام انتخابات کو یقینی اور شفاف بنانے کیلئے صلاح مشورے جاری ہیں۔ اس حکومت نے عوام کو پانچ برسوں میں کیا کچھ دیا اور کیا کچھ نہیں دے سکی۔ آج کے کالم کا یہ بنیادی موضوع ر ہے گا۔ انتخابی منشور کسی بھی جماعت کا ایک ایسا ایجنڈا ہوتا ہے جس کو عوام کے سامنے پیش کر کے حکومت بنانے کے بعدترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات سیاسی جماعتیں ایسی چیزیں بھی اپنے منشور کا حصہ بنا لیتی ہیں جن کو مکمل کرنا اگرچہ نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے۔ یہ صرف اس لئے کرتی ہیں تاکہ ان کا منشور پرکشش ہو اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کر سکیں۔
اگر ہم مسلم لیگ ن کے انتخابی منشور پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہو تا ہے کہ بہت سارے وعدے ایسے ہیں جن کی تکمیل تاحال نہیں ہو سکی۔ مسلم لیگ ن نے اپنے 2013ء کے انتخابی منشور میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ بر سر اقتدار آکر 30لاکھ سے زائد نوکریاں فراہم کرے گی۔ آج پانچ برس پورے کرنے پر ملک کے عوام حق بجانب ہیں کہ وہ سوا ل کریں کہ کہاں ہیں وہ تیس لاکھ نوکریاں جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ؟ جبکہ المیہ یہ ہے کہ پڑھے لکھے نوجوان تعلیمی اسناد اور مختلف ڈگریاں ہاتھوں میں لے کر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ روز گار کے مواقع ناپید ہو کر رہ گے ہیں۔ ہر سال آٹھ ہزار سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ بچے یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہو کر بیرون ملک کا رخ کر رہے ہیں اور حکومت نے اس حوالے سے بھی کوئی سنجیدگی کا مظاہر ہ نہیں کیا۔ مسلم لیگ ن نے اپنے منشور میں خارجہ پالیسی ، قومی سلامتی ، عسکریت پسندی،دہشت گردی کے ساتھ ساتھ تعلیم ،صحت اور اقلیتوں کے حقوق کی بھی بات کی تھی۔ ذرا
غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بری طرح ناکام ،قومی سلامتی کو شدید خطرات لاحق اور تعلیم صحت سمیت تمام اداروں کا بیڑا غرق ہو کر رہ گیا ہے۔ اقلیتوں کو بھی مسائل کا سامنا ہے۔ ن لیگ نے اپنے انتخابی منشور میں بہاولپور کی الگ صوبائی حیثیت بحال کرنے کے ساتھ ساتھ ہزارہ اور جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی بھی بات کی تھی۔ پانچ برس ہو گئے۔ بہاولپور کی صوبائی حیثیت بحال ہوئی نہ جنوبی پنجاب کے عوام کو الگ صوبہ ملا۔ ہزارہ کے لوگ بھی در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں قراردادیں بھی پاس ہو چکی ہیں۔ مگر جہاں جاگیرداروں ، سرمایہ داروں اور وڈیروں کا راج ہو ، انکی حکومت ہو وہاں غریب عوام کی شنوائی کیونکر ممکن ہو سکتی ہے۔ ؟اس بات میں کو ئی دو رائے نہیں کہ جس ملک میں انتظامی یونٹس جتنے زیادہ ہوں گے اس کی سلامتی کو خطرات اتنے ہی کم ہوں گے۔ آپس کا کو آرڈینیشن اتنا ہی مضبوط ہو گا۔
منشور میں کرپشن کے خاتمے کی بات کی گئی تھی۔ جبکہ خود مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کرپشن کے الزامات پر نا اہل ہو ر ہی ہے۔ کالے دھن کو سفید کرنے کی غرض سے حکومت کی جانب سے نئی نئی ایمنسٹی سکیمز لائی جا رہی ہیں۔ ملک میں اس وقت 12ارب یومیہ اور سالانہ 4320ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے۔ اس کی روک تھام کے لئے مسلم لیگ ن کی حکومت نے کوئی واضح حکمت عملی اختیار نہیں کی۔ مسلم لیگ ن نے عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے یہ نعرہ بلند کیا تھا کہ ’’ ہم بدلیں گے پاکستان‘‘اور دو سالوں میں توانائی بحران کے خاتمے کی بات کی تھی۔ بد قسمتی دیکھئے دیگر وعدوں کی طرح یہ وعدہ بھی محض ریت کی دیوار ثابت ہو ا۔ آج بھی شارٹ فال 5ہزارمیگاواٹ سے تجاوز کرجانے سے شہروں میں8تا 10 اور دیہات میں16گھنٹے تک کی غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کاسلسلہ جاری ہے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور شہر سمیت پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں مرمت کے نام پر بجلی گھنٹوں بند کردی جاتی ہے جس کی وجہ سے عوام الناس کوشدیدمشکلات کا سامنا کر پڑرہا ہے۔ پانی نایاب ہو گیا ہے اور بچے گھروں میں بلک رہے ہیں۔ مسلم لیگ ( ن )کی حکومت پانچ سال گزر جانے کے باوجود انرجی بحران پر قابو نہیں پاسکی۔ محض پل اور سڑکیں بنانے سے عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف حاصل نہیں ہوگا۔ میٹروبسیں اور سڑکوں کاجال بچھانا اچھی بات ہے مگربجلی وگیس کی سستی قیمت میں فراہمی کویقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہئے۔ طویل بجلی کی بندش کے باعث صنعتی یونٹس بند اور مزدوروں کے گھروں میں فاقوں تک کی نوبت پہنچ چکی ہے۔ ڈنگ ٹپاؤ اورکاغذی منصوبوں سے عوام کی تقدیر نہیں بدلی جاسکتی۔ عوام کو کسی قسم کاکوئی ریلیف میسر نہیں۔ توانائی بحران کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ کالاباغ ڈیم سمیت تمام چھوٹے بڑے آبی ذخائر فی الفور تعمیر کیے جائیں۔ کوئلے سے بھرپورانداز میں فائدہ اٹھاتے ہوئے بجلی پیداکی جاسکتی ہے مگر بدقسمتی سے حکمرانوں کی ترجیحات میں سستی بجلی پیداکرنے کے منصوبے شامل نہیں۔ پانچ برس ایسے منصوبوں پر عمل درآمد کیا جاتا رہا ہے جن سے بھاری کمیشن ملے۔ پاکستان اس وقت تک خوشحال اور ترقی
کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتاجب تک ملک سے لوڈشیڈنگ کامکمل طور پر خاتمہ نہیں ہوجاتا۔
مسلم لیگ ن کے انتخابی منشور میں مہنگائی کو قابو میں کرتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی بات کی گئی تھی۔ آج صورت حال کا جائزہ لیں تو بہت مختلف نظر آتی ہے۔ مہنگا ئی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ لوگوں کو دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہو چکا ہے۔ اب جبکہ رمضان کی آمد آمد ہے وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے اربوں روپے کے رمضان پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔ ہر سال حکمرانوں کی جانب سے عوام الناس کورمضان ریلیف پیکیج دیاجاتا ہے مگر بدقسمتی سے بیوروکریسی کی طرف سے اس پر من وعن عمل درآمد نہیں کیا جاتا جس کے نتیجے میں بہت کم فائدہ لوگوں تک پہنچتا ہے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف اپنے اعلان کردہ پیکیج اور عوام کے درمیان حائل ہونے والی رکاوٹیں ختم کریں۔ ابھی رمضان شروع ہوانہیں کہ اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ ہوچکا ہے۔ ناجائز منافع خور ذخیرہ اندوزاور کمیشن مافیاسرگرم ہوچکے ہیں۔ ساری دنیا میں مذہبی تہواروں پر حکومتیں خصوصی اقدامات کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ریلیف عوام کوپہنچانے کی کوشش کرتی ہیں مگر ہمارے ہاں حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اچھے اقدامات کے اثرات بھی عوام تک نہیں پہنچ پاتے۔ ملک میں مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے۔ لوگوں کو دووقت کی باعزت روٹی بھی میسر نہیں۔ اشیاء ضروریہ پر سبسڈیز دینا مستقل حل نہیں ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں عملاً غیر فعال ہوچکی ہیں۔ سستے بازاروں میں ناقص اشیاء کی بھرمار ہے۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے اپنے بیان کر دہ انتخابی منشور پر پچاس فیصد بھی کام نہیں کیا۔ عوام کی حالت زار آج بھی وہی ہے جو 2013ء میں تھی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ’’کیوں تم وہ کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟ اللہ کے نزدیک یہ بڑی ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو‘‘۔


ای پیپر