گٹھ جوڑ کی سیاست اور عوام!
12 مئی 2018 2018-05-12



ملک میں عام انتخابات ابھی چند ماہ کی مسافت پر ہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے باقاعدہ الیکشن شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا۔لیکن چونکہ حکومت کی آئینی مدت پورا ہونے میں ایک ماہ رہ چکا ہے۔عام انتخابات کے حوالے سے سیاسی حالات کی اتھل پتھل کے پیش نظر ملک میں موجود متحرک سیاسی پارٹیاں انتخابی میدان میں اتر چکی ہیں۔مسلم لیگ ن نے ملک بھرمیں جلسوں کے نئے شیڈول کا اعلان کر تے ہی اس پر عملدرآمد بھی شروع کر دیا۔عمران خان نے آئندہ انتخابات کو مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہونے والے مقابلے کو ’’ ٹو ہارس ریس‘‘ کہا ہے۔بظاہر پنجاب میں اصل مقابلہ ن لیگ اور پی ٹی آئی میں ہو گا ۔ ن لیگ کا المیہ یہ ہے ۔کہ ن لیگ پارٹی قائدین کے ستارے موافق حالات کی فی الحال مستقبل قریب میں نشاندہی کرتے نظر نہیں آرہے اور ان حالات میں اپنا توازن قائم رکھ کر انتخابات کے میدان میں اترنامسلم لیگ ن کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔دوسری طرف سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ نواز شریف کے بیانیے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے اور ان کی اس پریس کانفرنس سے یہ اخذ کرنا بھی دشوار نہیں کہ اب ن لیگ تین دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ن لیگ کے بطن سے یہ لیگ اب کون کون سے حروف تہجی میں اپنی بقاء تلاش کریگی آنے والے دن ضرور طے کریں گے۔ ن لیگ کی طاقت کے مرکز میں جب دراڑیں واضح ہوچکی ہیں تو یہ حالات اس بات کی دستک دے رہے ہیں کہ آئندہ اقتدار کے حواری امیدواروں کی ترجیح ن لیگ نہیں ہوگی۔وہ اس پارٹی کے در کے سوالی ہوں گے جہاں ان کی جھولی میں خیر ڈالی جائے گی۔ پاکستان کی مستقبل کی سیاست کا منظر نامہ ابھرتا صاف دکھائی دے رہا ہے۔تقریبانصف صدی کے بعد گٹھ جوڑ کی سیاست پر نواز، زرداری کی گرفت ڈھیلی پڑتی جا رہی ہے ۔ اور اقتدار کی مسند تک پہنچنے کیلئے دونوں پارٹیوں کیلئے
مشکلات بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔جز وقتی ایک دوسرے کو آنکھیں دکھانے اور عوام کو بیوقوف بنانے کا فارمولا اب نئے آنے والے الیکشن میں کارگر ثابت ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔انتخابات کی فضا کا درجہ حرارت بڑھتے ہی سیاستدانوں کے بییچ شکوے شکائتوں اور الزامات کی سیریل کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔نواز ، زرداری گٹھ جوڑ کے اصل محرکات بھی عوام پر آشکار ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ زرداری نے نوازشریف سے بھولے اور معصوم کا لقب چھین کر انہیں موقع پرست قرار دے دیااور کہا کہ نواز شریف نے میری نیک نیتی کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور مجھ سے اینٹ سے اینٹ بجانے کا بیان دلوا کر خود اسٹیبلشمنٹ سے اپنی راہیں استوار کر لیں۔ہم نے سویلین بالا دستی کیلئے ہاں میں ہاں ملائی اور نواز شریف نے ہمیں ہر جگہ بیچا ۔اب وہ پھنسے ہیں تو اپنے معاملات خود حل کریں ان سے ہاتھ نہیں ملائیں گے۔دوسری طرف نواز شریف نے بھی جوابی شکوۂ کرتے ہوئے فرما دیا کہ ہم نے پیپلز پارٹی کی حکومت کا حصہ بننے کیلئے مشرف کے مواخذے،ججوں کی بحالی،سترہویں ترمیم کے خاتمے کی شرائط رکھی تھیں۔وعدہ خلافی کس نے کی ، دھوکہ کس نے دیا، کس نے کہا کہ معاہدہ کوئی قرآنی آیات نہیں ہے۔وقت کا دھارا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرتا چلا جا رہا ہے۔ خواجہ آصف کا بیان ریکارڈ پر ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ امین فہیم سے جان چھڑانے اور بے نظیر کی جعلی وصیت کے معاملہ کو سلجھانے میں ہم نے آصف زرداری کا ساتھ دیا۔ان دونوں پارٹیوں کے قائدیں کے اقتداری اور ذاتی مفادات نے ملکی حالات اور سیاسی افق کی شفافیت کو گہنا کر رکھ دیا ہے۔یہ عوامی دعویدار وہ سیاسی قائدین ہیں جن کیلئے معاہدے کوئی توقیر نہیں رکھتے اورخلائی مخلوق کی باتیں کرنے والے ماضی کے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا وہ خود خلائی مخلوق کی نرسریوں میں پروان نہیں چڑھے۔ اور یہی وہ سیاست کے بازار کے بیوپاری ہیں جنہوں نے کرپشن ریکارڈ کو نئی جہتوں سے روشناس کروایا اور عوام کی سانسیں مسائل کی گرہ سے باندھ دیں۔جن کے رزق اور روزی کا ذریعہ جھوٹے نعرے، وعدے، وعید اور اعلانات ہیں۔اس کے باوجود یہ عوام کا دم بھر کر اس کے دوام سے اقتدار حاصل کرنے کی سعی کریں تو ایسے سیاسی چالباز سیاستدانوں کو جب تک عوام بیلٹ باکس کے ذریعے نشان عبرت نہیں بنائے گی اس وقت تک حقیقی تبدیلی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔باسٹھ ون ایف کے فیصلوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو ابھی بہت سے نا اہلوں کے سر کٹیں گے۔ اور جلد نواز شریف کا بیانیہ مجھے کیوں نکالا بستر مرگ کا شکار ہو جائیگا۔ اور ایک زرداری سب پر بھاری بہت جلد ہلکے ہونے والے ہیں۔یہ حالات اس بات کے غماز ہیں کہ ابتک جو بھی عوامی دوام سے کھیل کھیلا گیا وہ بس صرف اور صرف اپنے اقتدار اور مفادات کے تحفظ کیلئے کٹھ پتلی تماشہ تھا۔جس میں عوام کیلئے کچھ نہیں تھا۔جب بھی نئے الیکشن آتے ہیں تبھی یہ ایکدوسرے کے اقتدار اور مفادات کو سہارے دینے والے بیچ چوراہے عوامی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے ایکدوسرے کی عزتوں کو بے توقیر کرتے نظر آتے ہیں۔ایکدوسرے پر
الزامات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اور جونہی الیکشن کا بخار کا پارہ اقتدار کے حصول کے ساتھ معمول پر آتا ہے کل کے دشمن بھائی بھائی بن کر مل بانٹ کر مزے سے کھاتے ہیں۔پاکستان کی سیاست میں اگر پانچ دہائیوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ن لیگ اور پی پی پی ہمیشہ ایوان صدر،آرمی اور عدلیہ سے ملکر اپنے اقتدار اور مفادات کے تحفظ کیلئے ہی سازگار تبدیلی لاتے رہے ہیں۔بڑی افسوسناک صورت حال نے اس دھرتی کے باسیوں کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔اس گٹھ جوڑ کی سیاست نے ملک کے قومی اداروں کو تباہی کے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔بد قسمتی سے ملک میں کبھی منصفانہ الیکشن نہیں ہوئے انتخابات اگر فری اینڈ فےئر ہوں تو یہ قوموں کو پروان چڑھانے کیلئے بہت اچھا پراسیس ہوتے ہیں۔جہاں گٹھ جوڑ کی سیاست کا راج ہوگا وہاں پر کرپشن،الیکشن ہائی جیک ہونا،مہنگائی،لوڈشیڈنگ،غربت و بے روزگاری،دہشت گردی جیسے مہلک مسائل عوام کی کمر پر کوڑے کی صورت برستے رہتے ہیں۔ اور سیاسی پنڈت مایوس و نا امید عوام کو جھوٹے وعدے وعیدوں سے لوٹتے رہتے ہیں۔آزمائے ہوؤں کو آزماتے رہنا کہاں کی عقلمندی ہے۔اگر عوام پانچ دہائیوں سے مسلط کردہ اس گٹھ جوڑ کی سیاست کے حصار سے اپنے آپ کو آزاد کروانا چاہتے ہیں۔ اپنی نسل نو اور اس دھرتی کے مستقبل کو محفوظ ہاتھوں میں دیکھنے کی خواشمندہیں اور ملک کے وسائل کو ان ہنر مند سرٹیفائیڈ نقب زنوں سے بچانا چاہتے ہیں۔ پھرعوام کو اب سوچ سمجھ کر بیدار ضمیر کے ساتھ گھروں سے نکل کر بیلٹ باکس کے ذریعے اس جمودی نظام سے خلاصی حاصل کرنا ہوگی ۔کیونکہ پانچ سال کے بعد پاکستان میں عوام کو حکومتی کارکردگی کو ویٹو کرنے کا حق ووٹ کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔اگر نصف صدی کے حالات کے دھارے کا رخ بدلنے میں یہ عوام ناکام رہے۔تو پھر کہیں ایسا نہ ہو ووٹ کے تقدس کی گونج تو بلند ہوتی رہے لیکن ووٹر کا تقدس بے توقیر ہی رہے۔۔۔!!!


ای پیپر