کراچی میں گھنٹوں لوڈ شیڈنگ پر چیف جسٹس کا اہم اقدام
12 مئی 2018 (14:41) 2018-05-12

کراچی : سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کاکراچی میں کئی کئی گھنٹے بجلی غائب ہونے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کے الیکٹرک کو غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا حکم جبکہ کے الیکٹرک سے 20 مئی کو تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے ہیں کہ کیا نجکاری کا مطلب یہ ہے کہ کراچی کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیں؟‘ کراچی کے لوگ تباہ ہوگئے، کیا ان کو بجلی دینا آپ کا کام نہیں؟‘ رمضان شروع ہورہا ہے اس طرح تو پورا رمضان گزر جائیگا کراچی کے لوگ بلک جائیں گے‘آپ کو کس نے لوڈ شیڈنگ کی اجازت دی؟، یہ تو مجرمانہ غفلت ہے کیا آپ کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا حکم دے دیں؟‘ چیف جسٹس نے حیدر آباد میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر سربراہ حیسکو کی سخت سرزنش کر تے ہوئے کہا کہ لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہوئی تو آپ کے گھر پر 12 گھنٹے کیلئے بجلی بند کردیں گے، آپ کو گھر پر جنریٹر چلانے کی اجازت بھی نہیں دیں گے‘بجلی چوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے کئی کئی گھنٹے بجلی غائب ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کے الیکٹرک کو غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے کے الیکٹرک حکام پر شدید برہمی اظہار کیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ کیا نجکاری کا مطلب یہ ہے کہ کراچی کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیں؟، کراچی کے لوگ تباہ ہوگئے، کیا ان کو بجلی دینا آپ کا کام نہیں؟، رمضان شروع ہورہا ہے اس طرح تو پورا رمضان گزر جائے گا کراچی کے لوگ بلک جائیں گے۔کے الیکٹرک کے وکیل نے کہا کہ فالٹس کی وجہ سے مسائل آتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فالٹس کی صورت میں بیک اپ کیوں نہیں ہوتا؟۔ کے الیکٹرک کے سی ای او طیب ترین نے عدالت میں بتایا کہ کراچی میں طلب 3200 میگا واٹ ہے جبکہ کے الیکٹرک کی پیداوار 2650 میگا واٹ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو کس نے لوڈ شیڈنگ کی اجازت دی؟، یہ تو مجرمانہ غفلت ہے کیا آپ کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا حکم دے دیں؟۔ سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک کو لوڈ مینجمنٹ کے نام پر غیر ضروری لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کے الیکٹرک سے 20 مئی کو تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ اس موقع پر سربراہ حیسکو بھی عدالت میں پیش ہوئے۔


ای پیپر