بُراکریسی !
12 مئی 2018

شاہ محمود قریشی کے والد مخدوم سجاد حسین قریشی (مرحوم) نے ایک بار اپنی ”بیوروکریسی“ کو ”بُرا کریسی“ کہا تھا۔ اُس کے بعد لالے اجمل نیازی نے اِس لفظ کا اپنے کالموں اور تقریروں میں اتنا پرچار کیا لفظ ”بیوروکریسی“ باقاعدہ طورپر ”بُراکریسی“ میں ڈھل گیا۔ اب ہم لفظ ”بیوروکریسی“ استعمال کریں لوگ اِس کا مطلب پوچھتے ہیں اور ”بُرا کریسی“ کہیں سب کو پتہ ہوتا ہے یہ ”مخلوق“ کون سی ہے۔ برادرم رﺅف کلاسرا اِسے ”زکوٹا جن“ قرار دیتے ہیں۔ اُن سے گزارش ہے اِس مخلوق کو کوئی اور نام عطا فرمادیں، کیونکہ میرے خیال میں ”جن “ خود اس مخلوق سے خوفزدہ ہوتے ہوں گے۔ ان میں اکثر کا کردار اُن ”زنانیوں“ جیسا ہے جو بے پناہ میک اپ تھپ کر ایک شادی میں شریک تھیں۔ وہاں ایک ”جن“ آگیا، ساری ”زنانیاں“ خوفزدہ ہوکر بھاگ گئیں۔ اُس شادی میں ایک بزرگ بھی تھے۔ اُنہوں نے عورتوں سے کہا جلدی جلدی وضو کرکے درود شریف پڑھیں تاکہ جن بھاگ جائے۔ عورتیں وضو کرکے آئیں تو اُن کے صرف دُھلے ہوئے چہرے دیکھ کر ہی ”جن “ بھاگ گیا۔ عورتوں کو درود شریف پڑھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔ جس پر اکثر عورتوں نے شکر ادا کیا اُن کا درود شریف بچ گیا ....ایسے ہی ہماری ”بیوروکریسی“ میرا مطلب ہے کہ ہماری ”بُرا کریسی“ نے بھی ”میک اپ“ کیا ہوا ہے۔ اندر سے اکثر ”احد چیمے“ ہیں۔ میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا احمد چیمے کا قصور یہ نہیں ہے کہ اُس نے کرپشن کی، اُس کا اصل قصور یہ ہے وہ پکڑا کیوں گیا ؟۔ اُسے سزا کرپشن کی نہیں پکڑے جانے کی مِلنی چاہیے۔ بیوروکریسی عرف بُرا کریسی کے اکثر اجلاسوں اور میٹنگوں میں بھی یہ ڈسکس نہیں ہورہا کہ اُس نے کرپشن کیوں کی، بلکہ یہ ڈسکس ہورہا ہے وہ پکڑا کیسے گیا ؟۔ اپنی اپنی پسندیدہ حکومتوں کے جانے کے غم میں بُری طرح مبتلا بیوروکریسی عرف بُرا کریسی اِن دنوں کوئی کام نہیں کررہی، کوئی افسر ایسا نہیں جس کے دفتر میں فائلوں کے ڈھیر نہ ہوں۔ اگلے روز ہمارے ایک انتہائی باصلاحیت رپورٹر حسن رضا نے اِس حوالے سے بڑی فکر انگیز رپورٹ تیار کی، اُنہوں نے بڑی تفصیل سے بتایا” مشہورومعروف خود ساختہ ”شہباز سپیڈ“ کو ”بریک“ لگ گئی ہے “ .... بیوروکریسی آج کل صرف اپنا ”اصل کام“ کررہی ہے یعنی کہ کوئی کام نہیں کررہی، اِس وجہ سے بے شمار مسائل پیدا ہورہے ہیں، دوسرے صوبوں کا تو ہمیں پتہ نہیں پنجاب میں چیف سیکرٹری اور اُن کے ماتحت اکثر سیکرٹری ” ڈاک“ نکالنے کے عمل کو اِن دِنوں ”گناہ کبیرہ“ تصور کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کینسر کے ایک مریض کے لیے پانچ لاکھ روپے کی خصوصی گرانٹ منظور کرکے سمری پچھلے کئی دنوں سے چیف سیکرٹری کو واپس بھجوادی ہے جسے وہ دبا کر بیٹھے ہوئے ہیں، کوئی خدا کا خوف اُنہیں نہیں ہے، تنخواہیں، مراعات اور رقمیں وغیرہ پوری لے رہے ہیں، کام ”ٹکے“ کا نہیں کررہے، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، یہاں تک کہ وہ اِس یقین میں مبتلا ہیں روز قیامت اللہ بھی اُن سے نہیں پوچھے گا۔ ان دنوں اکثر افسران صرف ایک ہی فکر میں مبتلا ہیں کہ کرپٹ حکمرانوں کو جس جس قسم کی سہولیات اور مشورے وغیرہ وہ دیتے رہے ہیں جس کے نتیجے میں کرپٹ حکمرانوں نے بددیانتیوں کی انتہا کردی اور اُس کی آڑ میں اکثر بیوروکریٹس نے بھی بددیانتیوں کی انتہا کردی، تو اب جو ماحول بن رہاہے اُس میں وہ اپنی جان کیسے بچائیں اور جان سے بھی بڑھ کر عزیز ناجائز کمایا ہوا پیسہ کیسے بچائیں؟ا گلے روز ایک دوست مجھ سے کہہ رہا تھا فلاں بددیانت ترین افسر کو کسی چوک میں کھڑے کرکے اُس کا ایک ہاتھ کاٹ دیا جائے اور اُس سے کہا جائے ”دوسرا ہاتھ بچانا ہے تو لوٹی ہوئی ساری دولت واپس لے آﺅ ۔ وہ چند گھنٹوں میں ساری دولت واپس لے آئے گا “ ،....میں نے اپنے اِس بھولے بھالے دوست کی خدمت میں عرض کیا ”جتنے ہمارے اکثر افسران اور حکمران دولت کے پجاری ہیں وہ دوسرا ہاتھ بھی کٹوا لیں گے لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں لائیں گے“۔ ....یہ نہیں ہے کہ دھرتی صرف اچھے شاعروں، ادیبوں، دانشوروں، مصوروں، گلوکاروں، اداکاروں، علماﺅں اور اُستادوں سے ہی محروم ہوگئی ہے یا بانجھ ہوگئی ہے۔ کہ اب ہم کہاں یہ اُمید کرسکتے ہیں یہاں کوئی اقبال، فیض، منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد، بانوقدسیہ ، قدرت اللہ شہاب ،نورجہاں، نصرت فتح علی خان، مہدی حسن، ڈاکٹر نذیر احمد، مختار مسعود ایسے باکمال لوگ پیدا ہوں گے۔ اور ایسے افسر بھی اب پیدا نہیں ہوں گے جن پر ایک اُنگلی کوئی نہیں اُٹھا سکتا تھا۔ اب زیادہ تر ایسے افسران ہی پیدا ہورہے ہیں جن پر ہاتھ اُٹھایا جاسکتا ہے۔ مجھ سے کوئی پوچھے نہ پوچھے میں عرض کروں اِس ملک کی اصل تباہی کا باعث یہ بیوروکریٹس ہیں جو سیاستدانوں کو خود کرپشن کے راستے دِکھاتے ہیں تاکہ خود بھی اُس راستے پر وہ چلتے رہیں۔ اِن میں سے اکثر کا تعلق بڑے غریب گھرانوں سے ہوتا ہے، مگر جب اللہ اُن کی اوقات سے بہت بڑھ کر اُنہیں نواز دیتا ہے، وہ کسی اعلیٰ عہدے یا مقام پر پہنچ جاتے ہیں، اُن میں سے بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو اِس معاشرے سے غربت اور دوسری لعنتیں ختم کرنے کے لیے کوئی کردار ادا کریں، وہ سمجھتے ہیں اُن کی غربت افسر بننے کے فوراً بعد مٹنا شروع ہوگئی ہے تو اُنہیں کیا ضرورت ہے خواہ مخواہ معاشرے سے غربت اور جہالت مٹانے کی کوشش شروع کردیں، ویسے بھی اگر سارے لوگ ہی امیر کبیر ہو جائیں تو ان افسران کی ”انفرادیت“ کیسے قائم رہے گی ؟،....روایت یہ ہے جب بھی کسی منتخب حکومت کی مدت ختم ہوتی ہے نگران حکومت قائم ہونے کے بعد سارے بڑے افسران تبدیل کردیئے جاتے ہیں، اِس بار بھی یقیناً لسٹیں بن رہی ہوں گی یا بن چکی ہوں گی۔ حالانکہ اِس کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ اکثر افسران اپنے مزاج اور فطرت کو ہوا کے رُخ کے مطابق تبدیل کرلیتے ہیں، گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں کوئی اُن کا ثانی نہیں ہے ، سو نون لیگی افسران کو تبدیل نہ بھی کیا جائے، مجھے پکا یقین ہے نگران حکومت قائم ہونے کے فوراً بعد وہ نگران حکمرانوں کے مزاج کے مطابق خودکو ایسے ڈھال لیں گے نگران حکمرانوں کو یوں محسوس ہوگا وہ صرف اُنہی کے ”وفادار“ اور ”پالتو“ ہیں۔ بیوروکریسی عرف ”بُراکریسی“ سے زیادہ ”طوطا چشمی“ کا مظاہرہ شاید ہی اور کسی شعبہ سے وابستہ لوگ کرتے ہوں گے، ....بے شمار نون لیگی افسران میرے ”فیس بک فرینڈز“ میں شامل ہیں۔ میری کسی پوسٹ، کسی تصویر، کسی کالم پر ”لائیک“ یا کوئی ”کمینٹس “ کرنے سے وہ صرف اس لیے ڈرتے یا گھبراتے تھے کہ میرا عمران خان سے ذاتی تعلق ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے میں محسوس کررہا ہوں اب آہستہ آہستہ ”فیس بک“ پر لگائی ہوئی میری تصویروں اور کالموں پر اُن کے ایسے ”لائیک“ اور ”کمنٹس “ آنا شروع ہوگئے ہیں جیسے اُنہیں یقین آنا شروع ہوگیا ہو عمران خان کی حکومت آنے والی ہے۔ کل ایک مشہور نون لیگی افسر نے مجھ سے پوچھا ”آپ کے خیال میں پنجاب کا اگلا وزیراعلیٰ کون ہوگا ؟“۔ میں نے ایسے ہی منہ وغیرہ چُک کے علیم خان کا نام لے لیا۔ سنا ہے آج علیم خان کے گھر افسران کا تانتا بندھا رہا !


ای پیپر