جوتا، سیاہی، گولی
12 مئی 2018 2018-05-12

نارووال میں انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کے اسباب اور محرکات کا تو شاید آنے والے دنوں میں پتا چل بھی جائے گا۔ یہ معاملہ ایک 22 سالہ عابد حسین کے 15 گز کے فاصلے سے 30 بور کے فائر تک نہیں اور نہ ہی صدرِ مملکت، وزیراعظم، تینوں مسلح افواج کے سربراہوں، سیاسی اور قومی رہنماو¿ں کی مذمت سے دب جانے والا ہے۔ انتہاپسندی، لسانی اختلافات ہوں یا دہشت گردی پاکستان کی جمہوری تاریخ میں اسے واضح طور پر دیکھا گیا ہے۔ یہ عناصر عین الیکشن سے چند ماہ قبل اپنی کارستانیوں میں نقطہ عروج پر ہوتے ہیں۔ کہنے کو تو وزیرداخلہ پر حملہ آور شخص ا±ن کے ہی حلقے میں پرچون کی دکان پر کام کرتا تھا اور مبینہ طور پر اس کا تعلق بھی ایک مذہبی جماعت سے بتایا جارہا ہے۔ مگر اسے عام انتخابات کے موقع پر ملک میں پائے جانے والی عمومی سیاسی سرگرمیوں بلکہ مسلسل سیاسی جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدہ صور ت حال سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ 2013 ءکے انتخابات سے قبل کے حالات اگر یاد ہوں تو اس وقت بھی بعض عناصر قتل و غارت، توڑ پھوڑ اور ہنگاموں کے ذریعے ماحول خراب کرکے عام انتخابات کے عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے تھے۔ اور کوئی شک نہیں کہ پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کی انتخابی سرگرمیوں کو نہایت محدود کرنے میں کامیاب بھی ہوگئے تھے۔ اگرچہ اِس وقت عمومی حالات ایسے نہیں ہیں۔ مگر بنتے ہوئے دیر بھی کتنی لگتی ہے۔ حکومت، سیاسی پارٹیز، سول سوسائٹی اورسکیورٹی اداروں کو متفقہ لائحہ عمل بنانا ہوگا ،وہ بھی ا±ن اندرونی اور بیرونی طاقتوں کے خلاف جو سیاست میں تشدد اور عدم برداشت کے انگاروں کو ہوا دے رہے ہیں۔ ورنہ موجودہ حالات 2008ءاور 2013ءکے انتخابات کے کشیدہ ماحول کا ری جیسے ہی ہوں گے جس نے گزشتہ دو الیکشنز کو خانہ جنگی کی کیفیت سے دوچار کردیا تھا۔ اگر یاد ہو تو 2008ءکے الیکشنز میں پاکستان نے بینظیر بھٹو کی شہادت کا زخم اپنے سینے پر لیا ہوا تھا۔ پورے سندھ اور جی ٹی روڈ پر کوئی جگہ ایسی نہیں تھی جہاں توڑ پھوڑ اور جلاو¿ گھیراو¿ نہ دیکھا گیا ہو۔ بیرونی طاقتوں کا دباو¿، سرحدوں کی خلاف ورزیاں، اقوام متحدہ کی تفتیشی ٹیمیں، سکاٹ لینڈ یارڈ کے تفتیش کار.... ہر کوئی موجود تھا۔ لیکن الیکشن کے ماحول میں خوف کے منڈلاتے بادل سب کو یاد ہیں۔
پھر پیپلز پارٹی کے سیاسی وارثوں نے عوام کی جانب سے بی بی شہید کے قتل پر مذمت کے نام پر مسند سنبھالی اور پھر قوم نے دیکھا کہ 2008 ءسے 2013ءتک پاکستان پر خطرے کے سائے دراز سے دراز تر ہوتے چلے گئے۔ اقتدار کی منتقلی کا وقت آیا اور 2013ء کے الیکشن سے چند ماہ قبل ہی تحریک طالبان اور اس کی ذیلی شدت پسند جماعتیں حرکت میں آئیں اور ایک ساتھ صفِ اول کی تین سیاسی جماعتوں کو زبانی اور عملی طور پر نشانہ بنانے کا آغاز ہوگیا۔
پیپلز پارٹی 2013 ءکے عام انتخابات میں اپنی بدترین ناکامی کی سب سے بڑی وجہ اپنی کارکردگی اور منشور کی عدم بجا آوری کوقرار نہیں دیتی بلکہ ا±ن کا ماننا تھا کہ جس طرح مسلم لیگ نون اور پاکستان تحریک انصاف کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے یہ آزادی شدت پسندوں کی دھمکیوں کی شکل میں انہیں میسر نہیں ہے۔ لیکن پیپلزپارٹی کے مخالفین کی رائے مختلف تھی کہ میثاق جمہوریت کی نہ نظر آنے والی روشنائی میں یہ لکھا جاچکا ہے کہ پاکستان کی مسندِ حکومت میں 'ایک باری تیری اور ایک باری میری' کے فارمولے پر عمل ہورہا ہے اس لیے اگلی حکومت نون لیگ کی ہی ہوگی۔
اس مفروضے کو مان بھی لیا جائے تو عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم کی الیکشن کمپین ہمیں حجروں اور محلوں میں ہی کیوں نظر آئی۔ پیپلز پارٹی نے اپنی انتخابی سرگرمیاں صرف سندھ تک کیوں محدود کیں اور جو جلسے کیے بھی تو اس میں خطاب جاںنثارانِ بینظیر کی موجودگی اور بلٹ پروف سکرینز کے پیچھے سے ہی نظر آئے۔ عوامی نیشنل پارٹی 2008 ءسے 2013 ءتک ٍ1 ہزار افراد کی قربانی دے چکی تھی اور تو اور صوبائی وزیر بشیر احمد بلور اور میاں افتخار حسین کے اکلوتے صاحبزادے بھی شدت پسندوں کے ہاتھوں دنیا سے چلے گئے تھے۔ پھر عام انتخابات کا وقت آگیا۔ محض ایک ہفتے کے دوران اے این پی کے چار امیدواروں پر جان لیوا حملے کیے گئے۔ ان حملوں سے اے این پی کو سمجھ آگیا کہ انتخابی مہم ان کے لیے اتنی آسان نہیں ہوگی۔
دوسری جانب، تحریک طالبان پاکستان والے غیر ملکی خبر رساں اداروں کے ذریعے خبردار کررہے تھے کہ اے این پی کے جلسوں میں شرکت نہ ہی کریں تو بہتر ہوگا۔ ورنہ پاکستانیو کی جان کی حفاظت ہمارے ذمے نہیں ہوگی۔ ہوا بھی ایسے ہی۔ کئی قومی اور صوبائی نشستوں کے امیدواروں کو عین جلسوں کے دوران نشانہ بنایا گیا اور نتیجہ خیبر پختونخوا میں اے این پی کی شکست کی صورت میں سامنے آٰیا۔ طالبان ترجمان احسان اللہ احسان پہلے ہی اپنی تخریبی تحریک کی پالیسی کا اعلان کرچکے تھے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں تین جماعتیں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی ان کے نشانے پر ہوں گی۔ یہی وجہ تھی کہ ایم کیو ایم کو کراچی کے ناظم آباد، پیپلز چورنگی، برنس روڈ یا پھر حیدرآباد -- ہر طرف نشانہ بنایا گیا۔ پلانٹڈ ڈیوائس یا کریکر حملے معمول کی بات تھی۔ یوں ایم کیوایم نے بھی اپنی انتخابی سرگرمیاں محدود کرلیں لیکن ٹرن آو¿ٹ کی کمی کے باوجود کراچی اور حیدرآباد میں کامیاب ہوئے۔ یوں 2013 کے انتخابات 6 لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں انتخاب کم اور شورش کا سامان زیادہ لگ رہے تھے۔
سابق وزیراعظم پر جوتا اچھالنا، وزیرخارجہ پر سیاہی پھینکنا، وزیر داخلہ پر پہلے جوتا اور اب جان لیوا حملہ 2018 کے انتخابات کی سوغات نظر آرہے ہیں۔ عمران خان پر بھی جوتا درازی ہوچکی ہے۔ یہ منظر بھی لگتا ہے بگڑتے بگڑتے بگڑ رہا ہے۔ مگر وقت تقاضا کررہا ہے کہ ریاستی ادارے مل بیٹھ کر جنونی عناصر کا راستہ روکیں۔ سیاست میں بھی معیار، اقدار اور تدبر کی نمایاں تبدیلی آنی چاہیے۔ اس اَمر کو یقینی بنانا ہوگا کہ انتہا پسندوں کےلیے پورا ملک نو گو ایریا ہے۔


ای پیپر